شریف آدمی کی مشکل
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 18 / جون / 2015
- 7382
تو یہ سارا ہنگامہ اپنی اپنی چوری چھپانے کا ہے
یہ تم سے کس نے کہا۔ اس میں چوری کی تو بات نہیں ہے۔ اختیار اور اصول کا معاملہ ہے۔
اچھا تو پھر اتنا دھوم دھڑکا کیوں ہے۔ سب ایک دوسرے کو رگیدنے پر لگے ہوئے ہیں۔ حد ہو گئی۔
جب کوئی تمہارے گھر میں تمہارے اختیار کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا تو تم کیا کرو گے؟ چلاّﺅ گے کہ نہیں
پتہ نہیں جناب میں کیا کروں گا۔ میرے ساتھ تو اس حوالے سے ہاتھ ہو چکا ہے۔ میرا چھوٹا بہت شیطان ہے۔ وہ دوسرے محلے سے سائیکل اٹھا لایا اور کہنے لگا کی میرے دوست نے دی ہے۔ میں بھی خوش ہو گیا۔
پھر کیا ہؤا؟
اگلے روز کچھ لوگ پوچھتے پاچھتے میرے دروازے پر آ پہنچے۔ کہنے لگے تمہارے گھر میں چوری کا سائیکل ہے۔ میں نے بہتیرا دہائی دی کہ عزت دار آدمی ہوں۔ میں کیوں سائیکل چراﺅں گا۔ ہاں یہ میں نے ضرور کیا کہ کل جو سائیکل چھوٹا لایا تھا، اس کا ذکر گول کر دیا۔ میں نے سوچا اب اس کے بارے میں بتاؤں گا تو جھمیلا بڑھے گا۔
تب تو وہ چلے گئے مگر دو روز بعد پھر آ دھمکے۔ ساتھ میں یہ دو مشٹنڈے تھے۔ بولے سائیکل دو!
اب کیا بولتا۔ سائیکل کیسے دیتا۔
ان بے شرموں کو دیکھو، مجھے دھکا دیا اور سیدھے میرے گھر میں گھس گئے۔ وہاں بیچارے چھوٹے کی سائیکل کو دیکھ کر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے کے مصداق مجھے ہی چور بنا ڈالا۔ کہنے لگے چوری کا سامان جمع کرتے ہو۔ نجانے تمہارے گھر میں اور کس کس کا کیا کیا پڑا ہو گا۔
میں نے بہتیرا دہائی دی۔ چیخا چلایا کہ میاں پہلے تو یہ میرے گھر میں گھس آئے ہو۔ کوئی قاعدہ قانون ہے کہ نہیں، پر وہ کہاں سنتے تھے۔ سائیکل بھی لے گئے اور پورے محلے کے سامنے میری پھٹکار ہوئی سو الگ ........
چلو جان تو بچی۔ تم سے کس نے کہا تھا کہ بچوں کو اتنی آزادی دو کہ وہ چیزیں چرا کر گھر میں لے آئیں۔ پوچھنا چاہئے تھا نا!
لو اب تم بھی میری جان کو آنے لگے۔ بھائی یہ تو دیکھو کہ انہوں نے چار دیواری کی خلاف ورزی کی تھی۔ وہ میرا گھر تھا۔ میں دروازے پر کھڑا تھا۔ ان مشٹنڈوں کا اس بات سے کیا لینا دینا کہ میرے گھر میں کیا ہے۔ اب تم بھی ان کی طرف داری کرتے ہو۔ یہ بھی کوئی انسانیت ہے۔
نہ میرے بھائی اس پر برا کیوں مان گئے۔ میں نے کوئی بری بات تو نہیں کی۔ جو بھی سنے گا یہی کہے گا۔ چوری کا مال گھر میں رکھو گے تو بے عزت تو ہو گے ہی ........
نہ میں نے کب کہا کہ سائیکل چوری کا تھا۔ وہ تو میرا چھوٹا ساتھ والی گلی سے اٹھا لایا تھا۔ لاوارث پڑا تھا وہاں۔ اس نے سوچا کہ میں نہ لے جاﺅں گا تو کوئی دوسرا اڑا لے جائے گا۔
تو یہ چوری نہیں۔ تم اس طرح اٹھائی ہوئی چیزوں پر اپنا حق جتاﺅ گے کیا۔
لو اب یہ حق جتانے کی بھی ایک ہی کہی تم نے۔ میں کہاں جتا رہا ہوں حق۔ بھائی ہو گا کسی کا۔ میرے چھوٹے نے تو اسے حفاظت سے لا کر رکھا ہی تھا۔
تو پھر ٹھیک ہے نا جن کا تھا لے گئے
نہ بھئی یہ بات درست نہیں ہے۔ مجھے کیا پتہ کہ وہی اس سائیکل کے مالک تھے۔ وہ تو دھکا دے کر میرے گھر میں گھس گئے۔ مجھ کمزور کو لتاڑا بھی اور سائیکل بھی لے کر چلتے بنے۔
اب تم ہو کہ مجھے ہی قصور وار کہہ رہے ہو۔ اچھے دوست ہو۔ واہ جی واہ
حضرت بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ آپ کو تو شروع میں ہی بتا دینا چاہئے تھا کہ آپ کے گھر میں گمشدہ سائیکل دھرا ہے۔ پہچان کروا دیتے۔ اگر ان کا ہوتا تو لے جاتے۔
نہ وہ کوئی محلے کے داروغہ تھے۔ بھئی میں ہر ایرے غیرے کو اپنے گھر کی باتیں کیوں بتاتا پھروں۔ یہ تو تم کو دوستی کے ناطے سارا احوال بیان کر دیا۔ اب تم ہو کہ ہم ہی کو چور کہتے ہو۔
مگر غلطی تو آپ کی ہے نا؟
میری غلطی کیسی میاں۔ میرا گھر۔ میرا دالان ، اب جو اچکا چاہے گا میرے گھر میں گھس آئے گا اور تم اس کی حمایت کرو گے! نہ میاں نہ میں تو باز آیا ایسی دوستی سے۔ اس سے تو دشمن ہی بھلے۔ پتہ تو ہوتا ہے کہ یہ بندہ موقع ملنے پر کاٹ لے گا۔ تم ہو کہ میرے دوست بھی بنتے ہو اور مجھی کو چور بنا رہے ہو۔
بھئی اس میں غصہ ہونے کی تو بات نہیں ہے۔ ان لوگوں کو پتہ چل گیا ہو گا کہ ان کا سائیکل تمہارے گھر میں ہے۔ تب ہی تو انہوں نے زور زبردستی کی۔
لو اب سائیکل بھی ان کا ہو گیا اور وہ جو غنڈہ گردی ہوئی میرے ساتھ وہ بھی جائز ہو گئی۔ میاں میں ہاتھ جوڑتا ہوں۔ میری جان چھوڑو۔
میں تو چلا ہی جاﺅں گا۔ مگر آپ بات کو سمجھتے کیوں نہیں کہ غلطی تو آپ کے صاحبزادے کی تھی۔
اس نے کیا غلط کیا۔ کیا وہ کہہ کر آیا تھا کہ سائیکل گلی میں لاوارث چھوڑ جانا اور پھر ہمارے گھر میں گھس آنا۔ واہ جی واہ کیا دلیلیں دیتے ہیں۔ کوئی اصول کی بات نہیں کرتا۔
مگر جب آپ کا بیٹا لاوارث سائیکل لایا تھا تو پوچھ تاچھ تو کر لیتے۔ یوں ہی پرایا مال گھر میں سمیٹ لیا۔
لو اب وہ ٹوٹی ہوئی سائیکل ”مال“ بھی ہو گیا۔ نہ صاحب آپ سے منہ ماری نہیں کرتا میں۔
پر سچ تو یہی ہے نا کہ آپ نے خاموشی سے کسی دوسرے کی سائیکل گھر میں چھپا لی۔ نہ بیٹے کو ٹوکا اور نہ پولیس کو اطلاع دی
نہ میاں ہم پولیس تھانے کے چکر میں نہیں پڑتے۔ شریف لوگ ہیں ہم۔
اگر تم اس کی رپورٹ کر دیتے تو ان لوگوں کو بھی تمہارے گھر میں گھسنے کی ہمت نہ ہوتی۔
لو اب ذرا سی بات پر ہم تھانے کچہری تک ہو آتے۔
بس بھائی بس۔ سچ تو یہ ہے کہ اب انصاف کی بات کوئی نہیں کرتا۔ سب زور آور کا ساتھ دیتے ہیں۔
وہ ہمارے گھر میں گھسے ، ہمیں دھکے دئیے اور اب تم ان کے وکیل بن کر ہم سے الجھ رہے ہو۔
نہ اس میں الجھنے کی تو بات نہیں۔ میں تو یہ ............
بس رہنے دو۔ تم کچھ نہ کہو
خوب زور زبردستی ہے
وہ گھر میں گھستے ہیں
یہ ان کی وکالت کرتے ہیں
شریف آدمی کہاں جائے۔