غدار کی تلاش

فیصلہ ہؤا کہ ملک دشمنی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جو لوگ اس وطن کے خلاف سوچتے، بولتے اور کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کا راستہ روکا جائے گا۔

” یہ تو ٹھیک ہے مگر یہ طے کیسے ہو گا کہ ملک دشمنی کس چڑیا کا نام ہے“۔

کمرے کی آخری قطار میں بیٹھے ہوئے ایک ہونق سے آدمی نے سوال اٹھایا۔

صدر مجلس ابھی اس کا جواب دینے کے لئے دائیں بائیں ہی دیکھ رہے تھے کہ وہ شخص اپنی نشست سے کھڑا ہو گیا اور زور سے چلاّنے کے انداز میں بولا لیکن وہ چلاّ نہیں رہا تھا۔

اس نے کہا : میں کہتا ہوں تم سب ملک دشمن ہو۔ تو فیصلہ ہو گیا کہ ہم سب کو تم سب سے نجات حاصل کرنی ہے۔

” تم یہ کیا بکواس کر رہے ہو“ ایک جوشیلا نوجوان کھڑا ہوگیا۔

دوسرا اس مجہول کمزور سے شخص کی طرف لپکا۔ مگر وہ شخص “ تم سب ملک دشمن ہو “  کا ورد کرتا ہؤا اس وقت تک ہال سے باہر جا چکا تھا۔

نوجوانوں کے ایک گروہ کا دل چاہا کہ وہ بھاگ کر اس بدزبان کا پیچھا کریں اور اسے اس کی بدکلامی کا سبق سکھائیں۔ مگر صاحب مجلس نے پرجوش نوجوانوں کو غصہ تھوکنے کا مشورہ دیتے ہوئے واپس اپنی نشستوں پر بیٹھنے کے لئے کہا۔

اسٹیج پر بیٹھے ایک معتبر شخص نے مائیک سنبھالا اور صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے گویا ہؤا:

” آپ لوگوں نے دیکھا کہ ہم کس قدر مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ دشمن پہلے سے بہت زیادہ توانا ہو چکا ہے۔ اب وہ ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اپنے ایجنٹ ہمارے اندر تک بھیجنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ آپ نے ابھی دیکھا کہ کیسے دشمن کے ایک ایجنٹ نے ہم سب کو ملک کا دشمن قرار دیا اور خود یہاں سے فرار ہو گیا۔ اس حرکت پر جوش میں آنے یا مار پیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ سے اپنی صفوں میں گھسے ہوئے غداروں کو تلاش کر کے ان کا صفایا کرنا ہو گا۔ “

تالیاں

ابھی تالیاں پوری طرح تھمی بھی نہ تھیں کہ صاف ستھرے لباس میں ملبوس ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر کہا کہ آپ کی بات درست ہے مگر یہ دیوانہ جو کہہ گیا ہے اس پر چاہے آپ وقت برباد نہ کریں مگر سوال تو اس کا ٹھیک تھا کہ یہ طے کیسے ہو گا کہ ملک دشمن کون ہے۔ اور کس کو کس بات یا حرکت پر غدّار قرار دے کر اپنی صفوں سے نکالا جائے گا۔

یہ نوجوان اشرافیہ سے تعلق رکھتا تھا لہٰذا اس کی بات پر اتنا سنگین ردعمل سامنے نہیں آیا۔

البتہ ہال میں سناٹا چھا گیا۔

پھر صدر مجلس نے اپنی عمر کا سارا تجربہ بروئے کار لاتے ہوئے چہرے پر ایک جعلی مسکراہٹ سجائی اور نہایت انکساری اور محبت سے نوجوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

دیکھو بیٹا ہم اسی لئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔ جب ہم آپس میں متفق اور متحد ہوں گے تو دشمن از خود کمزور اور بے بس ہو جائے گا۔ اب جو بھی اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کرے گا، وہی اس قوم و ملک کا دشمن ہو گا۔

میں حاضرین کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہم اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اب یہ بے حد ضروری ہے کہ قومی یکجہتی کے لئے کام کیا جائے۔ مرد و زن ، بوڑھے اور جوان مل کر کوشش کریں کہ ان عناصر کا سراغ لگایا جائے جو اس ملک کی سرحدوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ جو دشمن کے ساتھ مل کر ہماری خود مختاری ختم کرنا چاہتے ہیں۔ جو اختلاف اور تضاد پیدا کر کے لوگوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔

صاحب مجلس کا جوش سے بلند ہوتا ہاتھ ابھی فضا میں ہی تھا کہ دس بارہ لوگوں کا ایک گروہ اچانک ہال میں داخل ہؤا۔ ان میں سب سے آگے وہی ” ہونق “ شخص تھا۔ وہ سارے مفلوک الحال لگتے تھے۔ کسی کی قمیص پھٹی ہوئی تھی کسی کے پاﺅں میں جوتا نہیں تھا۔ اس لیڈر نما بدحواس کے پیچھے دو افراد نے ایک بینر اٹھایا ہؤا تھا۔

یہ سب کچھ اتنی تیزی سے رونما ہو رہا تھا کہ کسی کو ردعمل دکھانے یا ان لوگوں کو روکنے کا موقع نہیں ملا۔
وقت کے اسی ساکت لمحے میں یہ لوگ جوش سے چلتے ہوئے اسٹیج کے اوپر پہنچ گئے۔ اب سب اس بینر پر لکھی عبارت کو پڑھ سکتے تھے۔

” ہم بھوکے ہیں۔ ہم سب ملک دشمن ہیں۔۔ ہمیں ختم کر دو“

سکوت ٹوٹا تو صاحب مجلس کو اپنی پیشانی پر پسینے کے قطرے صاف کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ساتھ ہی اس جہاندیدہ ، سرد و گرمِ زمانہ چشیدہ صاحب مجلس نے بھانپ لیا کہ اب ڈانٹ ڈپٹ یا مار پیٹ سے معاملہ طے نہیں ہو گا بلکہ معاملہ فہمی سے کام لینا پڑے گا۔

وہ نہایت محبت سے اس گروہ کے ہونق صورت لیڈر نما شخص کی طرف بڑھا۔ شفقت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: بھئی ہم آپ کو ملک دشمن نہیں کہتے۔ ہم تو اس ملک کی حفاظت کی بات کر رہے ہیں جو آپ کا بھی ملک ہے۔ میری آپ سے یہ درخواست ہے کہ اس حوالے سے آپ اپنا نقطہ نظر بیان کریں۔ بھلا ہم سب بھوکوں کو ملک دشمن کیوں کہیں گے!

لیجئے یہاں مائیک پر آ جائیے اور بتائیے کہ ہم سب کو دشمنوں کو کیسے تلاش کرنا چاہئے۔ مگر خیال رہے آج کا موضوع غدّاری اور غدّار ہیں کیونکہ ان سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔ آج غربت ، افلاس یا بھوک پر بات نہیں ہو گی۔ یہ بھی سارے اہم مسئلے ہیں۔ مگر یہ ملک رہے گا، اتحاد ہو گا، غدّار پکڑے جائیں گے تب ہی تو دوسرے مسئلے حل ہو سکیں گے۔

تالیاں

اس شخص نے صاحبِ مجلس کی پیشکش قبول کی۔ مائیک ہاتھ میں پکڑا اور کہنے لگا:

آپ نے اچھا کیا کہ واضح کر دیا کہ آج صرف ملک دشمنوں کی بات ہو گی۔ تو میرا سوال اب بھی وہی ہے کہ یہ طے کیسے ہو گا کہ کون ملک دشمن ہے۔ بات آپ کرنے نہیں دیتے۔ اختلاف کرنے والے کو آپ پتھر مارتے ہیں۔ جو سوال کرے اسے غدّار کہتے ہیں۔ بھوک تہمت بن چکی ہے۔ پھر دشمنوں کو آواز دینے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا ہم ہی ایک دوسرے کے دشمن نہیں۔

دشمن بھی اس سے برا کیا چاہے گا؟

صاحب مجلس گڑبڑا گیا۔ مگر گرگ باراں دیدہ تھا۔ جھٹ بولا: تو آپ ہی زحمت کیجئے۔ ہماری رہنمائی کریں کہ ملک دشمن کیسے تلاش کئے جائیں۔

اس شخص نے گلا صاف کیا اور کراری آواز میں بولا:

ٹھیک ہے۔ یوں تو اس کا طریقہ بہت آسان ہے۔ میں کچھ صفات کے حامل لوگوں کے نام لوں گا۔ وہ کمرے سے باہر جاتے رہیں گے جو باقی بچیں گے وہ خالص حب الوطن ہوں گے۔

صاحب مجلس نے یہ شرط ماننے کا اعلان کیا تو وہ شخص بولا:

وہ شخص جو ٹیکس چوری کرتا ہے۔

ایسا شخص جو دوسروں کا حق مارتا ہے۔

وہ جو اپنے سوا دوسروں کو حریص اور گناہ گار سمجھتا ہے۔

وہ لوگ جو اپنے فائدے کے لئے قوم و ملک کا نقصان کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔

اور وہ بھی ............

ابھی اس کا فقرہ مکمل نہیں ہؤا تھا کہ اس نے دیکھا صدر مجلس گردن جھکائے کمرے سے باہر نکل رہا تھا۔

ہال میں دس بارہ لوگوں کا ایک گروہ اسٹیج پر یہ بینر تھامے کھڑا تھا:

” ہم سب بھوکے ہیں۔ ہم ملک دشمن ہیں۔ ہمیں ختم کر دو “