بلاول سے دو باتیں
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 26 / جولائی / 2015
- 7453
پیارے بلاول تم بس ایک بار بولے تھے۔
اس بولنے میں بہت سی بے ادائیوں کے باوجود اس ملک کے محروم اور مجبور عوام کو یہ امید ضرور پیدا ہوئی تھی کہ اب مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دینے والا ایک نوجوان لیڈر میدان عمل میں کود پڑا ہے۔ جو اپنے نانا کے جذبے اور حوصلے اور اپنی ماں کی فراست کے ساتھ ملک اور اس کے غریب عوام کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے کی جدوجہد کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
ابھی تمہارے اس حوصلہ پر تالیوں کی گونج بھی ماند نہ پڑی تھی کہ خبر آئی کہ بلاول اپنے والد سے ناراض ہو کر لندن چلا گیا ہے۔ یا اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ آصف علی زرداری نے اپنے حلیفوں اور اپنی سیاست کے شرکائے کار کی دلجوئی کے لئے تمہیں زبان بند رکھنے کا ” حکم “ دیا اور تم نے اسے فرماں بردار بیٹے کی طرح مان لیا۔
اور جیسا کہ جوان بیٹا جب باپ کی بات مان لیتا ہے تو ساتھ ہی ناراض بھی ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح تم نے بھی اپنے باپ کا یہ حکم تو مان لیا کہ تم ابھی سیاسی نابالغ ہو ........ تم نے الطاف بھائی کو ناراض کر دیا ہے۔ بھارت کے خلاف جارحانہ رویہ کا اظہار کیا ہے۔ آج کی ” مفاد پرست “ سیاست میں اس قسم کی متنازعہ باتوں کی گنجائش نہیں ہے۔ تم کو ابھی مزید سیکھنے کی ضرورت ہے۔ خبردار جو کوئی غیر ضروری بیان جاری کیا۔ لین اس کے ساتھ ہی تم ٹوکنے پر اپنے باپ سے خفا بھی ہوگئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا چیئرمین ، جیالوں کا ہیرو، عوام کی امید اور ملک کی بوسیدہ بدبودار سیاست میں ایک نئی اور توانا آواز باپ بیٹے کی اس تابعداری یا تکرار میں گم ہو گئی۔ ایک نئے طاقتور باحوصلہ قائد کے منتظر ماہرین اور بہی خواہوں کی امیدوں کے برعکس تم نے خاموشی اختیار کی۔ خاموشی بھی ایسی کہ ٹوئٹر پر بھی اپنے چاہنے والوں سے مواصلت بند کر دی۔
تم سات ماہ تک اپنے باپ سے روٹھے رہے۔ کئی بار تمہیں منانے کی کوششیں ہوئیں مگر تم نے ” صلح “ کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ لڑائی ایک باپ اور بیٹے کے بیچ تھی۔ لیکن اس کی وجہ سے پوری قوم متاثر ہو رہی تھی۔ ایک ایسی پارٹی کا مستقبل تاریک ہو رہا تھا جس کے بارے میں تم نے خود دعویٰ کیا تھا کہ وہ ملک کی واحد وفاقی پارٹی ہے۔
اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی یعنی اس پارٹی کا یوم تاسیس بھی گزر گیا اور تم نہ آئے ........ جس کے بارے میں 18 اکتوبر 2014 کو تم نے کہا تھا کہ ملک میں صرف دو ہی طاقتیں ہیں۔ ایک وہ جو بھٹو ازم کی تائید کرتی ہیں اور دوسری وہ جو آمریت کی حمایت کرتی ہیں۔ تم نے کہا کہ ہمیں ڈرانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ ہم خوفزدہ نہیں ہوتے۔ خوف کا لفظ ہماری لغت میں نہیں ہے۔ تم نے ہی کہا تھا کہ بھٹو کی ہی پارٹی پاکستان کا فخر ہے۔
پھر چشم فلک نے دیکھا کہ اسی فخر پاکستان پارٹی کا نوجوان چیئرمین جسے اس کی ماں نے اپنے اور اپنے باپ کے خون سے سینچی ہوئی پارٹی کا سربراہ مقرر کیا تھا ........ وہ صرف اپنے باپ کی ڈپٹ سے دبک گیا۔
بلاول تم سے یہ تو پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا تم صرف آصف زرداری کے بیٹے ہو۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے چاہنے والوں اور اس پارٹی سے انقلاب کی توقع رکھنے والوں کا تم سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ کیا تم پر صرف ایک بیٹا ہونے کے ناطے باپ کی بات ماننے اور اس سے ناراض ہونے کا حق یا فرض عائد ہوتا ہے۔ تم ان لاکھوں لوگوں کو بالکل جواب دہ نہیں ہو جو تمہارے نانا کے لگائے ہوئے پودے کو تناور درخت کی صورت دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں۔ جو یہ امید کرتے ہیں کہ بینظیر کا جوان بیٹا بالآخر پاکستان پیپلز پارٹی کو ان مفاد پرستوں سے نجات دلائے گا جو تمہارے باپ کی مفاہمانہ سیاست کے صدقے پارٹی کو نوچ رہے ہیں اور تیزی سے اس کی تباہی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ کیا تم سے لگائی گئی یہ امید بے سبب تھی کہ تم پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر ایک تحریک بنا کر اس ملک کے محروموں کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کا سبب بنو گے۔
تم بلاشبہ خود اختیار کردہ جلا وطنی سے واپس آ گئے ہو۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ تم بھی مفاہمانہ سیاست کا ایک مہرہ بن کر واپس آئے ہو۔ مفاہمت کے نام پر بچھائی گئی بساط پاکستان پیپلز پارٹی کی موت کا پروانہ ہے۔ کیا اب تم اس عمل کے حصہ دار بننے کے لئے وطن واپس آئے ہو۔
اس سے تو بہتر تھا کہ تم جلا وطن ہی رہتے۔ لوگ یہ تو سوچ لیتے کہ بلاول ایک اچھا بیٹا تھا۔ اپنے باپ کی نافرمانی نہ کر سکا۔ وہ سیاست میں نئی امید بن سکتا تھا مگر اس کا سیاسی حوصلہ باپ کی تابعداری کی روایت کو توڑنے میں ناکام رہا۔ اب اگر ایک ایسی کٹھ پتلی بن کر آئے ہو جس کے دھاگے دبئی کے محل سے کھینچے جائیں گے اور تم ان فیصلوں اور احکامات پر صاد کہو گے جو تم تک پہنچائے جائیں گے۔ تو تم ایک نااہل اور کمزور لیڈر کی شہرت پاؤ گے۔
تمہارا یہ رول تمہیں ایک بزدل سیاسی لیڈر کا نام دے گا۔ یہ یاد رکھا جائے گا کہ بلاول زرداری بھٹو اپنی ماں کی امیدوں اور نانا کی امنگوں کی تعبیر نہیں بن سکا۔
بلاول نے اپنے نام کے ساتھ بھٹو تو لگایا مگر وہ بھٹو بن نہ سکا۔