اسی کو عذاب کہتے ہیں
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 08 / اگست / 2015
- 6870
اسلام کے اس قلعے میں دس برس سے سینکڑوں بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ان کے ویڈیو بنا کر چائلڈ پورنو گرافی کے عالمی گروہوں کو فروخت کئے جاتے رہے۔ معصوم بچوں کو ان کی برہنہ تصاویریں اور ویڈیو دکھا کر اپنے گھروں سے زیورات اور قیمتی اشیا چوری کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا۔ ان کے والدین سے ویڈیو عام کرنے کی دھمکی دے کر لاکھوں روپے وصول کئے جاتے رہے اور پھر بھی بچوں کی جنسی ویڈیو نشر اور فروخت کی جاتی رہیں۔
جب ایک شخص نے اس ظلم ، استحصال اور بربریت کے خلاف آواز اٹھائی تو پولیس اسے اٹھا کر لے گئی اور اسی کے ٹیلی فون سے اس کے دوستوں اور عزیزوں کو فون کر کے دباﺅ ڈالنے پر مجبور کرتی رہی۔ والدین سے کہا جاتا رہا کہ اگر انہوں نے متعلقہ لوگوں کے خلاف شکایتیں واپس نہ لیں تو انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کسی ماں یا باپ کے لئے اس سے زیادہ سنگین واقعہ کیا ہو گا کہ اس کے چھ سات یا دس بارہ سال کے بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی جائے۔ اس پر تشدد کیا جائے۔ اس فعل کی ویڈیو بنا کر اسے دوبارہ ویسا ہی ظلم برداشت کرنے کے لئے طلب کیا جائے اور پھر والدین کو یہ شرمناک ویڈیو دکھا کر اپنا کل سرمایہ ان استحصالیوں کے حوالے کرنے کی دھمکی دی جائے۔ پھر بھی قیامت نازل نہیں ہوتی۔ پھر بھی پولیس کہتی ہے کہ شکایتیں واپس لے لو ورنہ نتائج سنگین ہوں گے۔
یہ مظلوم اور مجبور لوگ جب اس بربریت اور درندگی کے خلاف اکٹھے ہو کر احتجاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہی پولیس جس کی ناک کے نیچے اس ملک کے معصوم بچوں کی آبرو ریزی کی جاتی رہی اور انہیں غیر انسانی اور وحشیانہ سلوک کا نشانہ بنایا جاتا رہا ........ مسلح ہو کر ان نہتے شہریوں پر ٹوٹ پڑتی ہے۔ کئی کو پکڑ کے جیل میں ڈالتی ہے اور درجن بھر کے لگ بھگ ظلم کا نشان بن کر اسپتال پہنچ جاتے ہیں۔
لیکن یہ پولیس اتنی مستعد ہے کہ 13 سال کے ایک بچے کو گرفتار کر لیتی ہے اور اسے 7 سال کے ایک بچے کے ساتھ بدفعلی کا ارتکاب کرنے کا ملزم قرار دیتی ہے۔ اس کی ماں چیختی چلاتی ہے کہ شرم کرو یہ بچہ تو خود اس گروہ کے ظلم کا شکار ہؤا ہے۔ اسے تو دہشت کا نشانہ بنا کر اس فعل پر مجبور کیا گیا تھا تا کہ یہ درندے حسب خواہش ایسی ویڈیو تیار کر سکیں جو مارکیٹ میں اچھے داموں فروخت ہو سکے۔
دس سال تک ایک ایسے ملک میں جہاں پر جہادیوں نے اسلام کا جھنڈا اٹھا کر اسلام نافذ کرنے کے نام پر بچوں اور نوجوانوں کے جسموں پر بم باندھ کر انہیں لوگوں کو ہلاک کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔
ایک ایسا ملک جہاں اخلاق اور اقدار کا علم بلند کرنے والے روز افزوں ہیں۔ داڑھیوں ، برقعوں اور نقابوں کی تعداد میں دن دونی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے۔
ایک ایسی مملکت جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ اسلام کے نام پر قائم ہؤا تھا اور اب اسلام دشمن، اسلام کے اس قلعے کو مسمار کرنے کے درپے ہیں۔
اسی ملک کے ایک قصبے کے سینکڑوں بچے چند بااثر وحشیوں کی درندگی کا نشانہ بنتے ہیں لیکن دس برس تک کوئی ان کی آہ و فریاد سننے والا نہیں ہوتا۔
یہ آہ کہاں سے آتی۔ انہیں تو پکارنے، چلانے اور توجہ دلانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔
اسلام کے اعلیٰ و ارفع اصولوں کے علمبرداروں نے بتایا ہے کہ جنس کے بارے میں آگاہی اور تعلیم ہماری روایت اور اقدار کے خلاف ہے۔ یہ بداخلاقی مغربی تہذیب کا نتیجہ ہے۔
سماج کے ٹھیکیداروں نے اسلام کے اس قلعے میں ایک ایسا رویہ اور مزاج پروان چڑھایا ہے کہ کوئی بچہ زیادتی کا شکار ہونے کے بعد شکایت بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے ماں باپ سچائی جان لینے کے باوجود انصاف کی دہائی نہیں دے سکتے بلکہ برس ہا برس تک سنگدل مجرموں کو اپنے اثاثے حوالے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
یہ مصلح اور سماج سدھارنے کے ذمہ دار اسکول کی کتابوں میں جنسی استحصال سے روک تھام کو مخرب اخلاق سمجھتے ہیں لیکن ان پھول جیسے بچوں کو مسلنے کچنے والوں کی گردن ماپنے کے معاملہ پر ان کی زبانیں کند اور ان کے اخلاق کی پستک خاموش ہو جاتی ہے۔
ایک ہفتہ سے پاکستان کی تاریخ کا یہ بدترین جنسی اسکینڈل کسی نہ کسی صورت خبروں میں آ رہا ہے لیکن نہ ٹاک شوز کے پاس اس اندوہناکی پر بات کرنے کا وقت ہے، نہ اخباروں کی شہ سرخیوں میں اس ظلم کو نشر کرنے کی گنجائش ہے اور نہ ملک کے حکمرانوں کی غیرت جوش میں آتی ہے۔ وہ اب بھی آرام کی نیند سوتے اور نعمتوں سے بھرے خوان بغیر ڈکار کے ہضم کرتے ہیں۔
اور وہ ساری دینی جماعتیں
وہ سارے لوگ جنہوں نے رمضان المبارک کے پورے مہینے میں طرح طرح کے ڈھونگ رچا کر اسلام کا پرچم بلند کرنے کی جدوجہد کی تھی اور اسے بیچا تھا۔
اور وہ مذہب کے نام پر جان دینے اور لینے والے مجاہدین جو عقیدے کے فرق پر گردن مار سکتے ہیں۔ بموں سے لوگوں کے چیتھڑے اڑا دیتے ہیں۔
وہ سارے ملا جو محلے کی ہر گلی اور شہر کے ہر کونے میں سوانگ رچا کر جنت کے ٹکٹ فروخت کرتے ہیں اور جہنم کی آگ سے ڈراتے ہیں۔
کیا یہ آگ ان حرامکاروں پر بھی واجب ہو گی جنہوں نے بچوں پر ظلم کیا اور ان کے ماں باپ کو بلیک میل کیا ہے۔
اب سب زبانیں گنگ ہیں
کوئی بیان جاری نہیں ہوتا
کوئی نعرہ بلند نہیں ہوتا
کوئی اپنے عشرت کدہ سے نکل کر ان معصوموں کے آنسو نہیں پونچھتا
پولیس مستعد اور چوکنی ہے۔ 5 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ مگر سرغنہ کو چھوڑ دیا گیا۔ وہ کون سی عدالت اور وہ کون سا منصف ہو گا جو چھ چھ سات سات سال کے بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے اور ان کی فلمیں فروخت کرنے کا کاروبار کرنے والے دہشت گرد کی ضمانت لے سکتا ہے۔
کون ہے جو یہ ضمانتیں بانٹتا ہے
پوچھو عام آدمی کو ہر وقت خد کے قہر سے ڈرانے والوں سے۔ یہ قہر کب آئے گا۔ آسمان کب پھٹے گا۔ زمیں کب شق ہو گی۔ کب یہ ظالم اور ان کے سرپرست غارت ہوں گے ........ اپنے انجام کو پہنچیں گے۔
آنکھوں میں آنسو بھر کر اس ملک کی خیر مانگنے والے ملاﺅں کو خبر ہو کہ اس طرح ہاتھ پھیلانے سے خیر نہیں ملتی۔ تم اس اللہ سے کیسے مانگو گے جس کے بھیجے ہوئے پھولوں کو روندنے والے تمہارے گرد و نواح میں پروان چڑھتے ہیں۔
اسلام کے اس قلعہ کی خیر کیوں کر ہو گی۔
اس ملک میں بسنے والوں کی بے حسی پر تو افلاک کی بلندیوں اور زمین کی گہرائیوں میں بھی خوف سے رعشہ طاری ہے۔
اوپر والا کیوں کر تمہاری حفاظت کرے گا۔
اس قسم کے ظلم کا عشر عشیر بھی اگر کسی ایسے ملک میں رونما ہوتا جن کو دیار کفر کہہ کر تم اپنی بڑائی اور برتری کے قصیدے پڑھتے ہو ........ تو قیامت کا سماں ہوتا۔
میڈیا میں دوسری کوئی خبر دکھائی نہ دیتی
پولیس اپنی کارکردگی کی وضاحتیں کرتے ہوئے مشکل کا شکار ہوتی
سیاستدان اور حکمران شرمندگی اور خجالت سے نظریں جھکا کر بات کرتے
وہ کفر کے آستانے ہیں مگر ان پر پروردگار کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
تم داڑھی بھی رکھتے ہو
نماز بھی پڑھتے ہو
خیرات بھی دیتے ہو
اسلام کا جھنڈا اور ایمان کی دولت بھی تمہارے پاس ہے۔
مگر ابر رحمت نہیں برستا
ہے کوئی جو کہہ سکے، جو سوچ سکے، جو سمجھ سکے کہ یہ اسلام کا کیسا قلعہ ہے جس میں ذہنوں اور دلوں پر مہریں لگا دی گئی ہیں۔
تم اپنی بے حسی کے اسیر، قہر کے نشان ہو
اسی کو عذاب کہتے ہیں۔
(ہفتہ 8 اگست کو رات گئے پنجاب کے سینئر وزیر رانا ثنااللہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کی مقرر کردہ اعلی سطحی کمیٹی نے بچوں سے ذیادتی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ یہ تنازعہ دراصل زمین پر قبضے کے جھگڑے کا شاخسانہ ہے۔ بہر حال 5 افراد گرفتار ہیں اور پولیس کے افسروں نے اس قسم کی ویڈیو ملنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ کون سے ماں باپ ہوں گے جو جائیداد کے جھگڑے میں اپنے بچوں کو داؤ پر لگائیں گے۔ اگر ایسا ہے تو یہ بھی قرب قیامت ہے۔)