فیصلوں کی سنگینیں

یورپ کے ایک امیر ملک کی ایک دور دراز بلدیہ کا اجلاس اس بار ضرورت سے زیادہ پرجوش اور ولولہ انگیز تھا۔ اگرچہ بلدیہ کے کل ارکان کی تعداد بائیس تھی اور وہ سب ایک دوسرے کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔ لیکن اس بار ایک ایسا معاملہ زیربحث تھا کہ ہر رکن تندہی سے اپنی رائے کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ معاملہ کی نوعیت اتنی گمبھیر تھی کہ  22 ارکان کی تقریباً اتنی ہی آرا بھی تھیں۔ یعنی ہر نمائیندہ اپنی الگ رائے رکھتا تھا۔ لیکن بات کو سمجھنے کے لئے یوں کہہ لیجئے کہ ارکان دو گروپوں میں تقسیم تھے۔

ایک تجویز کا حامی اور دوسرا مخالف۔

شروع میں شدت سے مخالفت یا حمایت کرنے والے دو دو تین تین رکن ہی تھے۔ باقی ارکان جوش و خروش کا مظاہرہ تو کر رہے تھے لیکن ان کی کوئی واضح رائے نہیں تھی۔ لیکن ہفتہ بھر کی بحث کے دوران سب ارکان نے محسوس کر لیا تھا کہ انہیں کوئی نہ کوئی واضح مؤقف اختیار کرنا پڑے گا۔ ایسی صورت میں یا تو انہیں ہاں کرنے والوں کا ساتھ دینا تھا یا پھر نہ والوں کی حمایت میں ووٹ ڈالنا تھا۔

نو دن کی بحث کے بعد فیصلہ ہؤا کہ ووٹنگ کروا لی جائے۔ مگر عام روایت سے ہٹ کر اس بار خفیہ رائے دہی کے ذریعے ووٹ ڈالنے پر اتفاق ہؤا تھا۔ اگرچہ سب کو بحث مباحثہ کے دوران یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ کس کس کا ووٹ کس تجویز کے ساتھ جائے گا۔

صاحب مجلس نے جب بیلٹ بکس کھولا تو سب ووٹ کارآمد بھی تھے اور سارے ارکان نے رائے دہی میں حصہ بھی لیا تھا۔ اس سے ہی اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ معاملہ کتنا سنگین اور اہم تھا۔ حتمی گنتی کے وقت تجویز کی حمایت میں 12 اور مخالفت میں 10 ووٹ آئے۔

سب نے جمہوریت کی بہترین روایت کے مطابق تالیاں بجائیں اور اس فیصلہ پر عملدرآمد کرنے کے لئے کمیٹی بنا دی گئی۔ اکثریت نے فیصلہ کیا تھا کہ 5 نئے پناہگزین خاندانوں کو اس بلدیہ میں آباد کیا جائے گا اور بلدیہ مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر نئے آنے والے خاندانوں کی آباد کاری کے علاوہ روزگار کے حصول میں بھی امداد فراہم کرے گی۔

اگلے ایک برس کے دوران 5 خاندان بلدیہ میں آ چکے تھے۔ ان سب کے لئے مناسب مکان تیار کر لئے گئے تھے اور مقامی زبان، رہن سہن، روایت اور طریقہ کار کے بارے میں ان کی تربیت کے لئے بھی لسانی اور سماجی ماہرین کی خدمات حاصل کر لی گئیں۔

ان 5 خاندانوں کے گیارہ بچے تھے جن کی عمریں 2 سے پندرہ برس کے درمیان تھیں۔ اس چھوٹے سے قصبہ کے اسکول اور نرسری کے لئے ایسے بچوں کو پڑھانے اور ساتھ لے کر چلنے کا یہ پہلا موقع تھا، اس لئے استاد اور ان کے سربراہ یکساں بدحواسی کا شکار تھے۔ لیکن چند ماہ کی کوشش سے یہ مشکل بھی حل ہو گئی۔ بچوں نے تیزی سے دوست بنانا شروع کر دیئے اور چھ ماہ کے اندر ہی وہ بات سمجھنے اور سمجھانے کے قابل ہو چکے تھے۔

دو دہائیاں بیت چکی ہیں۔
 
اس بلدیہ کے وہ سارے ارکان جنہوں نے 20 برس قبل اپنے علاقے میں غیر آشنا خاندانوں کو آباد کرنے کے خلاف دھؤاں دار تقریریں کی تھیں، اب وہ ریٹائر زندگی گزار رہے ہیں۔ جب کبھی موقع ملتا ہے تو اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ انہوں نے کثیر الثقافتی سماج کی تعمیرمیں شاندار کردار ادا کیا تھا۔ اگر دو دہائی قبل نئے خاندانوں کو اس علاقے میں لانے سے انکار کر دیا جاتا تو یہ چھوٹا سا قصبہ دنیا بھر کی رنگینیوں، مختلف ثقافت کے امتزاج اور نئے باصلاحیت لوگوں سے محروم رہ جاتا۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ اہم فیصلہ تھا۔ اس نے اس علاقے کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ وہ بھول چکے ہیں کہ درحقیقت وہ اس وقت کسی دلیل کے بغیر ایک انجانے خوف کی وجہ سے نئے لوگوں کی آمد کی ڈٹ کر مخالفت کر رہے تھے۔
 
اس قصبہ کی بلدیہ نے جو فیصلہ کیا تھا وہ اس لحاظ سے بے حد کامیاب ثابت ہؤا کہ نئے آنے والوں میں ایک ڈاکٹر تھا جس نے مقامی زبان سیکھ کر اسی علاقے میں مطب کھول لیاا ور بستی کے باشندے علاج کے لئے دور دراز جانے کی بجائے مقامی طور پر طبی سہولتوں سے استفادہ کرنے لگے۔ دوسرا انجینئر تھا جس نے بلدیہ کے شعبہ تعمیرات میں کام شروع کیا اور جب چند برس بعد ترقی یا تبدیلی کے شوق میں اس شعبہ کے بیشتر لوگ بڑے شہروں کی طرف کوچ کر گئے تو اسی نے بلدیہ کے اس اہم شعبہ کا انتظام سنبھال کر سیاسی قیادت کو پریشانی سے نجات دلا دی۔ تیسرے نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر اس چھوٹے سے قصبے میں مشرق وسطیٰ کے مختلف مگر لذت آمیز کھانوں کا ریسٹورنٹ کھول لیا۔ جلد ہی یہ جگہ ساری آبادی کے لئے توجہ کا مرکز بن گئی۔ چوتھا خاندان جفاکش تھا۔ باپ بڑھئی تھا اور ماں نے پہلے نرسری اور پھر اسکول میں استاد کے طور پر خدمات انجام دینا شروع کر دیں۔ پانچویں خاندان کا سربراہ بوڑھا اور ناکارہ تھا مگر اس کے دو بچوں نے چند ہی برس میں بنیادی اور پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اسی علاقے کو اپنا مسکن بنا لیا تھا۔
 
اس بستی میں 20 برس قبل آنے والے نئے خاندان اب مقامی ہو چکے تھے۔ کوئی انہیں اجنبی نہیں سمجھتا تھا۔ وہ سب کے دکھ سکھ کے شریک تھے اور دوسرے ان کا ساتھ دیتے ہوئے خوشی محسوس کرتے تھے۔
 
بلدیہ کا ایک اہم اجلاس آج پھر منعقد ہو رہا تھا۔
 
اجلاس کی صدارت بیس برس قبل اسی ہال میں ہونے والے ایک فیصلہ کے نتیجہ میں یہاں آ کر آباد ہونے والی ایک خاتون کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ نوآباد خاندانوں کے دو افراد بھی بلدیہ کے منتخب ارکان کے طور پر فیصلوں میں شریک تھے۔ 
 
خاتون سربراہ مجلس نے اراکین کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ ان کی میزوں پر موجود کاغذات کے پلندے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ آپ ان دستاویزات کا بغور مطالعہ کریں۔ ہمارے پاس ایک ہفتہ ہے۔ ہمیں بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔
 
اس نے سب ارکان سے کہا کہ اس معاملہ میں بہت سے لوگ جذباتی ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ ہمارے بچوں کے مستقبل اور ہمارے علاقے کی بہبود کا معاملہ ہے۔ حکومت ہم سے کہہ رہی ہے کہ ہم ایک جنگ زدہ ملک کے دس خاندانوں کو یہاں آباد کریں۔ میں اپنے پس منظر اور علم و تجربہ کی روشنی میں کہہ سکتی ہوں کہ یہ ایک خطرناک تجویز ہے۔ اس طرح ہمارے علاقے کا امن و سکون اور انفرادیت خطرے میں پڑ جائے گی۔ جنگ سے متاثر شدہ لوگوں کے آنے سے ہماری بلدیہ کا صحت  اور سماجی بہبود کا بجٹ متاثر ہوگا۔ اس کا بڑا حصہ نئے آنے والوں  کے علاج اور کفالت پر صرف ہونے لگے گا۔
 
میں فیصلہ کر چکی ہوں اور آخر دم تک اس تجویز کی مخالفت کروں گی۔
 
بلدیہ کے باقی ارکان غور سے اپنی رہنما کی باتیں سن رہے تھے۔ انہوں نے کاغذات سنبھالتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ نہایت سوچ بچار کے بعد ہی فیصلہ کریں گے۔ ایک کم عمر رکن بلدیہ نے کھڑے ہو کر صدر نشین خاتون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ان کے قیمتی خیالات اور اہم مشوروں سے بے حد متاثر ہؤا ہے۔
 
اجلاس دو روز کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔
 
اس بستی سے دو ہزار کلومیٹر دور ایک ویران علاقے میں لگی باڑھ کے پاس کھڑی ایک ماں اپنے دو بچوں کا ہاتھ پکڑے دوسری طرف کھڑے گارڈ سے سرحد پار کرنے کی التجا کررہی تھی۔ اس عورت کی عمر تیس برس ہو گی مگر حالات کے جبر نے اسے بوڑھا کر دیا تھا۔
 
اس نے گھگھیاتے ہوئے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتایا کہ اس کا شوہر جنگ میں مارا گیا۔ خاندان کے دو دوسرے مرد طویل سفر میں اس سے بچھڑ گئے۔
 
اس کو پناہ کی ضرورت ہے۔
اسے آگے جانا ہے۔
ایک محفوظ ملک میں جہاں وہ سکون سے اپنے بچوں کو بڑا کر سکے۔
 
دونوں بچے سفر کی سختی اور بھوک کی وجہ سے بے چین اور بے قرار تھے۔
اچانک چھوٹے بچے نے رونا شروع کر دیا۔
 
گارڈ نے ایک ویران میدان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جاﺅ۔
یہ سرحد تو اب کل کھلے گی۔
 
اس سرحد سے چند سو کلومیٹر دور ملحق ملک کے معمار اور کاریگر تیزی سے سرحد پر کئی میٹر بلند دیوار تعمیر کرنے میں مصروف تھے۔
 
اندیشہ تھا کہ یہ لاچار عورت اور اس کے بھوکے بچے اپنی نحوست کے ساتھ کہیں ان کے ملک میں داخل نہ ہو جائیں۔