کیا مولوی بولا ....
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 06 / ستمبر / 2015
- 6989
ایک ہنگام ہے۔ سب اپنی اپنی بولی بول رہے ہیں۔ کچھ کی بات سنی جا رہی ہے۔ کسی کی بات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مگر عالمی مواصلت کے مؤثر نظام نے بنی نوع انسان کو یوں جکڑ لیا ہے کہ جو نہیں بھی بولنا چاہتا، وہ بھی بول رہا ہے۔ کسی کے پاس کہنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ کچھ بے مقصد بول رہے ہیں۔
اور یہ کیوں نہ ہو۔ بچہ ہو۔ تین سال کا ہو۔ دھرتی اس پر تنگ کر دی گئی ہو۔ پانی نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو اور اس کی روح قبض کر کے لاشہ ساحل پر الٹ دیا ہو ........ تو بولنا تو پڑے گا۔ آخر انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن کیمرے، ریڈیو کی صوتی مواصلت ، کاغذ پر چھپے لفظ ........ یہ سارے ذرائع کرّہ ارض پر بسے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ایک لڑی میں پرو رہے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے سے ملا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی خوشیوں غموں میں شریک کر رہے ہیں۔ اسی لئے ایلان مرا تو سب چلاّئے ........ کوئی غم سے ، کوئی ضرورت کے تحت اور کسی کو مجبوری میں بولنا پڑا۔ بتانا پڑا کہ غم کا یہ پہاڑ اٹھائے نہیں اٹھتا۔
سوال ہے: کیا واقعی اس دنیا میں آباد انسان اتنے بیدار اور حساس ہو گئے ہیں کہ ایک بچے کی بے بس لاش انہیں تڑپا دیتی ہے۔ وہ کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جو وہ کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں؟
کیا ایلان کی جان ان دوسرے ہزاروں بچوں سے زیادہ قیمتی تھی جنہیں شام و عراق کی جنگ نے نگل لیا ہے۔ جو مناسب خوراک ، پانی یا تازہ ہوا نہ ملنے کی وجہ سے مر گئے یا مر رہے ہیں۔
کیا عالمی ضمیر صرف ایک بچے کا نوحہ پڑھنے میں اتنا مصروف ہے کہ اسے کسی دوسری طرف توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
اقوام متحدہ چیخ رہی ہے کہ یمن میں بمباری اور جنگ جوئی بند کرو۔ ورنہ خوراک کی کمی سال کے آخر تک 8 لاکھ بچوں کو نگل لے گی۔ لیکن یہ جنگ تو ضروری ہے۔ یمن میں ایک قانونی حکومت کا اختیار بحال کروانا اس وقت اقوام عالم کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ قانون اور اصول کے سب سے بڑے پشتیبان سعودی عرب نے امریکہ اور مغرب کی ” بے حسی “ کے باوجود یہ فرض ادا کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ بچے مر جائیں گے تو کیا ہؤا۔ حق کا تو بول بالا ہو گا۔ باغیوں کا سر تو نیچا ہو گا۔
کیا ایسا نہیں ہے کہ تمہارا باغی میرا حریت پسند ہو۔ پھر یہ حوثی باغی کیسے ہو گئے، کیا انہیں اپنے ہی ملک میں اپنے حقوق مانگنے کا حق بھی نہیں ہے۔
یہ مشکل باتیں ہیں۔ ان پر غور نہیں کرتے۔
ابھی تو ایلان مرا ہے۔ اس کے غم نے ہمیں بے چین و بیقرار کر دیا ہے۔ ابھی اس کی بات کرو۔
دیکھو کیسا معصوم کھلکھلاتا بچہ انسان دشمن اسمگلروں اور مجرموں کی وجہ سے سمندر کی بے رحم موجوں کا نشانہ بن گیا۔
کیا صرف ایلان مرا ہے!
لیبیا کے ناقابل کنٹرول ساحلوں سے یونان کے ساحلوں تک ناقص اور غیر محفوظ کشتیوں میں سفر کرتے ہوئے ڈوبنے والے لگ بھگ تین ہزار لوگوں میں کتنے بچے تھے۔ ترکی کے محفوظ ساحلوں سے یونان کے جزائر پر سفر کرنے والے کتنے بچے مرگئے؟
کتنوں کی عمر تین سال، دو سال یا ایک سال تھی یا جو ابھی رحمِ مادر سے نکلنے کے لئے ہمک رہے تھے۔
ان کا نام کیا تھا۔ ان کا نوحہ کیوں پڑھا نہیں جاتا۔
شاید اس لئے کہ سمندر کے شفیق پانیوں نے انہیں اپنی آغوش میں سمیٹ لیا تھا۔ کسی شیطانی لہر نے انہیں اٹھا کر پھر سے اس سفاک دھرتی پر نہیں پھینکا تھا جو خود پر پیدا ہونے والوں کو بچا نہیں پاتی۔ اور پھر انہیں زندگی کی تلاش میں زندگی داﺅ پر لگانا پڑتی ہے۔ اپنی کمزور کشتی سمندر کی غرّاتی منہ زور لہروں کے حوالے کرنا پڑتی ہے۔
لیکن ایلان کو سمندر کی آغوش میں بھی جگہ نہیں ملی
بے رحم اور سرکش لہروں نے اس معصوم فرشتے کی جان بھی لے لی۔ پھر اس کا بے جان جسم ساحل پر پھینک دیا۔
اس کرہ ارض پر بسنے والوں کو آئینہ دکھانے کے لئے
یہ بتانے کے لئے کہ دیکھو تم اپنے معصوموں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو۔ زندگی کی امنگ لئے کلکارتے کھلکھلاتے بچوں کو تم کیسے اور کیوں کر زندگی سے محروم کرتے ہو۔
ہاں یہ دوغلا پن ہے کہ ہزاروں لاکھوں بچوں کی موت ہمیں بے تاب نہیں کرتی لیکن ایک بچے کی لاش پورے براعظم کو بدحواس اور پریشان کر دیتی ہے۔ دنیا کے کونے کونے سے افسوس افسوس کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔
ہاں یہ دھوکہ ہے کہ حصار بند براعظم پر دستک دینے والوں کے ہاتھ تھک جاتے ہیں لیکن لیڈروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ یہاں کے دانشور اور مبصریہ بتانے میں مصروف رہتے ہیں کہ ” بچاﺅ بچاﺅ “ کی صدا لگانے والے ایک ایسا زہر ساتھ لے کر آ رہے ہیں جو ہماری تہذیب اور نسلوں کو نیست و نابود کر دے گا۔
ہاں یہ بے حسی ہے۔
لیکن ایلان کی لاش پر اٹھنے والا شور اس بات کی علامت ضرور ہے کہ جن معاشروں ، ملکوں اور تہذیبوں کو ہم ظلم اور بے حسی کی علامت بتا کر خوش ہوتے رہتے ہیں ........ ان میں تمام تر سیاسی مجبوریوں کے باوجود انسانی ہمدردی کی رمق اور اصول پرستی کا حوصلہ ضرور موجود ہے۔ وہ ملک اور معاشرے جو ہمارے سر کا تاج اور آنکھوں کا نور ہیں۔ اس معمولی سے احساسِ آدمیت سے بھی محروم دکھائی دیتے ہیں۔
تو معاملہ یہ ہے صاحبان کہ جنوب میں یونان سے شمال میں سویڈن تک یہ شور اٹھا ہے کہ ہم کیوں ان لوگوں کو پناہ نہیں دے سکتے جو جنگ کے ستائے ہوئے ہیں۔ جو دربدر ہیں اور جن کی کیفیت نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والی ہے۔
اس سیاسی رائے کے باوجود کہ مسلمان پناہ گزینوں کا یہ جمِ غفیر یورپ کی ثقافت اور معیشت کے علاوہ یہاں آباد نسل کو تباہ کر دے گا۔ عقیدے کے لئے خطرہ بن جائے گا۔ تصادم اور تضاد کو جنم دے گا ........ لاکھوں لوگ ایسی یادداشتوں پر دستخط کر رہے ہیں جن میں اپنی حکومتوں سے پالیسی تبدیل کرنے اور مجبور انسانوں کو پناہ دینے کی بات کی جا رہی ہے۔
یہ ضمیر زندہ ہونے کی علامت ہے۔
اس علامت کو ایلان کی لاش نے نمایاں کیا ہے۔
یہ پناہ گزین جب سمندر کے جاں گسل تھکا دینے والے سفر پر نامعلوم منزل کی تلاش میں کسی یورپین ساحل پر قدم رکھتے ہیں تو ان کے لئے خوراک کے پیکٹ اور مناسب کپڑے لے کر استقبال کرنے والے انہی معاشروں کے لوگ اور رضا کار ہوتے ہیں جو ہماری بول چال میں ” ننگ آدمیت “ ہیں۔
جب ہنگری کی حکومت نے بڈاپسٹ میں پھنسے ہوئے ہزاروں پناہ گزینوں کو آسٹریا اور جرمنی جانے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔ تو انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں اپنا کل اثاثہ لٹا دینے والے ان انسانوں کو بھی رنگ ، نسل و عقیدہ سے ماورا اور بے پرواہ یورپی باشندوں نے ہی حسب مقدور کھانا ، پانی اور دیگر اشیا فراہم کی تھیں۔
اور جب ہفتہ بھر تک ہنگری کی سخت گیر حکومت کے شکنجے میں رہنے کے بعد یہ لوگ بسوں میں سوار آسٹریا پہنچے تو وہاں پر استقبال کرنے والے اور ان کے کھانے کا انتظام کرنے والے اسلامی مراکز اور اس کے جاں نثار نہیں بلکہ وہ لوگ تھے جو انسانیت کے ناطے انسانوں کی مدد کرنے آئے تھے۔
ایلان خود تو مر گیا لیکن اس نے ایک ایسی تحریک کو جنم دیا ہے جو لاکھوں خاندانوں کے محفوظ اور خوشحال مستقبل کی ضمانت بن رہی ہے۔
ایلان کی بے بس لاش کو دیکھ کر ہی کلیساﺅں سے لے کر سیاسی پارلیمانوں تک میں یہ شور سنائی دے رہا ہے کہ ہم خاموش تماشائی نہیں بن سکتے۔
ایسے میں چرچ کا پادری ، سینا گوگ کا رابی، کافروں اور لادینوں کے نمائندے ........ سب یک زبان ہیں۔
پادری نے کہا: ہم انسانوں کو مرتا نہیں دیکھ سکتے
رابی بولا: انسانوں کو نشان زدہ کرنے کا طریقہ دوسری جنگ میں یہودیوں کے قتل عام کی یاد دلاتا ہے
کافر پکارا: ہماری انسانیت کو کیا ہؤا
بے دین چلایا: چلو نکلو اپنے گھر کے دروازے ان ضرورت مندوں کے لئے کھول دو
پوچھا : کیا مولوی بولا
جواب آیا: ہاں مولوی بولا
وہ بولا: جنگ کی تیاری کرو۔ دشمن کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ جہاد کے لئے تیار ہو جاﺅ۔ بزدل حکمرانوں کے گریبان پکڑ لو۔ یہ طبل بجانے اور جنگ کرنے کا وقت ہے۔
خادمینِ حرمین شریفین منہ میں گھنگنیاں ڈالے تماشا دیکھتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ایلان اور اس کا کوئی ہم وطن کسی محفوظ عرب ملک میں داخل نہ ہو پائے۔
ہمارے پاس اللہ کا نام لینے والے بہت ہیں۔
اب ان کو وہاں بھیجو جہاں معاشرے دینِ حق سے محروم ہیں۔
ایلان تم مر گئے۔
مگر اوپر آسمانوں میں ہنستے مسکراتے تم اپنوں اور غیروں کا یہ منظر نامہ ضرور دیکھتے ہو گے۔
سنا ہے عرش پر قیامت کا سماں تھا۔
تمہارے آنے سے رب ذوالجلال بھی بے چین ، پریشان اور حیران تھا۔