جنرل راحیل شریف زندہ باد

غلغلہ ہے

کہا جا سکتا ہے جتنے مونہہ اتنی باتیں۔ کس کو سچ مانیں اور کس کو مسترد کر دیں۔ یا کان بند کر لیں کہ یہ شور دماغ کو شل کئے دیتا ہے۔

مسئلہ صرف یہ ہے کہ کان بند کرنے یا آنکھیں موند لینے سے ان سوالوں کا جواب نہیں ملتا جو اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس کے لئے تو آنکھ اور کان کے ساتھ دل اور دماغ کا دروازہ بھی کھلا رکھنا پڑے گا۔
 
تو یوں کرتے ہیں
شور سے نہیں گھبراتے۔ ہر بات کو سنتے ہیں اور پھر حقائق کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھ لیتے ہیں۔ کھری بات تو بہرصورت اپنا آپ منوا کر رہتی ہے۔
 
شاید یہ درست ہے۔ لیکن مسئلہ تو کسوٹی کا ہی ہے۔ یہ ایسا جہان رنگ و بو ہے کہ اس میں پرکھنے کے معیار بھی اپنے اور تولنے کا ترازو بھی۔ یہ سب کچھ اپنے معیار، پسند اور صوابدید کے مطابق ہے۔
 
اب کس سے کہیں کہ بھئی آپ پہلے اپنے اوزان ٹھیک کرو۔
تو کیا میں جانتا ہوں کہ معیار کسے کہتے ہیں۔ کیا مجھ میں غلط اور صحیح کی پرکھ کرنے کی صلاحیت ہے!
 
یہ عجیب سوال ہے۔
اسی سوال سے وہ الجھن جڑی ہے جس کی وجہ سے وہ سارے نعرے بلند ہو رہے ہیں جن کے سبب سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔
 
زندہ باد .... زندہ باد
مردہ باد .... مردہ باد
 
یہ ملک صرف فوج چلا سکتی ہے۔ دیکھ لو جنرل راحیل شریف کی ولولہ انگیز قیادت میں کیسے دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا۔ یہی مرد مومن ہے۔ اس کے دل میں قوم کا درد ہے۔ کیوں نہ ہو۔ آخر کس عالی نسب خاندان سے اس کا تعلق ہے۔
ایسا ہی دیندار، ایماندار اور بہادر انسان اس ملک کی اصلاح کر سکتا ہے۔
جنرل راحیل شریف زندہ باد
 
یہ سب طاقت کا کھیل ہے۔ جو بھی فوج کا سربراہ ہو گا۔ اس کے ہاتھ میں اصل اختیار ہو گا۔ وہ جو چاہے فیصلہ کرے گا۔ سیاستدانوں کی کیا مجال کہ سرتابی کر سکیں۔ خارجہ امور ہوں یا دفاعی معاملات ........ بس جی حکومت تو نام کی ہے۔ اسے کون پوچھتا  ہے۔
 
تو یہ سب جمہوری نمائندے نہیں
کیا لوگوں نے ووٹ دے کر انہیں منتخب نہیں کیا۔ کیا سب لوگوں نے 5 برس انتظار کرنے کے بعد بالآخر اپنی پسند کے نمائندے منتخب نہیں کئے۔ اور اس طرح پانچ برس تک ملک پر حکومت کرنے والی پارٹی کو شکست ہو گئی۔ کیونکہ لوگ اس سے مطمئن نہیں تھے۔ ایک نئی حکومت برسر اقتدار آئی ہے۔
 
کیا اسی کو عوام کی حاکمیت نہیں کہتے!
 
عوام کی حاکمیت
واہ کیا مذاق ہے۔ پاکستان میں بھی کبھی لوگوں کی مرضی کے مطابق معاملات طے پا سکتے ہیں۔ یہاں تو بدعنوان ، طاقتور غاصبوں کی حکومت ہوتی ہے۔ یہ لوگ دھاندلی سے ، دولت ، دھونس اور ہیرا پھیری کے ذریعے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں آ جاتے ہیں۔ یہ سب اپنے مفاد کے پہریدار ہیں۔ ان کا عوام کی ضرورتوں اور خواہشوں سے کیا لینا دینا۔ یہ لٹیرے اور غاصب ہیں۔
 
تو ایماندار کون ہے
وہ بے ایمان ہے۔ وہ نااہل ہے۔ وہ بے دین ہے۔
 
ہم کسی کو نہیں مانتے۔
آﺅ دیوار پر مجاہدِ وطن کا پوسٹر نصب کرتے ہیں۔ اصل نمائندے تو وہ ہیں جو سینہ تان کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔
 
یہ دیکھو جنرل راحیل شریف نے کیسے دشمن کے دانت کھٹے کر دئیے۔ دہشت گردوں کا صفایا کر دیا۔ بھارت کو دو ٹوک جواب دیا۔
ہے کسی کی جرات کہ پاکستان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ بس لیڈر ہے تو آرمی چیف۔ نجات دہندہ ہے تو پاک فوج۔
 
یوں تو پاک فوج کے جوانوں کو وردی میں دیکھ کر لوگ مشتعل بھی ہؤا کرتے تھے۔ بھول گئے جب سب لوگ مل کر فوج کی حکومت ختم کروانے کے لئے گلا پھاڑ کر چلا رہے تھے۔ اور یہ بھی کہ فوج کے کئی سربراہوں نے آئین کی خلاف ورزی کر کے غداری کی تھی۔ ایک جرنیل کے خلاف تو غداری کا مقدمہ بھی چل رہا ہے۔
 
اس میں دم ہوتا تو اب تک کوئی فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا۔ یہ سب فوج کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ تا کہ ملک کا دفاع کمزور ہو اور دشمن ہمیں نقصان پہنچائے۔
 
دیکھتے نہیں کہ جنرل راحیل کی قیادت میں پاک فوج کیا کارنامے سرانجام دے رہی ہے۔ کیا یہ قربانیاں تم کو نظر نہیں آتیں۔
 
پاک وطن کے شہید زندہ باد
 
اس سے کس کافر کو انکار ہو سکتا ہے۔
لیکن فوج کو حکومت کرنے کے لئے تو کھڑا نہیں کیا گیا۔ یہ تو حکومت کا ایک ماتحت ادارہ ہے۔ اسے تو حکومت کے فیصلوں کے مطابق عمل کرنا ہے۔
جنرل راحیل کی بڑائی یہ ہے کہ اس نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینے کی روایت کو پروان چڑھایا ہے۔
 
فوج بلاشبہ قربانیاں دے رہی ہے۔ ساری قوم ان جوانوں کی پشت پر ہے جو دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہیں۔ مگر یہ سب نظام کا حصہ ہیں۔ نظام میں فیصلے تو پارلیمان کو کرنے ہیں۔ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت ملک چلاتی ہے۔
 
کون سی حکومت ........ کون سی پارلیمان ........ کون سی جمہوریت ، یہ سب فوج کی مہربانی ہے۔
سب کام تو جنرل راحیل شریف کر رہا ہے۔ سیاستدان تو حرام خوری میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمیں ایسی جمہوریت سے کیا ملے گا جو عوام کا خون چوستی ہے۔ چوری اور لوٹ مار کو عام کرتی ہے۔ بروں کی حفاظت اور شریفوں کی پگڑی اچھالتی ہے۔
 
معاملات میں اونچ نیچ تو ہوتی رہتی ہے۔ لیکن فوج کی عزت اور احترام تو تب ہی ہے جب وہ آئین کی حدود میں رہ کر کام کرے۔ جیسا کہ اب ہو رہا ہے۔ حکومت فیصلے کرے۔ ادارے ان کے مطابق عمل کریں۔
 
حکومت کون سے فیصلے کر رہی ہے؟
اس ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے
یہ جمہوریت ، اسمبلیاں ، نظام ........ یہ سب نعرے ہیں۔ لوگوں کو بے وقوف بنانے کے بہانے ہیں۔
اصل اختیار تو فوج کے ہاتھ میں ہے۔
 
مجال ہے جو سیاستدان کوئی فیصلہ ماننے سے انکار کریں۔ یہ سب دکھاوا ہے۔ اصل حکمران جنرل راحیل شریف ہے۔ اسی لئے تو دہشت گردی ختم ہو رہی ہے۔ اسی لئے تو بدعنوانوں کا گھیراﺅ جاری ہے۔ اسی لئے تو امید بندھی ہے۔
 
آﺅ نعرہ لگائیں۔
جنرل راحیل ........ زندہ باد
زندہ باد ........ زندہ باد
 
لیکن جنرل راحیل تو بس سال بھر بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔ پھر کوئی نیا جرنیل آئے گا۔ فوج یوں ہی اپنا کام کرتی رہے گی۔ بس قیادت بدل جائے گی۔ فوج کا نیا سربراہ بھی سیاسی حکومت کا احترام کرے گا۔ اس سے رہنمائی حاصل کرے گا۔ یہی دستور ہے۔ یہی اصول و قاعدہ ہے۔ اسی میں سب کی بھلائی ہے۔
 
یہ پاگلوں سی باتیں ہیں۔ ان پر غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو بھی اس ملک میں کام کرنا چاہتا ہے تم جیسے لوگ اس کے خلاف باتیں بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ اب تمہیں جنرل راحیل شریف برا لگتا ہے۔
 
نہ ۔ وہ ایک عظیم جنرل ہے۔ اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کر کے قوم کو ایک نئی امید دی ہے۔ اس کو اس عہدے سے اعزاز کے ساتھ رخصت کر کے ہی ہم اس کا مان رکھ سکتے ہیں اور وقار بڑھا سکتے ہیں۔
 
انہیں کون ہٹائے گا۔
 
نظام اور قانون
 
وہ کیا ہوتا ہے۔
 
وہ میرے آپ کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچنے والے نمائندوں کے فیصلوں سے استوار ہوتا ہے۔
 
میرا اور تمہارا ووٹ
نمائندے
فیصلے
 
یہ سرخرو کیوں نہیں ہوتے
 
میرا ووٹ ۔۔۔ میرا نمائندہ
اور ان نمائندوں کے فیصلے
یہ مطعون کیوں ہیں۔ یہاں کیوں پگڑیاں اچھلتی ہیں اور جوتیوں میں دال بٹتی ہے۔
 
نظام یہ تو نہیں کہتا
جمہور اس لئے تو ووٹ نہیں دیتے
جو عزت جو وقار اچھا کام کرنے پر ایک جرنیل کو ملتی ہے۔ وہ سیاستدان کو کیوں نہیں ملتی۔ وزیراعظم اور اسمبلیوں کو کیوں نہیں ملتی۔
 
وہ کام نہیں کرتے
وہ ثابت نہیں کرتے کہ انہیں ووٹ کی قدر ہے
وہ دھوکہ دیتے ہیں۔
 
جنرل نے جنگ جیتی ہے۔
ہے کوئی جو حرف اعتراض زبان پر لا سکے
ہے کوئی جو جنرل کے لئے نعرہ زن نہ ہو
 
بولو آوے ہی آوے .... جنرل ساڈا آوے ہی آوے
جنرل راحیل شریف زندہ باد