الامان ۔۔۔ یہ کون سی گھڑی ہے

کون کہے کہ یہ قیامت ہے کہ کون جانتا ہے کہ کل اپنے دامن میں کیا سمیٹے ہوئے ہے۔ اہل پاکستان برسوں سے یوں ہی ایک ایک دن اس امید پر بسر کرتے آئے ہیں کہ یہ آج جو دھماکہ ہؤا اور معصوموں کی جان لی گئی ہے، یہ شاید دشمن کا آخری وار ہے اور اب شاید امن اور چین نصیب ہوگا۔ ہر گزرنے والا سانحہ نئے زخم کھولتا ہے ، دشمن کا مکروہ چہرہ عیاں کرتا ہے اور پھر زندگی کی ہمک خوف اور ناامیدی پر قابو پاتی ہے اور سب ایک نئے حوصلے کے ساتھ آنے والے کل کے سورج کا استقبال کرتے ہیں کہ یہ روشنی اب ہماری تاریک زندگی کو منور کردے گی۔ لیکن یہ جو بچوں کے لاشے اور والدین کے نوحے شہر لاہور کی فضاؤں میں گونجتے ہیں۔ یہ جو خون میں نہائے پارک میں کھیلتے بچے اور ان کو دیکھ کر خوش ہونے والے ان کے بڑے سینہ کوبی کرتے نوحہ کناں ہیں ، ان کے لئے اس دن کے بعد امید کون کہاں سے ڈھونڈ کر لائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میرے شہر کے معصوموں کو قتل کرنے والے بچ نہ پائیں گے۔ آرمی چیف نے حکم دیاان سب خفیہ ہاتھوں کو قطع کردیا جائے جو ہمارے بچوں ، عورتوں اور مردوں کا خون بہاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ میں اس شہر کو محفوظ بناؤں گا اور شر پسندوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ دلارے لیڈروں کے کیسے نویلے پیغام ہیں مگر ان میں نیا کیا ہے۔ کیا کل اور پرسوں اور اترسوں، مہینہ پہلے اور سال پہلے ، قیامت کی ایک ایسی ہی گھڑی میں ایسے ہی اعلان ، ایسے ہی وعدے نہیں کئے گئے تھے۔ آج جس باپ نے اپنا بیٹا اور جس بیٹے نے اپنی ماں اور جس بچی نے اپنا سب کچھ کھویا ہے ، وہ بھی جس ننھے کے ساتھ وہ سارا دن کھیلتی تھی ، اسے ان وعدوں سے کیا فرق پڑے گا۔

کیا ہم جانتے ہیں کہ مرنے والوں کے ان سب وارثوں کے ساتھ کیا بیتی ہے جو کل ، پرسوں یا اس سے پہلے مر گئے تھے۔ کیا ہمارے عزم نے ان کے آنسو پونچھ دئے اور ان کے گھروں کا اندھیرا دور کرنے کے لئے امید کا کوئی دیا روشن کیا۔ بیان کی شدت میں اضافہ کرنے اور دلیل کو ٹھوس بنانے کے لئے ہم کہتے ہیں کہ ہم نے اس جنگ میں پچاس ہزار، شاید ساٹھ یا اس سے بھی ذیادہ انسانوں کی قربانی دی ہے۔ وہ سارے شہید کیا ہم سے راضی ہوں گے۔ ایک سپاہی سے لے کر وزیر اعلی اور وزیر اعظم تک کو یہ سوچنا تو ہوگا کہ کیا وہ قوم کی حیات کے لئے قربان ہوجانے والے ان بے گناہوں کو منہ دکھانے کے قابل ہیں۔ اس کا جواب ہمارے ہر ذمہ دار کے پاس ہو گا۔ بس گریبان میں جھانکنا شرط ہے۔ ہمیں اس بارے میں ان کی مدد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
لیکن سوال صرف ان سے نہیں کیا جا سکتا جن کو ووٹ، قانون یااختیار نے زندگی کی حفاظت پر مامور کیا ہے۔ یہ اس اندوہناک کہانی کا ایک حصہ ہے۔ اس قصہ میں رنگ آمیزی کے بھی ہزار عذر تراشے جا سکتے ہیں۔ ایک تو یہی ہے کہ دشمن عیار اور چالاک ہے اور ابھی ان کا ایک سہولت کار ہم نے پکڑا ہے۔ جانے کتنے مزید ہمارے شہروں ، گلیوں اور دیہات میں دندناتے پھرتے ہیں۔ اس بار بھی اس شیطنیت کا سرا وہیں دستیاب ہو گا۔ دیکھ لینا۔۔۔ ہو سکتا ہے یہ سچ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اندازہ غلط ہو۔ کہ جسم کے ساتھ دس کلو بارود باندھ کر خود کو دھماکے سے اڑانے والا تو ہمارے ہی شہر مظفر گڑھ میں پیدا ہؤا تھا۔ وہ آٹھ برس تک لاہور کے ہی ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کرتا رہا اور اب مدرس کے طور پر فرائض انجام دے رہا تھا۔ لیکن اس تعلیم اور اس کی تربیت نے اسے بہر صورت یہی سبق دیا تھا کہ جنت کا راستہ جینے میں نہیں جان دینے اور جان لینے میں ہے۔

کون جانتا ہے کہ ایسے کتنے بم بردار ہمارے بیچ گھومتے ہیں۔ کون جانے جنت کے ایسے کتنے عاشق اس راستے پر چلنے کے لئے تیار کھڑے ہیں ۔ راستہ کھوجتے ہیں ، کوئی تو ہاتھ پکڑے۔ اس قوم کو کسی دشمن کا سراغ لگانے کی کیا ضرورت ہے جس کے مدرس اور رہنما زندگی کو بے مقصد اور موت کو اللہ کا احسان قرار دیتے ہوں ۔ اس بات کا جواب البتہ کوئی نہیں دیتا کہ اللہ کو آپ کی جان کی کیا ضرورت ہے۔ وہ اس زندگی سے فراریت کا تقاضہ کیوں کر کر سکتا ہے جو اس نے انسان کو عطا کی کہ وہ اسے جئے اور اپنی اور اپنے ہم نفسوں کی زندگیوں میں راحت بھر دے۔ سوچئے اگر ہم میں سے ہر ایک، صرف ایک دوسرے انسان کی تکلیف رفع کرنے ، اس کو خوشی دینے، اس کی زندگی کی حفاظت کرنے اور اس کی تکلیف دور کرنے کا عزم کرلے تو کیسا انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ کیا یہ خدا اور انسان کے رشتے کو مضبوط کرے گا یا نہیں ۔ بارود کے سارے سوداگر اور زندگی سے فرار کا سبق دینے والے سارے رہنما، انسان اور خدا کے اس تعلق میں رخنہ ڈالنے کا سبب ہیں۔ اس تفا وت سے انسان ، انسان کو مارتا ہے۔ ورنہ ایک انسان کا قتل تو پوری انسانیت کا قتل ہے۔ مگر یہ سبق ہم منطق تک محدود رکھتے ہیں۔ لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ جینے کا ایک راستہ بلکہ بہتر راستہ مرنے اور مارنے کی منزل سے ہو کر گزرتا ہے۔ بس کمزور ایمان والے اس منزل کو پا نہیں سکتے اور اس ملک میں اہل ایمان وافر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ تو بتائیے دشمن کو ہماری صفوں میں گھسنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہم خود ہی اس کا کام آسان کئے دیتے ہیں۔

کہا اس بزرگ نے کہ بچو ، انتشار، افتراق اور فساد سے کہ اس راستے میں ہلاکت ہے۔ وہ بزرگ پھٹے حالوں دریا کنارے اپنے مرنے کا انتظار کرتا ہے۔ قوم نے جینے اور فساد سے زندگی پانے کا نیا راستہ تلاش کر لیا ہے۔ موت کے راستے ابدی حیات پانے کا راستہ۔ کون پوچھے کہ یہ کس خدا کا پیغام ہے ۔ کیوں کہ اسے ماننے والے میسر ہیں۔ آئیے دیکھئے ہمارے گھر، گلی، محلے اور بستی میں ایسے کتنے ہیں جو اس راستے پر چلنے والے یا اس راستے کو راست قرار دینے والے ہیں۔ کہ اسے آج کے عہد میں جہاد قرار دیا گیا ہے۔ جو اسے مسترد کرتے ہیں ، ان کے لئے موت کا پروانہ لکھا جائے کہ یہ منکر جہاد ہیں۔ ان کا ہماری صفوں میں کیا کام ۔۔۔ مگر نہ میں جہاد سے انکار نہیں کرتا۔ اس کی تشریح پر اختلاف کرتا ہوں۔ اختلاف انکار کی ہی پہلی منزل ہے۔ لاؤ شمشیر لاؤ۔ ایک گمراہ تو پکڑا گیا!!