پاک وطن کا مسخ چہرہ
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 02 / اگست / 2016
- 8905
آنکھوں میں سپنے سجائے دو بہنوں کو جن کی عمریں بمشکل بیس اور بائیس برس تھیں، ان کے غیرت مند بھائی نے شادی سے چند روز قبل قتل کر دیا۔
اس غیرت مند کے ’’بے غیرت‘‘ باپ نے فوری طور پر پولیس میں مقدمہ درج کروا دیا ہے اور اخباری نمائندوں کو بتایا ہے کہ اس کے بیٹے نے اس کا گھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔
سمجھ لیجئے یہ مگرمچھ کے آنسو ہیں کیونکہ پاکستان ایسے ہنرمندوں کا ملک ہے جہاں لوگ ہر ہتھکنڈے سے خاندان کی آبرو کی حفاظت کرنے کے ڈھنگ جانتے ہیں۔ پہلے حکم عدولی (بمعنی اپنی مرضی یا خواہش کا اظہار) پر اتری ہوئی بہنوں اور بیٹیوں کو ان کی گستاخی کی سزا، ان کا خون بہا کر دی جائے۔ پھر اس قتل کی پورٹ بھی خاندان خود ہی درج کروا دے تاکہ ملک کے قانون نے اسلامی شریعت کو سربلند کرنے کےلئے قصاص یا معاف کرنے کا جو حق عزیزوں کو عطا کیا ہے، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زندگی کے آخری سہارے ، بڑھاپے کی لاٹھی یعنی نرینہ اولاد کو معاف کر دیا جائے۔ یوں گھر کا معاملہ گھر میں ہی طے ہو جائے۔ ان معاملات کا تھانوں کچہریوں سے کیا لینا دینا۔ یہ معاملے تو گھر کی چہار دیواری میں ہی سمیٹنے چاہئیں۔
سو خاطر جمع رکھئے آج جو باپ آنسو بہاتا اپنا سب کچھ لٹ جانے ، تباہ ہونے کا مرثیہ بڑھ رہا ہے۔ چار چھ ماہ بعد اسے اس تباہی سے نکلنے کی ایک امید دکھائی دےگی۔ وہ اپنے اکلوتے ۔۔۔۔۔۔ چلئے اکلوتا نہ سہی پر بیٹا تو ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور اب پشیمان بھی ہے۔ بہنوں کو یاد کر کے دن رات آنسو بہاتا ہے۔ دیواروں سے سر ٹکراتا ہے۔ تو اب میں باپ ہوں۔ اتنا شقی القلب بھی نہیں ہو سکتا کہ اس کی ایک کوتاہی کو معاف بھی نہ کر سکوں۔
نہ یہ منافقت نہیں ہے۔ میں نے بیٹیوں کے وارث کے طور پر قانون کی پابندی کرتے ہوئے اور اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کےلئے پولیس میں رپورٹ درج کروا دی تھی۔ بلکہ بھگوڑے قاتل کو پکڑوانے میں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا تھا۔ وہ یوں کہ اس کے ان دوستوں کے ذریعے جن کے بارے میں مجھے پتہ تھا کہ وہ میرے بیٹے سے رابطے میں ہوں گے، پیغام بھجوا دیا تھا! اب بھاگتے کیوں ہو۔ خود کو قانون کے حوالے کر دو۔ گناہوں کی معافی مانگو۔ اللہ معاف کرنے والا ہے۔
تو سنا نہیں آپ نے ۔۔۔۔۔ اگر اللہ اپنے بندوں کے ہر قسم کے گناہ معاف کر سکتا ہے تو میں تو ایک کمزور انسان ، ایک بدبخت کا باپ ہوں۔ مان لیا اس سے نادانی ہو گئی۔ نہ اس کا ہرگز یہ مقصد نہ تھا کہ بہنوں کو مار ہی دے۔ وہ تو بس اچانک گولی چل گئی۔ اس نے خود گرفتاری دینے کے بعد میری پھٹکار سن کر میرے گلے سے لگ کر رو رو کر یہ بات بتائی۔ ورنہ اسے تو اپنی بہنیں بہت پیاری تھیں۔ بہت دلار کرتا تھا ان سے ۔۔۔۔۔۔۔
میرے تو جانو کہ جسم سے جان ہی نکل گئی۔ سوچا کیا میں صرف مرنے والیوں کا باپ ہوں۔ اس بدبخت کا بھی تو کچھ لگتا ہوں جو اب سر کے بال نوچ کر اپنی غلطی پر افسوس کا اظہار کر رہا ہے۔ باپ بیچارا کیا کرے۔ بیٹیوں کا خون دیکھا تو تھانے بھاگا۔ بیٹے کے آنسو دیکھے تو اسے معاف کر دیا۔
یہی ہمارے دین کا پیغام ہے۔ ناانصافی برداشت نہ کرو اور سنگدلی کا مظاہرہ نہ کرو۔ تو اس میں غلط کیا ہے۔ اس میں غلط ہو بھی کیا سکتا ہے۔
یہ تو روز کی بنیاد پر دہرایا جانے والا ڈرامہ ہے جو ہر تیسری گلی ، دوسرے محلے ، شہر شہر کھیلا جاتا ہے۔ تم نے نہیں دیکھا کہ ایف آئی آر FIR لکھنے والا تھانے کا منشی کیسی خوں خوار نگاہوں سے مجھے دیکھتا تھا کہ میں کیسا باپ ہوں جو ایک بیٹے کو پھانسی گھاٹ کی طرف دھکیلنا چاہتا ہوں۔ آخر میں کیا کرتا۔ مجھے میری بیٹیاں بہت پیاری تھیں۔ کیسے لاڈ کرتی تھیں۔ کتنی معصوم اور خدمت گزار تھیں۔ ظالم نے کیسے انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔
وہ تو بھلا ہو رحمدل تھانیدار کا۔ مجھے اپنے دفتر لے گئے۔ محبت و احترام سے کرسی پر بٹھایا۔ ٹھنڈا پانی ، گرم چلائے پلائی۔ دلاسہ دیا۔ پھر انہوں نے سوال کیا: ’’بابا جی بیٹیاں تو چلی گئیں۔ یوں بھی بیٹیاں تو پرایا دھن ہوتی ہیں۔ کون سا ساری زندگی کو گھٹنوں سے لگا کر رکھتے۔ انہیں جانا ہی تھا۔ ویسے نہیں تو یوں چلی گئیں۔ اب یہ تمہارے دل میں کیا سودا سمایا ہے۔ کڑیل جوان بیٹے کو قتل کے الزام میں پھنسا کر اسے پھانسی دلواؤ گے کیا۔ بیٹیوں سے تو محروم ہوئے ، اب بیٹا خود اپنے ہاتھ سے کیوں مارتے ہو‘‘۔
مانو بھلے آدمی کی باتیں میرے دل میں اتر گئیں۔ دنیا میں اب ایسے نیک خصلت کہاں ہوتے ہیں۔ جو دوسروں کا بھلا سوچیں۔ جو باپ کا درد سمجھیں۔ اور پولیس میں تو ایسے فرشتے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ وہ تو بس اللہ کا کرم تھا کہ اس نیک دل تھانیدار کے تھانے میں ہی ہمارا معاملہ آ گیا۔ بات تو یہ سولہ آنے درست تھی۔ اب بیٹا پھانسی پر جھول جائے گا تو کیا میری معصوم بیٹیاں لوٹ آئیں گے۔
لو اور سنو۔ میں تو ابھی الجھن میں ہی تھا۔ میری بچیوں کے خون میں رنگے چہرے آنکھوں سے اوجھل نہ ہوتے تھے کہ رات کو خواب میں دونوں ہی آ گئیں۔ شادی کے جوڑے پہنے، ہاتھوں میں مہندی لگائے ، زیور سے لدی مگر مرجھائی ہوئی۔ میں نے کہا بیٹا کیا تم خوش نہیں۔ اگر کہو تو یہ شادی منسوخ کر دوں۔ میں تو تمہاری خوشی کےلئے ہی اس رشتے پر راضی ہوا تھا۔ ورنہ تم تو جانتی ہو، ہمارے ہاں خاندان سے باہر رشتہ کہاں ہوتا ہے۔
دونوں میرے قدموں میں بیٹھ گئیں۔ گھٹنوں پر اپنے سر رکھ دیئے۔ ان کے آنسوؤں سے میرا وجود بھیگنے لگا۔ میں گھبرا گیا تو بڑی نے ہچکیوں میں پوچھا: ’’بھیا کہاں ہیں‘‘۔
اتنا سننا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ یوں لگا یہ سب سچ مچ کا واقعہ ہے۔ میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ پریشانی کے مارے ساری رات نیند نہیں آئی۔ صبح ہوتے ہی محلے کی مسجد کے امام صاحب کے پاس گیا اور سارا ماجرا سنایا۔ وہ خاموشی سے سنتے رہے۔ پھر بولے: ’’چوہدری صاحب یہ تو بہت صاف خواب ہے۔ یوں کہ جیسے حقیقت ہو۔ اس کی تعبیر کیا بتاؤں۔ یہ تو خود اپنی تعبیر ہے۔ آپ بہت بھولے ہو۔ لگتا ہے صدمے کا اثر دل کے ساتھ آپ کے دماغ پر بھی ہو گیا ہے۔ حوصلہ کرو۔ اٹھو۔ بہنوں نے بھائی کو معاف کر دیا ہے۔ اب آپ بیچ میں فوجداری کرنے والے کون ہوتے ہو‘‘۔
میں ہونق مولوی صاحب کا چہرہ دیکھتا تھا لیکن چھوٹے بھائی نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھر لے آیا۔ بیوی کو خواب اور مولوی صاحب کی باتیں سنائیں تو اس نے سر پیٹ لیا۔
وہ بولی: ’’مت ماری گئی ہے تمہاری۔ میں تو پہلے دن سے تمہیں کہہ رہی ہوں کہ یہ ظلم نہ کرو۔ میری معصوم نیک دل بیٹیوں کے نام پر بٹہ نہ لگاؤ۔ پر تم تو سدا کے ضدی اور اکھڑ ۔ کبھی آج تک کسی کی سنی ہے۔ بس ایک ہی رٹ لگا رہے ہو کہ خون کیا ہے تو سزا تو ملے گی۔ لو اب دیکھ لو۔ سن لو میری بیٹیاں کیا کہتی ہیں۔ ہائے رے میرے اللہ اس آدمی کو عقل دے‘‘۔
تو میں کیا کرتا۔ بات تو اب میری سمجھ میں بھی آ رہی تھی۔ جا کر تھانیدار کے پاؤں پکڑ لئے۔ کہا : ’’مائی باپ اب آپ ہی کا سہارا ہے۔ غلطی تو ہو گئی۔ لیکن میں کیا کروں۔ ایک طرف بیٹیاں دوسری طرف ان کی خواہش۔ مرنے والیوں کی بات کیسے ٹالوں‘‘۔
بھلے آدمی نے حوصلہ دیا اور پہلی پیشی پر ہی جج صاحب کو سارے حالات بتائے۔ یوں گڑگڑا کر ان سے انصاف کرنے کی درخواست کی جیسی میرے نہیں اس کے بیٹے کو پھانسی ہونے والی تھی۔ بس اللہ کے ہاں ہم سب کی کوئی نیکی کام آ گئی۔ جج نے بھی کوئی حجت نہیں کی۔ بس یہ پوچھا: ’’بابا جی تم اپنے قاتل بیٹے کو معاف کرتے ہو“۔ میں کہا: ’’میں کون ہوں جی معاف کرنے والا ، اللہ معاف کرے۔ جب مرنے والی سفارش کر رہی ہیں تو آپ ان کی خواہش کی لاج رکھ لو۔ اس بدنصیب کو بخش دو‘‘۔
کون جانے یہ ڈرامہ کس کس طرح سے کہاں کہاں رچایا جاتا ہے۔ کردار اور چہرے بدل جاتے ہیں۔ مارنے کے ہتھیار بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ موسم میں بھی اونچ نیچ ہو سکتی ہے۔ کبھی گرمی تو کبھی سردی۔ کبھی برسات تو کبھی بہار ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر کھیل پرانا ہی ہوتا ہے۔ بالکل ایک سا آغاز اور اس کا ایک ہی انجام۔ غیرت کی منڈیوں کے ان سوداگروں کے نزدیک جھوٹ سچ ، خدا اور مذہب ۔۔۔۔۔ کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ سب غیرت کے اس کھیل میں اوزاروں کی حیثیت رکھتے ہیں اور خوب کام آتے ہیں۔
یہ تو کافروں کے پیسے سے چلنے والی بعض تنظیموں کا کیا دھرا ہے کہ کوئی بھائی غصے میں آ کر غلطی کر بیٹھے یا باپ اللہ کے حکم پر معافی دے دے تو اس پر طوفان برپا کرتے ہیں۔ یوں لگتا ہے، ان کے گھروں میں مائیں بہنیں نہیں ہیں۔ انہیں غیرت اور خاندان کی عزت کا احساس ہی نہیں۔ یہ لوگ تو اس ملک سے مشرقی روایات کا جنازہ نکالنے پر تلے ہوئے ہیں۔
وہ بھلا ہو چند ہفتے پہلے قندیل بلوچ نام کی ایک مشہور سی لڑکی بھی بھائی کے ہاتھوں ماری گئی۔ قوم اس پر بحث کر کے تھک چکی تھی۔ اس لئے میرے گھر کی مٹی پلید ہونے سے بچ گئی۔ ورنہ یہ ہمارا بےحیا میڈیا اور یہ باہر سے پیسے لینے والی این جی اوز۔۔۔۔ کیسے گھروں کی باتوں کو کوٹھوں چڑھاتی ہیں۔ اللہ توبہ۔
پس نوشت:
اگر غیرت اور اس کے تحفظ کےلئے قتل کرنے کے ہتھکنڈے اور انہیں چھپانے کے طریقے برآمد کئے جا سکتے تو ہمارا پاک وطن اس تجارت میں سرفہرست ہوتا۔ خوب زرمبادلہ کماتا۔ یہاں کے غیرت مند باپ بھائی بلکہ مولوی اور ہمسائے ، مائیں اور پھوپھیاں ، تھانیدار اور منشی، جج اور جیلر ۔۔۔۔۔۔۔۔ سارے دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں پروفیسر لگے ہوتے اور اس انوکھے موضوع پر اپنے علم اور مہارت کی دھاک بٹھا رہے ہوتے۔