قائد کی برسی پر ایک نوحہ
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 15 / ستمبر / 2016
- 7753
قائد اعظم محمد علی جناح کی 68 ویں برسی بھی گزر گئی۔ سویلین اور فوجی قیادت نے مزار قائد پر پھولوں کی چادر چڑھائی، اخبارات نے خصوصی مضامین شائع کرکے بانی پاکستان کو خراج عقیدت پیش کیا اور الیکٹرانک میڈیا نے قربانی کے جانوروں اور ان کے مالکان کے اوصاف بیان کرنے کے دوران منہ کا ذائقہ بدلنے کےلئے اس بات کا ذکر بھی کر دیا کہ آج کے دن 68 برس قبل وہ شخصیت ہم سے جدا ہو گئی تھی جس نے ہندوستان کے مسلمانوں کو سیاسی شعور عطا کیا اور برصغیر سے انگریز کی روانگی سے پہلے ایک علیحدہ مملکت کے قیام کو ممکن بنایا تاکہ مسلمان انصاف اور مساوات کا وہ نظام استوار کر سکیں جس کی عدم موجودگی میں ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ ملک حاصل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی۔ آج جب مقررین اور مصنفین زور دار طریقے سے محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان اصولوں اور اقدار کو فراموش کر دیتے ہیں جو قائد اعظم کو عزیز تھیں اور جن کی بنیاد پر وہ نئی مملکت کو پروان چڑھتے دیکھنا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔۔ تو قائد کی روح اپنے مقبرے کے گرد بے چین گھومتی ہوگی اور بار بار کہتی ہو گی کہ میں نے یہ معاشرہ تشکیل دینے کےلئے تو علیحدہ خطہ زمین کی جدوجہد نہیں کی تھی۔ نہ میں نے نفرتوں کا وہ پیغام عام کیا تھا جو اس وقت مملکت خداداد پاکستان کے باسیوں کا امتیازی نشان بن چکا ہے!
ایسے میں اس ملک کے لیڈر اور عوام اپنے اس قائد کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے جس کی جہدوجہد ، دانشمندی اور اصول پرستی کے قصے بیان کر کے وہ اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بناتے ہیں اور پھر کسی بت کی طرح اس کی پرستش کرتے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ محمد علی جناح شاید وہ واحد سیاسی شخصیت ہیں جن پر پاکستانیوں کی اکثریت کا اتفاق رائے ہے۔ مٹھی بھر ماہرین اور ایک مخصوص طبقہ سے قطع نظر اکثریت جناح کی استقامت ، راست گوئی ، سیاسی فہم اور اولالعزمی کے بارے میں متفق ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ کہنے میں بھی کوئی ہرج نہیں ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح سے زیادہ اختلافی شخصیت بھی شاید اس ملک میں موجود نہ ہو۔ کہ ہر شخص جناح کو اس چوکھٹے میں فٹ کر کے دیکھنا چاہتا ہے جو اس نے اس عظیم تاریخی شخصیت کے بارے میں اپنے دل و دماغ میں استوار کر رکھا ہے۔ قائد کا ذکر کرتے ہوئے ہر شخص اس تصور کی بات کر رہا ہوتا ہے جو اس نے محمد علی جناح کے بارے میں قائم کر رکھا ہے۔ تاریخی واقعات ، تحریک پاکستان کے عوامل اور اس کے حصول کےلئے سامنے لائے گئے دلائل میں سے صرف ان حصوں کو قبول کیا جاتا ہے جو ہمارے اپنے تصور یا تعصب کی تصدیق کرتے ہیں۔ وہی ہمارے نزدیک قائد اعظم ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی صفت یا کمزوری سامنے لائی جائے گی تو ہم اسے گمراہی قرار دے کر مسترد کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ محمد علی جناح ولی اللہ سے لے کر سخت مذہب بیزار شخصیت کے طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ کوئی انہیں لبرل اور سیکولر قرار دینا چاہتا ہے اور کوئی انہیں دو قومی نظریہ کا خالق اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا عظیم مجاہد قرار دیئے بغیر بات کرنے سے گریز کرتا ہے۔ اس قسم کی متضاد تصویروں میں ہم اپنی اپنی جگہ پر فاتح اور کامیاب ٹھہرتے ہیں لیکن محمد علی جناح اور ان کی جدوجہد کے نتیجہ میں حاصل کیا گیا پاکستان ناکام ثابت ہوتا ہے۔
یہاں اس بات سے بحث مطلوب نہیں ہے کہ مسلمانوں کےلئے علیحدہ مملکت کا حصول کس حد تک درست فیصلہ تھا۔ اب یہ تاریخ دانوں اور سیاسی محققین کا کام ہے کہ وہ ہمارے ماضی کے اس پہلو پر غور کریں اور درس گاہوں میں طالب علموں کی رہنمائی کریں تا کہ وہ مستقبل کے بارے میں فیصلے کرتے ہوئے، وہ غلطیاں دہرانے سے گریز کر سکیں جو بوجوہ ماضی میں سرزد ہو چکی ہیں۔ آج کا استاد یا طالب علم تاریخ کا مطالعہ اور تجزیہ کر سکتا ہے لیکن وہ تاریخ کے دھارے کو موڑ نہیں سکتا۔ وہ ماضی کے ان فیصلوں کو تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا جو بہرحال ہماری موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ یعنی پاکستان غلط بنا تھا یا درست، یہ ایک اکیڈمک بحث ہے۔ اس پر ٹاک شوز یا اخباری کالموں میں سر پھٹول نہیں کی جا سکتی۔ اب اس سچائی کو مان لینے سے ہی بھلائی کا کوئی کام کیا جا سکتا ہے کہ اگست 1947 میں برصغیر تقسیم ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں ایک علیحدہ مملکت وجود میں آئی تھی۔ اس ملک کا نام پاکستان ہے۔ ہم سب اس کے باشندے ہیں۔ ہمیں مل کر اس ملک کو سب کےلئے ایک ایسا وطن بنانا ہے جہاں انصاف اور مساوات ہو، جہاں ظلم کو برداشت نہ کیا جائے، جہاں کسی شخص ، گروہ یا طبقے کو صرف اس لئے مسترد نہ کیا جائے کہ وہ اقلیت میں ہے، جہاں رہنے والی مذہبی اقلیتیں اس احساس محرومی کا شکار نہ ہوں جو تقسیم سے پہلے برصغیر کے مسلمانوں کا مقدر بن گئی تھی اور جس کے نتیجے میں ایک علیحدہ ملک حاصل کرنے کی جہدوجہد شروع کی گئی تھی۔
قائد اعظم کی ذات ، نظریات ، سیاسی خیالات اور تصور مملکت کے بارے میں ہم جو بھی جانتے یا سمجھتے ہوں، اگر ہم یہ یقین کرنے اور ماننے پر تیار ہو سکیں کہ وہ ایک اصول پرست اور پرعزم انسان تھے۔ وہ بنیادی طور پر قانون دان اور قانون کا احترام کرنے والے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کا مقدمہ لڑا تھا لیکن وہ سب عقائد اور قوموں کو احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ وہ اہل پاکستان کو مل جل کر کام کرنے اور اقوام عالم میں ممتاز مقام حاصل کرتے دیکھنے کے آرزو مند تھے ۔۔۔۔۔ تو یہ اس پاکستان کی تشکیل کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے جو محمد علی جناح بنانا چاہتے تھے۔ جناح مذہبی تھے یا نہیں لیکن وہ ملایت اور اس سے پیدا ہونے والی خرابیوں سے آگاہ بھی تھے اور پاکستان کو ان سے بچانا چاہتے تھے۔ اسی طرح انہوں نے یہ قرار دیا تھا کہ: ’’اب آپ آزاد ہیں۔ اب آپ اپنے مندروں ، اپنی مساجد یا اپنی مرضی کی عبادت گاہوں میں جانے میں خود مختار ہیں۔ آپ کا عقیدہ ، نسل یا ذات کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن ان چیزوں کا امور مملکت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔۔ ہم ایسے عہد کا آغاز کرنے والے ہیں جس میں کسی بھی طبقہ کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا۔ ذات پات یا عقیدہ کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہو گا۔ ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ (اس عہد کا) آغاز کر رہے ہیں کہ ہم سب ایک ریاست کے شہری ہیں جنہیں مساوی حقوق حاصل ہیں ۔۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے ہمیں اس نظریہ پر راسخ رہنا چاہئے اور وقت کے ساتھ یہ آپ پر واضح ہو جائے گا کہ ہندو، ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان ، مسلمان نہیں رہیں گے ۔۔۔۔۔۔ مذہبی حوالے سے نہیں کیوں کہ عقیدہ ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے۔ لیکن سیاسی لحاظ سے کہ ہم سب اس مملکت کے شہری ہیں‘‘۔
قانون ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں 11 اگست 1947 کو کی جانے والی تقریر کے اس اقتباس میں قائد اعظم نے نئی مملکت کےلئے رہنما سیاسی اصول واضح کرنے کی کوشش کی تھی۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اس تقریر کو جناح کے لبرل اور سیکولر نظریات کا پرتو کہنا غلط ہے کیوں کہ وہ صحیح العقیدہ مسلمان تھے اور اسلام کے رہنما اصولوں کے مطابق پاکستان کو چلانا چاہتے تھے، پھر بھی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قائد اعظم ریاست کو لامذہب مانتے تھے۔ وہ یہ کہہ گئے ہیں کہ عقیدہ افراد اور شہریوں کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے، ریاست کو مسلمان کرنے سے وہی نتائج سامنے آئیں گے جو ہندوستان کو ہندو بنانے کی کوششوں کے نتیجہ میں رونما ہو سکتے ہیں۔ وہ اسلام کو ضابطہ حیات مانتے تھے کیوں کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اسلام جمہوریت ، سماجی انصاف اور انسانوں کے درمیان مساوات کو نافذ کرتا ہے۔ وہ مملکت پاکستان کو اسلامی یا مسلمان قرار دے کر اس میں آباد دیگر عقائد کے ماننے والوں کو دوسرے درجے کے شہری قرار دینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ وہ قرارداد مقاصد ہو یا ہمارے انفرادی نظریات اور افعال ۔۔۔۔۔۔۔ ہم جب جب ریاست کو ایک عقیدہ سے منسلک کرنے کی بات کرتے ہیں ، جب دو قومی نظریہ کا نعرہ لگا کر اسلام زندہ باد اور باقی عقائد کے بارے میں متعصبانہ تصورات کا اظہار کیا جاتا ہے، ہم جب فرد اور ریاست کے رول میں تخصیص کرنے میں ناکام ہو کر ذاتی عقیدہ کو ریاست کی پالیسیوں پر حاوی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم صرف محمد علی جناح کے نظریات سے ہی انحراف کرنے کا سبب نہیں بنتے بلکہ ان اصولوں سے بھی انکار کررہے ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر یہ ملک قائم کیا گیا تھا۔
اقلیت کی وضاحت کرتے ہوئے محمد علی جناح نے ایک بار کہا تھا: ’’اقلیتیں کئی چیزوں کا مجموعہ ہو سکتی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کسی اقلیت کا عقیدہ ملک کے دوسرے شہریوں سے مختلف ہو۔ یا ان کی زبان مختلف ہو۔ وہ مختلف نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی ثقافت علیحدہ ہو۔ یا پھر مذہب ، ثقافت ، نسل ، زبان ، فنون لطیفہ ، موسیقی اور اسی طرح دوسرے خصائص کے مجموعہ کے سبب کوئی اقلیت بنتا ہو۔ یعنی ایک ریاست کے اندر علیحدہ گروہ موجود ہو۔ یہ گروہ اقلیت کے طور پر اپنے حقوق کا تحفظ چاہتا ہے۔‘‘ غیر منقسم ہندوستان میں اکثریت کے نمائندے مسلمان اقلیت کو یہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اسی عدم تحفظ کے بطن سے پاکستان کے تصور نے جنم لیا۔ اسی لئے پاکستان بننے کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نئی مملکت کو ایسی مثال بنانا چاہتے تھے جو دوسرے ممالک کے لئے اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے ایک نمونہ کی حیثیت اختیار کر لے۔ وہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو ہندو اکثریت کے معاشرہ میں جو حقوق نہیں مل سکے تھے ۔۔۔ مسلمان اکثریت کے ملک میں وہ سارے حقوق تمام اقلیتوں کو دیئے جائیں گے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے کون سا حق حاصل کرنے کےلئے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا اور اس کے لئے جدوجہد کی تھی۔ اگر نئے ملک میں بھی اقلیتوں کے ساتھ وہی سلوک روا رکھنا مقصود تھا جس کا سامنا ہندوستان میں مسلمانوں کو کرنا پڑ رہا تھا تو مساوی حقوق کا تصور ایک بے بنیاد نعرے کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ بدنصیبی سے اہل پاکستان نے اپنی مختصر تاریخ میں اس اصول سے انحراف کی مثال قائم کی ہے۔
1971 میں بنگلہ دیش کا قیام ان معنوں میں نظریہ پاکستان کو دفن کرنے کے مترادف کہا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کو اپنے ہی بنائے ہوئے ملک میں صرف مختلف النسل ہونے اور مختلف زبان بولنے کی وجہ سے اپنے حقوق سے محرومی کی شکایت پیدا ہوئی۔ اس شکایت کا جواب زور زبردستی اور عسکری کارروائی سے دیا گیا۔ اس طرح پاکستان شاید تاریخ میں پہلی جمہوری ریاست کے طور پر سامنے آیا جس کی اکثریت کو اقلیت سے شکایت کی وجہ سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد باقی ماندہ ملک میں جو درحقیقت چار ایسی اکائیوں پر مشتمل ہے جو 1947 میں قائم ہونے والے پاکستان میں آبادی کے اعتبار سے اقلیت ہیں ۔۔۔۔۔۔ ان عوامل کو سمجھنے اور اصلاح احوال کے لئے کوئی قدم اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اپنی غلطیوں کو ماننے اور باقی ماندہ ملک میں آباد لوگوں کو محرومیوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنے کی بجائے ہم نے بنگلہ دیش کے قیام کو ہندو کی سازش اور عالمی طاقتوں کا انتقام قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ اسی کج روی کے سبب ہم قائد اعظم کے تصور مساوات ، اسلام بطور ضابطہ حیات کے نظریہ اور مملکت کو غیر مذہبی ٹھہرانے کے اصول کو سمجھنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔
اس وقت پاکستان کی صرف مذہبی اقلیتیں ہی غیر محفوظ اور ناخوش نہیں ہیں بلکہ چھوٹے صوبوں میں آباد لوگوں کو بھی پنجاب کی بالا دستی اور وسائل پر ناجائز تصرف کی شکایات رہتی ہیں۔ ان شکایات کا ازالہ کرنے کی بجائے، ایسے تمام معاملات میں دشمن کی سازشوں کا سراغ لگانے کی کوشش ہمارا عمومی رویہ اور چلن بن چکا ہے۔
آج اس ملک کے بانی کا یوم وفات تھا۔ یہ ملک اس تصور سے کوسوں دور جا چکا ہے جس کی بنیاد پر اسے حاصل کیا گیا تھا۔ لیکن محمد علی جناح آج بھی ہم سب کے محسن ہیں۔ لیکن میرا قائد اعظم دوسرے کے قائد اعظم سے مختلف ہے۔ اس اختلاف کو ختم کرنے اور ایک عظیم لیڈر کے چھوٹے چھوٹے بت توڑ کر اسے ایک ہمہ جہت شخصیت کے طور پر قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ تب شاید ہم مملکت کے اس تصور کو سمجھ سکیں جو جناح کے نزدیک کامیابی کے راستے کی کنجی تھی۔ تب شاید ہم اپنے مسائل سے نجات حاصل کر سکیں۔ تب تک قائد کی برسی پر ایک مزید نوحہ لکھ کر دل کو سکون دینے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔