جنسی ذیادتی کا شکار ایک بچی کے لئے

جرمنی کے شہر برلن میں پولیس نے 29 سال کے ایک عراقی پناہ گزین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ مبینہ طور پر ایک 27 سالہ پاکستانی پناہ گزین نے اس شخص کی 6 سالہ بیٹی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس برلن کے ماؤبٹ کے علاقے میں واقع مہاجر کیمپ پہنچی اور پاکستانی شخص کو گرفتار کرکے پولیس کی گاڑی میں بٹھا رہی تھی کہ جذبات سے مغلوب مظلوم لڑکی کا 29 سالہ باپ چاقو ہاتھ میں لئے چلاتا ہوا ملزم کی طرف بڑھا۔ وہ پکار رہا تھا: ‘تم یہ گھناؤنا جرم کر کے زندہ نہیں رہ سکتے‘۔ معصوم بچی کو اپنی درندگی کا نشانہ بنانے والا تو بچ گیا لیکن کئی پولیس آفیسرز نے فوری طور پر فائرنگ کرکے عراقی باپ کو شدید زخمی کر دیا اور وہ اسپتال پہنچتے ہی دم توڑ گیا۔
اسی قسم کا ایک واقعہ یونان کے جزیرے لیسبوس LESBOS میں واقع ایک پناہ گزین کیمپ میں پیش آیا ہے۔ سولہ سترہ برس کے تین پاکستانی پناہ گزینوں نے ایک سولہ سال کے بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس ظلم کا شکار ہونے والے لڑکے کا تعلق بھی پاکستان سے تھا۔ تینوں ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
آج کا یہ تبصرہ چھ سال کی معصوم بچی اور سولہ سال کے مظلوم لڑکے کے نام ہے۔ اور ان تمام بچوں کے نام جنہیں دنیا بھر میں جنسی ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بادی النظر میں یہ دو واقعات معمول کے جرائم کا حصہ ہیں۔ اس قسم کے واقعات دنیا بھر کے مختلف ملکوں میں کسی نہ کسی صورت پیش آتے رہتے ہیں۔ تاہم ان دونوں واقعات میں یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ ان دونوں میں پاکستانی شہری ملوث ہیں۔ یہ واقعات ملک سے باہر پیش آئے ہیں۔ جنسی زیادتی کا ارتکاب کرنے والوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ یہ سب لوگ یورپ میں بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہوئے پناہ گزین کے طور پر یورپ پہنچے ہیں اور کیمپوں میں مقیم ہیں تا آنکہ ان کی درخواستوں پر متعلقہ حکومتیں غور کرتے ہوئے یہ فیصلہ کر لیں کہ انہیں ملک میں رہنے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا انہیں ملک سے نکال دیا جائے۔ گویا یہ سارے لوگ جن میں جرمنی اور یونان میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کا ارتکاب کرنے والے بھی شامل ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بے یقینی کا شکار ہیں۔ جرمنی یا کسی دوسرے یورپی ملک میں قیام کی اجازت ملنے کی صورت میں ان کی محرومی ، مجبوری اور غربت کے دن ختم ہو سکتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی صورت کوئی نوکری تلاش کر کے اتنی رقم ضرور کما سکتے ہیں کہ پاکستان میں ان کے اہل خاندان خوشحال زندگی بسر کر سکیں۔ درخواست مسترد ہونے کی صورت میں پاکستان واپسی ان کا مقدر ہے۔ جہاں حکومت کا کوئی ادارہ نہ تو ان کی دیکھ بھال کرنے کےلئے تیار ہے اور نہ ہی روزگار میسر آنے کا امکان ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ واپسی پر امیگریشن پولیس انہیں ایف آئی اے کے حوالے کر دے۔ اس طرح وہ ایک نئی مشکل میں گرفتار ہو جائیں۔ یا تو مختلف و متفرق دفعات کے تحت زندگی کے کچھ برس جیل میں گزاریں یا ان کا خاندان پیٹ کاٹ کر یا جائیداد فروخت کرکے اتنے روپے فراہم کرے کہ پولیس یا جج کا پیٹ بھر کو ان عزیزوں کو رہائی دلوائی جا سکے۔
 
اس تصویر کا یہ پہلو بھی اہم ہے کہ گزشتہ تین برس کے دوران پاکستان سے پناہ گزینوں کے روپ میں یورپ کے کسی بھی شہر میں پہنچنے والے یہ سارے لوگ انسانوں کو اسمگل کرنے والے گروہوں کے ذریعے یہاں پہنچے ہیں۔ پاکستان میں مسائل کے باوجود اس ملک کو جنگ زدہ نہیں سمجھا جاتا۔ اس لئے عام طور سے پاکستان سے سیاسی بنیادوں پر پناہ لے کر یورپ میں قیام کرنے کے خواہشمندوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صرف ایسے لوگوں کے معاملات میں سیاسی پناہ یا انسانی بنیادوں پر قیام کی اجازت دی جاتی ہے جنہیں اپنے ملک میں موت کی سزا کا اندیشہ ہو یا سیاسی بنیادوں پر انہیں شدید انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ یا انہیں عقیدہ کی بنیاد پر جان سے ہاتھ دھونے کا خطرہ لاحق ہو۔ تاہم پاکستانی درخواستوں کے حوالے سے اس قسم کی مثبت مثالیں شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہیں۔ یوں بھی پاکستان سے سیاسی پناہ کےلئے یورپ آنے والے لوگوں کی بہت بڑی اکثریت نام نہاد ’’اقتصادی مہاجرین‘‘ کی ہوتی ہے۔ یعنی یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو بہتر معاشی مستقبل کی تلاش میں ترقی یافتہ یورپ کا رخ کرتے ہیں اور وہاں روزگار حاصل کرکے ، ویسی زندگی گزارنے کا خواب دیکھتے ہیں جو انہیں اپنے ملک میں یعنی پاکستان میں میسر نہیں آ سکتی۔

اس بارے میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ گزشتہ برس کے دوران جو پاکستانی یورپ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں، وہ شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے جنگ سے متاثرین کےلئے یورپ کی سرحدیں کھولنے کی پالیسی کے نتیجہ میں ترکی اور یونان کے راستہ یہاں پہنچ سکے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزینوں کی آمد کی وجہ سے یورپ کو از سر نو اپنی سرحدوں کو بند کرنا پڑا۔ پھر بھی پندرہ بیس لاکھ لوگ یورپ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان میں سے دس لاکھ کو جرمنی نے قبول کیا ہے۔ اس کے علاوہ فرانس ، برطانیہ ، سویڈن اور دیگر یورپی ممالک میں بھی کافی تعداد میں پناہ گزین آئے ہیں۔ اس کے باوجود ایک بہت بڑی تعداد یونان اور ہنگری میں پھنسی ہوئی ہے۔ یورپی یونین نے ترکی کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے، اس کے تحت اب ترکی سے غیر قانونی طور پر سمندر پار کر کے یونان پہنچنے والے پناہ گزینوں کو واپس کر دیا جاتا ہے۔ یونان اور ہنگری وغیرہ میں موجود اکثر پناہ گزینوں کو بھی یورپ میں مستقل قیام کی اجازت ملنے کا امکان نہیں ہے۔

پاکستان سے جو لوگ بھی گزشتہ برس کے دوران جرمنی یا یورپ کے کسی ملک میں آئے ہیں، وہ ابھی تک بے یقینی کا شکار ہیں اور انہیں مستقل بنیاد پر یورپ میں رہنے کی اجازت ملنے کا امکان بمشکل 5 سے 10 فیصد تک ہے۔ پاکستان سے ایک مشکل سفر طے کرکے، پرصعوبت اور غیر یقینی صورتحال کا شکار لوگوں میں سے بعض جب جنسی حملوں جیسے گھناؤنے جرم میں ملوث ہوتے ہیں تو وہ اپنے ہم وطنوں کےلئے مشکلات میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں اور اپنے اس وطن کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں جس کا نام آتے ہی پھیپھڑوں میں ہوا بھر کر ’’زندہ باد’’ کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال تو پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا انہیں واقعی ’’زندہ باد‘‘ کا مطلب معلوم ہے۔ یا وہ مطلب جانے بغیر اور پاکستان کی حقیقی سلامتی چاہے بغیر ہی نعرہ زن رہتے ہیں۔ ملک سے باہر پاؤں نکالنے والے ہر شخص پر وطن سے نکلتے ہی یہ ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے رویہ اور طرز عمل سے یہ ثابت کرے کہ وہ ایک مہذب اور شائستہ معاشرہ کا باشندہ رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے اور مسلمان کہلوانے کا حق ادا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جنسی ہوس و حرص کے مارے لوگ اپنی زندگی تو برباد کرتے ہی ہیں لیکن وہ اپنی ذہنی پسماندگی اور مجرمانہ ذہنیت کی وجہ سے ملک و قوم اور اس عقیدہ کےلئے بھی شرمندگی کا سبب بنتے ہیں۔ وہی عقیدہ،  جس کےلئے یہ لوگ جان تک قربان کرنے کا اعلان کرتے نہیں تھکتے۔

نئے سال کے موقع پرمسلمانوں کے گروہوں نے جرمنی کے شہر کولون میں جب عورتوں اور لڑکیوں کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا تھا تو ان میں سے بہت سوں کی تو کبھی شناخت بھی نہیں ہو سکی۔ لیکن یورپ ہی نہیں دنیا بھر میں اس حوالے سے جو مباحث کئے گئے ان میں یہ سوال ضرور اٹھایا گیا کہ یہ مسلمان نوجوان عورتوں کا احترام کرنے کے مہذب رویہ سے نابلد کیوں ہیں۔ پھر اس سوال کا جواب تلاش کرنے والے ماہرین اور سیاستدانوں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کا عقیدہ انہیں عورتوں کو دوسرے درجے کی شہری سمجھنے کےلئے تیار کرتا ہے۔ اس لئے وہ نہ تو عورت کی عزت کرتے ہیں اور نہ ہی اسے معمولات زندگی میں مردوں کے برابر مقام دینے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ اسلام کے بہت سے ماہرین اور سارے مسلمان اس تجزیے پر سر پیٹ لیتے ہیں لیکن اس سچ کو تو دیوار سے مٹایا نہیں جا سکتا کہ یورپ آنے والے مسلمان خواہ وہ پناہ کی تلاش میں ہی کیوں نہ آئیں ۔۔۔۔۔ عورتوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ ایک ایسے دور میں جب شام و عراق میں داعش جیسےاسلامی خلافت قائم کرنے کے دعویدار مظلوم عورتوں کی منڈیاں لگا رہے ہوں اور دوسرے عقائد کی سب عورتوں کو ’’مال غنیمت‘‘ قرار دے کر غلام کا درجہ دے رہے ہوں اور کولون یا دوسرے یورپی شہروں میں مسلمانوں کے غول عورتوں پر بھوکے وحشی درندوں کی طرح جھپٹ رہے ہوں تو جانا اور بتایا جائے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلط فہمی ہی نہیں بلکہ تعصب اور امتیازی سلوک کے رویوں کی روک تھام کیسے ممکن ہو گی۔

پاکستان میں عورتوں کے حوالے سے غیرت ، اسلامی شعائر پر عملدرآمد ، حجاب اور احترام کے مباحث روز کا معمول ہیں۔ مذہبی جماعتیں ہی نہیں عام لوگوں کی بہت بڑی تعداد یہ تقاضہ کرتی ہے کہ عورت کےلئے پردہ کرنا ، حجاب پہننا یا خود کو مستور رکھنا اس لئے ضروری ہے تاکہ ان کا احترام کیا جا سکے، تا کہ مردوں کی جنسی خواہش بیدار نہ ہو، تا کہ معاشرہ پاکیزہ رہ سکے۔ یہ سارے لوگ معاشرے کو پاک رکھنے کا کام عورتوں کو برقعوں اور گھروں میں بند رکھ کر سرانجام دینا چاہتے ہیں۔ کوئی حرص زدہ آنکھوں اور شہوت زدہ مردوں کے بڑھے ہوئے ہاتھوں کو تھامنے اور ان پر روک لگانے کی بات نہیں کرتا۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ اس ملک کے مردوں کو عورت کے ساتھ سلوک کے بنیادی اسباق یاد کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی ملا ، مدرس ، لیڈر یا نعرے باز یہ نہیں بتاتا کہ عورت کے ساتھ مواصلت میں بنیادی اصول ان حدود کا ہے جو کوئی بھی عورت خود متعین کرنے کا حق رکھتی ہے۔ جب وہ ان حدود کا احترام مانگتی ہے تو دنیا کا کوئی عقیدہ ، قانون یا سماجی رویہ اس سے انکار نہیں کر سکتا۔

پاکستان میں گزشتہ دنوں خواجہ سراؤں کے ساتھ خاندان سے لے کر معاشرہ تک میں ظلم و زیادتی کے مباحث سامنے آئے ہیں۔ اس بارے میں تحقیق و جستجو کی کئی منازل عبور کی گئی ہیں۔ فطری عمل کے نتیجے میں ایک خاص طرح سے پیدا ہونے والے گروہ کے بارے میں یہ بتانے کی کوشش بھی کی گئی کہ کس طرح یہ لوگ معاشرہ میں جنسی بے راہ روی کا سبب بنتے ہیں اور نتیجہ میں اذیت ناک موت مرتے ہیں۔ لیکن ایسا کوئی محقق یہ کہنے کا حوصلہ نہیں کرتا کہ خواجہ سراؤں کو جنسی ہوس کا شکار کرنے والے ان مردوں کو بھی تلاش کیا جائے اور ان پر بھی تین حرف بھیج کر یہ واضح کیا جائے کہ اخلاقی گراوٹ کی اصل مثال ‘مردانگی‘ کے یہ نمونے ہیں۔

ملک میں جنسی گھٹن کا جو ماحول قائم کیا گیا ہے، عقیدہ اور سماجی اقدار کے نام پر جس طرح منفی اور ظالمانہ جنسی رویوں کو عام کیا گیا ہے، پورا معاشرہ جس طرح مرد کی عورت پر بالا دستی کا سبق گھروں ، مدرسوں اور پھر منظم دینی گروہوں کے ذریعے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں یاد کرواتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اسی کا ثمر ہے کہ برلن کے ایک اسپتال میں جنسی تشدد کا شکار ہونے والی 6 سال کی ایک بچی کا علاج ہو رہا ہے اور اسی شہر کے دوسرے اسپتال کے مردہ گھر میں اس کے 29 سالہ باپ کی لاش بے بسی کا نشان بنی ہوئی ہے۔ یونان میں ایک سولہ سال کا لڑکا اپنے ہی ہم وطنوں اور ہم عقیدہ لڑکوں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد اس صدمہ سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

کہہ لیجئے کہ یہ ایک دو یا چند افراد کا جرم ہے۔ پورے ملک یا معاشرے پر اس کا الزام کیوں کر عائد کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بات 6 سال کی معصوم لڑکی کی ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنا پڑے گی۔ ہمت ہے تو کوشش کر دیکھئے۔