پھندے میں پھنسی گردن

جو معاملہ کل تک حکومت اور فوج کے درمیان اختلاف یا غلط فہمی پر مبنی لگتا تھا اور جسے دور کرنے کےلئے وزیر داخلہ نے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی قیادت میں سات رکنی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ 6 اکتوبر کو ڈان میں شائع ہونے والی متنازعہ خبر کے بارے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سول ملٹری تعلقات کا معاملہ نہیں ہے بلکہ فوج کے علاوہ ملک کے متعدد سیاسی گروہ اس میں فوج سے بھی زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ اسی لئے اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے کمیٹی کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے اس کے چیئرمین اور بعض ارکان پر اعتراضات کئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ مسلم لیگ (ن) کے ہمدرد ہیں یا حکومت پنجاب کے ’ملازم‘ ہیں۔ اسی لئے یہ اس معاملہ میں انصاف نہیں کر سکیں گے۔ ملک میں شائع ہونے والی ایک خبر کو قومی سلامتی کے برعکس قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔ خبر کی تردید حکومت اور فوج نے یکساں طور سے کی ہے۔ لیکن فوج حکومت کی تردید کو قبول نہیں کرتی۔ اس کا اصرار ہے کہ خبر رساں کا پتہ لگایا جائے۔ اسی مقصد کےلئے وزیر داخلہ نے وزیراعظم کی منظوری سے تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن ملک کی اہم سیاسی پارٹیاں اب حکومت کے خلاف محاذ میں فوج کی طرفدار بن کر سامنے آئی ہیں۔ اس طرح پوشیدہ بات اب واضح ہو رہی ہے کہ معاملہ قومی سلامتی کو نقصان پہنچنے کا نہیں بلکہ اقتدار کے حصول اور معاملات پر فوج کے اختیار کا ہے۔

اس خبر کی اشاعت کے بعد سے فوج کا یہ خیال ہے کہ اہل پاکستان اور دنیا یہ محسوس کرنے لگی ہے کہ سول حکومت فوج کی رہنمائی کر سکتی ہے۔ بعض معاملوں میں اس سے اختلاف کر سکتی ہے اور غلطیوں کی صورت میں اس سے کہہ سکتی ہے کہ دیکھیں، اس طرح ناپسندیدہ عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ہمیں مل جل کر یکساں حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تاثر فوج کے پیمانے کے مطابق قومی مفاد یا قومی سلامتی سے متصادم ہے۔ کیونکہ فوج نے بوجوہ یہ گمان کر رکھا ہے کہ قوم کی سلامتی اور فوج لازم و ملزم ہیں۔ فوج کی کسی غلطی کی نشاندہی دراصل قومی مفاد کی خلاف ورزی ہے۔ ڈان کی خبر پر کھڑا ہونے والا سارا تنازعہ اسی بنیاد پر استوار ہے۔ فریق ثانی یعنی حکومت چونکہ اس معاملہ میں فوج کی رائے مسترد کرنے اور یہ اصرار کرنے کا حوصلہ نہیں کرتی کہ قوم و ملک کی سلامتی و مفاد کے امور پارلیمنٹ میں عوامی نمائندوں کی رائے کے مطابق طے ہو سکتے ہیں، اس لئے فوج کا مؤقف قبولیت حاصل کرلیتا ہے۔

جی ایچ کیو میں بیٹھی ہوئی فوجی قیادت اپنی فہم کو منتخب نمائندوں پر مسلط کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ اس اصول کو نافذ کرنے کے لئے حوصلہ کی کمی کے سبب حکومت خبر کے سوال پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں مسترد نہیں کر پاتی۔ بلکہ یکے بعد دیگرے تردید جاری کرکے یہ بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ فوج کے بارے میں کوئی بات کرنے کی ہمت ’’منتخب حکومت‘‘ نہیں کر سکتی۔ کیونکہ فوج اس ملک کی ان داتا ہے اور وہی سب معاملوں میں دانائی کے اعلیٰ ترین رتبہ پر فائز ہے۔ جب تردید کرنے، اخبار کو الزام دینے اور صحافی کے بیرون ملک سفر پر پابندی لگانے سے کام نہیں چلا تو وزیر اطلاعات کو یہ کہتے ہوئے فارغ کر دیا گیا کہ وہ خبر کی اشاعت رکوانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لئے انہیں یہ عہدہ چھوڑ دینا چاہئے۔ حالانکہ کسی جمہوری حکومت کا یہ اعلان کہ اس کے وزیر اطلاعات کا اصل کام صحافیوں کا پیچھا کرنا اور ’’ناپسندیدہ‘‘ خبروں کو اشاعت پذیر ہونے سے رکوانا ہے، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان چونکہ ایک محیر العقول معاشرہ ہے، اس لئے اس میں ہر شخص اور ہر ادارہ ہر وہ کام کرتا ہے جس کی اس سے توقع اور امید نہیں کی جاتی۔

جیسا کہ زیر بحث معاملہ میں ہمیں پتہ چلا ہے کہ وزیر اطلاعات کا اصل کام خبروں کی اشاعت کو رکوانا ہے۔ اگر صحافی اس کی بات ماننے سے انکار کرے تو وہ اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایڈیٹر پر دباؤ ڈالے اور پھر بھی بات نہ بنے تو مالکان سے بات کرکے مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ یعنی آسان لفظوں میں میاں نواز شریف بطور وزیراعظم اس لئے وزیر اطلاعات مقرر کرتے ہیں تاکہ وہ سرکاری قوت کو ملک میں آزادی صحافت کا گلہ گھونٹنے کےلئے استعمال کرے۔ اس ملک میں سو کے لگ بھگ ٹیلی ویژن اسٹیشن، دو سے تین سو ٹاک شوز کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان شوز کی میزبانی کرنے والے اینکرز اور ان کے مہمان تفصیل سے جمہوریت اور اس کے لوازمات کے بارے میں دیکھنے والوں کو معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں۔ گو کہ جملہ معترضہ کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اکثر و بیشتر ان عالم فاضل اینکرز اور ان کے مہمانوں کا طرز عمل دلیل دینے ، جوابی دلیل سننے ، قوت برداشت کا مظاہرہ کرنے اور مخالفانہ رائے کو قبول کرنے کے بنیادی انسانی، جمہوری اور صحافتی اصولوں کے برعکس ہوتا ہے۔ اس کے باوجود چونکہ وہ جمہوری روایات اور آزادی رائے کے چیمپئن کہلاتے ہیں تو پوچھا جا سکتا ہے کہ ان میں سے کتنے اینکرز نے وزیر داخلہ یا وزیراعظم سے رابطہ کرکے یہ وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ ایک وزیر کو کیوں کر خبر رکوانے کی ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔ اور اس طرح قومی مفاد اور ملکی سلامتی کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا۔ یا کسی مبصر نے یہی حوصلہ کیا ہو کہ وہ دوٹوک الفاظ میں حکومت کے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے یہ واضح کرتا کہ اگر حکومت نے صحافت اور صحافیوں پر اثر انداز ہونے کا ایجنڈا ترک نہ کیا تو ملک کے صحافی مل کر اس رویہ اور پالیسی کے خلاف احتجاج کریں گے۔

اسی لاتعلقی کا نتیجہ ہے کہ پرویز رشید فارغ ہوئے تو یہ قلمدان کسی دوسرے کو سونپ دیا گیا۔ سینیٹ کے چیئرمین اور عام لوگ پرویز رشید کو اپنی حکومت پر قربان ہونے والا مجبور محض سمجھ کر ان کی حوصلہ افزائی اور تعریف و توصیف میں تو ضرور مصروف ہیں لیکن ایک اصول کی بنیاد پر گفتگو کرنے اور منتخب حکومت کے غیر جمہوری چلن کو مسترد کرنے کےلئے کوئی آواز بلند نہیں ہوئی۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ ملک کے ٹیلی ویژن چینل اور ٹاک شوز جس ہیجان اور سنسنی خیزی کو فروخت کرکے اپنے وسائل میں اضافہ کرتے ہیں، وہ اصولی بحث کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتے۔ بلکہ ایک منتخب حکومت خواہ غلطی سے ہی سہی اگر پاک فوج کی پاک دامنی کے بارے میں ذرا بلند آواز سے بات کرنے کی جرات کرے تو اسے ’’سکیورٹی رسک‘‘ قرار دینے والوں کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں ایسے مفادات کو حاصل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ الزام لگانے اور پگڑیاں اچھالنے کے اس ماحول میں کسی کو یہ سوچنے اور پوچھنے کا ہوش نہیں ہے کہ اس طرح ملک کے عام آدمی کا جمہوری اقدار اور ووٹ کی طاقت پر بھروسہ مجروح ہوتا ہے۔ عام شہری اگر یہ سمجھنے لگے گا کہ اس کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہے تو انتخابات میں وہ ووٹ فروخت بھی کرے گا اور جمہوریت کو گالی بھی دے گا۔
 
اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ اس ملک کی حکومت جو لوگوں کے ووٹ لے کر برسر اقتدار آنے کی دعویدار ہے، خود اپنے طرز عمل سے جمہوری رویوں کی نفی کر رہی ہے۔ وہ اس اعتماد یا مینڈیٹ کی توہین کرنے کی مرتکب ہو رہی ہے جو عوام نے ووٹ کی صورت میں اسے عطا کیا تھا۔ بصورت دیگر ڈان میں شائع ہونے والی خبر کے بعد معافی مانگنے کا سلسلہ دراز نہ ہوتا۔ فوج کے کور کمانڈرز کو حقائق پر مبنی اور بے ضرر خبر کے بارے میں بیان جاری کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ وزیراعظم ہاؤس کے سارے ذی شعور بار بار اس مقصد کےلئے سر جوڑ کر نہ بیٹھتے کہ خبر کی تردید میں کون سا ایسا لفظ شامل کیا جائے کہ فوج کے جرنیل مطمئن ہو جائیں اور حکومت اس مشکل سے نکل سکے۔ یہ مشکل کیا ہے۔ سیکرٹری خارجہ کا یہ بیان کہ دنیا کے دارالحکومتوں میں جب کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بات کی جاتی ہے تو وہ حافظ سعید کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ حافظ سعید کون ہے۔ ایک عالمی دہشت گرد جس کی گرفتاری پر امریکہ نے 10 ملین ڈالر انعام مقرر کیا ہے۔ جس پر 2008 میں ممبئی حملوں اور ڈیڑھ سو انسانوں کی ہلاکت کا الزام ہے۔ اور وہی حافظ سعید جو پاکستان میں محفوظ ہے اور سرکاری پروٹوکول اور ان اداروں کے تحفظ میں سفر کرتا ہے، جن پر دہشت گردی اور دہشت گردوں کو ختم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ حکومت کیوں اس خبر کی تردید کرنا چاہتی ہے؟

یا یہ بات مشکل ہے کہ اس خبر میں درج ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اجلاس کے دوران کہہ دیا کہ صوبائی حکومت جب ناپسندیدہ عناصر کو گرفتار کرتی ہے تو خفیہ ادارے انہیں بچانے کےلئے آ جاتے ہیں۔ یا وزیراعظم کے اس بیان نے مشکل پیدا کی ہے کہ ان انتہا پسند گروہوں کو پروان چڑھانے کا فیصلہ مملکت نے کیا تھا۔ اس میں حکومت اور فوج دونوں شامل تھے۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ اب دونوں مل کر ان عناصر کے بارے میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔ عام فہم کا آدمی سوچتا ہے کہ جس بارے میں گلیوں، محلوں اور دیہات میں رہنے والے لوگ باخبر ہیں، جس بات کا چرچا بالواسطہ یا براہ راست مضامین ، تبصروں یا ٹاک شوز میں ہوتا رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں ایسی حساسیت کیوں کر داخل ہوگئی کہ پوری حکومت پر رعشہ طاری ہے اور وہ اس آواز کے ساتھ آواز ملانے کی پوری کوشش کر رہی ہے کہ یہ خبر جھوٹ ہے۔ یہ من گھڑت ہے۔ یہ کہانی کسی بدخواہ نے گھڑی ہے اور پھر اسے اخبار کے رپورٹر تک پہنچایا ہے۔ اسی لئے وزیر داخلہ بے چین ہیں کہ اس شخص کو تلاش کرنا بے حد ضروری ہے تا کہ قوم اس کی پہچان کر سکے۔

یوں تو اگر خبر جھوٹ ہے۔ بلکہ محض ایک افسانہ ہے تو اسے افسانہ سمجھ کر بھلایا کیوں نہیں جا سکتا۔ ایک جھوٹ سے قومی مفاد کو کیسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لیکن برسر اقتدار رہنے کے عادی لوگوں کو پتہ ہے کہ پاکستان میں حکومت کرنے والے، ایک طاقتور ادارے کی طرف سے ایک بیان جاری ہونے پر اس کی تردید نہیں کرتے۔ خواہ قوم کے اعتبار اور اعتماد کو داؤ پر لگانا پڑے۔ جمہور کے نام پر منتخب ہونے والی حکومت کا یہی غیر جمہوری طریقہ حکومت کو بے بس اور لاچار بناتا ہے۔ اسی لئے وہ ہاتھ باندھے کھڑی ہے کہ جان کی امان دی جائے۔ ادھر سے معافی ہو جائے تو شاید سپریم کورٹ میں پاناما نام کے عذاب سے بھی گلو خلاصی ہو سکے۔ ورنہ گلے میں پڑا پھندا سخت بھی کیا جا سکتا ہے۔

یہ جو پاکستان عوامی تحریک کے وکیل ہائی کورٹ درخواست لے کر پہنچے ہیں کہ فوج کے خلاف خبر چھپوانے والے عسکری اداروں کے دشمن ہیں۔ ان کی گرفت کرنے کا کام بھی انہیں سونپا جائے۔ اور یہ جو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ترجمان بڑھ چڑھ کر تحقیقاتی کمیٹی کی غیر جانبداری پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سارے مشقتی ہیں جو اشارہ ملنے پر رسی کھینچنے کے کام پر مامور ہیں۔ انہیں اس سے کیا غرض کہ یہ اشارہ درست وقت پر ہوا ہے یا اس کے نشانے پر جمہور کا چنا ہوا نمائندہ ہے۔

کیوں کہ ان سب کو بھی تو وزیراعظم کا سر طشت میں دھرا چاہئے۔ سوال جانبداری یا غیر جانبداری کا نہیں ہے۔ سچ اور جھوٹ کا بھی نہیں ہے۔ فوج کی ہمدردی یا دشمنی کا بھی نہیں ہے۔ سوال اقتدار کی منزل تک پہنچنے کےلئے مختصر راستے کو پانے کا ہے۔ یہ راستہ، اشارہ کرنے والوں کی پناہ میں ہے۔ وزیراعظم بھی اسی راستے کو مخالفین کی دسترس سے محفوظ رکھنے کے لئے سر کے بل معافی مانگنے پر مجبور ہیں اور متفرق سیاسی گروہ بھی اسی راستے کے ذریعے ہی اقتدار کے سنگھاسن تک رسائی چاہتے ہیں۔

ایسے میں کون ہے جو نواز شریف کے کان میں کہے کہ حوصلہ کرو، سیرل المیڈا کو خبر دینے کا اعتراف کر لو۔ ڈٹ جاؤ کہ عوام کے ووٹ کی طاقت نے انہیں یہ اختیار دیا ہے۔ لیکن نواز شریف نے پھندا گلے میں خود پہنا ہے اور جانتے ہیں کہ اسے کھینچنے کےلئے رسی کس کے ہاتھ میں ہے۔ اور کس کے اشارے پر یہ ہاتھ متحرک ہوں گے۔ سو معافی تلافی میں ہی بھلائی ہے۔ جان ہوگی تو امان ہوگی۔