امریکہ میں سازش کےآثار

واشنگٹن پوسٹ نے 2012 کے دوران جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے بھائی حافظ مسعود کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ جس طرح یہ دو بھائی اپنے نظریات اور طرزعمل میں مختلف ہیں، پاکستان کے باشندے بھی اسی طرح دو کروں میں بٹے ہوئے ہیں۔ نصف آبادی مذہبی انتہا پسندی کے مہلک اثرات سے عاجز ہے جبکہ باقی نصف کے لگ بھگ حافظ سعید جیسے مذہبی رہنماؤں کی باتوں پر کان دھرتی ہے اور اپنے مسائل کا ذمہ دار امریکہ اور یہودیوں کو سمجھتی ہے۔ حافظ مسعود 1985 میں طالب علم کے طور پر امریکہ چلے گئے تھے جبکہ حافظ سعید نے مدینہ یونیورسٹی سے تعلیم پائی اور پاکستان میں بھارت کے خلاف جہادی گروہ کی داغ بیل ڈالی۔ حافظ مسعود نے امریکہ میں معیشت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد ایک اسلامی سینٹر کی مسجد میں امام کے طور پر کام شروع کیا۔ وہ متوازن اور معتدل مزاج کے خوش مزاج امام تھے جنہوں نے مسلمانوں کے علاوہ اپنے علاقے کی یہودی آبادی اور ان کے مذہی رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کیا تاکہ مفاہمت و قبولیت کا رویہ رواج پائے اور ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیاں دور ہوں۔ اس دوران ان کا اپنے انتہا پسند بھائی سے رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ حافظ سعید کی طرح امریکہ اور یہودیوں کے خلاف نعرہ زن تھے۔ وہ خوشحال اور مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔ 2007 میں ویزا قواعد کی خلاف ورزی کے الزام میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ جیل سے بچنے کےلئے وہ حکام کے ساتھ معاہدہ کے نتیجے میں امریکہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

پاکستان آ کر حافظ مسعود نے نئے سرے سے زندگی کا آغاز کیا اور چھوٹے موٹے کاروبار سے اپنی گزر بسر شروع کی جبکہ اس کے ساتھ ہی اپنے بھائی کی تنظیم جماعت الدعوۃ کے ساتھ ترجمان کے طور پر کام کرنے لگے۔ اخبار کا رپورٹر جب چار سال قبل انہیں ملا تھا تو وہ بدستور امریکہ میں اپنی زندگی کو یاد کرتے تھے جبکہ امریکہ کے جس علاقے میں وہ رہ کر آئے تھے، وہاں بھی انہیں اچھے لفظوں میں یاد کیا جاتا تھا۔ رپورٹر کے مطابق حافظ مسعود میں حس مزاح برقرار تھی اور وہ امریکی لب و لہجہ اور محاورہ کے مطابق انگریزی بولنے پر قادر تھے۔ ان کی بیوی اور آٹھ بچے بدستور امریکہ میں ہیں جہاں امریکی حکام ان کے 5 بچوں اور بیوی کو ڈی پورٹ کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے۔ باقی تین بچے امریکہ میں ہی پیدا ہوئے تھے۔

پاکستانی معاشرہ میں فکری و سیاسی افتراق و انتشار کے بارے میں اس رپورٹ کی تفصیلات بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسی اخبار یعنی واشنگٹن پوسٹ نے اکتوبر کے آخر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں امریکی معاشرے کےلئے خطرناک قرار دیا تھا۔ اخبار نے ایک تفصیلی ادارتی نوٹ میں ہلیری کلنٹن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ ملک کو تقسیم کرنے اور نسل پرستانہ رجحانات کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ وہ سیاسی مقصد کےلئے معاشرے کے کمزور اور مختلف دکھنے والے لوگوں کے خلاف متعصبانہ اور نفرت انگیز باتیں کرتے ہیں۔ اسی لئے انتخاب کے دوران ان کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ واشنگٹن پوسٹ کے علاوہ درجنوں امریکی اخباروں کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود وہ ڈیمو کریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن کو ہرانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ 8 نومبر کی رات کو انتخاب جیتنے کے بعد اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سب امریکیوں کا صدر بننے کا وعدہ کیا تھا لیکن ملک کی بہت بڑی آبادی انہیں اپنا لیڈر نہیں مانتی۔ ملک میں خوف اور بے یقینی کی فضا ہے۔ غیر قانونی امیگرنٹس پریشان ہیں، مسلمان ہراساں ہیں اور معتدل مزاج لوگ حیران ہیں کہ اس قسم کا انتہا پسند شخص ملک کا صدر بننے کے بعد ملک کے بنیادی سماجی ڈھانچے کو تباہ کرنے کےلئے آخر کون سے اقدامات کر سکتا ہے اور ان سے کیوں کر بچا جا سکے گا۔

دو روز سے امریکہ کے متعدد شہروں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بعض شہروں میں ان مظاہروں نے فساد کی شکل اختیار کرلی ہے۔ ویک اینڈ پر مزید اور شدید مظاہروں کا اندیشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹر پیغام میں ان مظاہروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ناجائز اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیشہ ور مظاہرہ کرنے والے میڈیا کے اکسانے پر سڑکوں پر ایک منتخب صدر کے خلاف نکل رہے ہیں۔ اس پیغام نے امریکی مبصرین کو یہ سوچنے اور کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران تقسیم کرو اور ووٹ حاصل کرو، کی جس پالیسی پر چلتے ہوئے ٹرمپ نے کامیابی حاصل کی تھی، کیا وہ صدر منتخب ہونے کے بعد بھی اسے ترک کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ اگر وہ بدستور مخالفین کو اپنا دشمن اور سازشی قراردیں گے اور اپنی باتوں پر تنقید کرنے والے میڈیا کو حریف سمجھیں گے تو وہ بطور صدر ایک تقسیم شدہ قوم کو کس طرح متحد کرنے اور سب کے ساتھ مل کر امریکہ کی تعمیر کا مشکل اور سنجیدہ کام کر سکیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے نسلی بنیادوں پر تقسم شدہ امریکہ میں دراڑوں کو مزید گہرا کیا ہے۔ انہیں سفید فام ورکنگ کلاس نے ووٹ دیئے ہیں اور غیر سفید فام باشندوں نے زیادہ تر ان کے خلاف رائے دی ہے۔ اگرچہ ماضی قریب میں امریکی لیڈروں نے اس فرق کو کم کرنے کےلئے سخت کوشش اور محنت کی ہے۔ 2008 میں سیاہ فام باراک اوباما کی کامیابی سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ امریکہ میں رنگ و نسل کے امتیاز سے قطع نظر ہم آہنگی اور اتفاق پیدا ہوگا اور لوگ اس ملک کے شہری کے طور پر ایک دوسرے کو قبول کریں گے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یورپ یا دنیا کے متعدد دیگر ملکوں کے برعکس امریکہ کو تارکین وطن نے ہی آباد کیا تھا۔ وہاں پر آباد سب لوگ دوسرے ملکوں سے ہی وہاں پہنچے تھے۔ ان میں سفید فام سب سے پہلے ضرور پہنچے لیکن پھر انہوں نے غلاموں کے طور پر سیاہ فام باشندوں کو لانا شروع کر دیا۔ نسلی اعتبار سے تقسیم شدہ معاشرہ نے جب جدید رجحانات کی طرف سفر شروع کیا تو اس فرق کو ختم کرتے ہوئے سب کےلئے مساوی حقوق کے کام کا آغاز ہوا۔ یہ اصول تسلیم کیا گیا کہ یہ ملک آباد کاروں ہی کی وجہ سے پروان چڑھا ہے، اس لئے کسی گروہ کو اپنی نسلی شناخت کی وجہ سے دوسرے شہریوں پر ترجیح حاصل نہیں ہو سکتی۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی نے یہ واضح کیا ہے کہ معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوششیں ناکام ہیں اور امریکہ کی سفید فام آبادی بدستور اپنے مسائل کےلئے غیر سفید فام باشندوں کو قصوروار سمجھتی ہے۔

انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سوچ اور رجحان کو سامنےلانے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے امریکیوں کا روزگار چھیننے کا الزام میکسیکو اور چین پر عائد کیا کہ وہ سستی لیبر فراہم کرتے ہیں، اس لئے سرمایہ دار اپنا سرمایہ امریکہ سے میکسیکو لے گئے ہیں جہاں سے سستی مصنوعات محاصل کے بغیر امریکہ لائی جاتی ہیں۔ اسی طرح وہ چین پر تجارتی فوائد حاصل کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو باور کروایا کہ ملک کی بدعنوان قیادت نے جان بوجھ کر امریکہ کے سفید فام باشندوں کو نقصان پہنچانے کےلئے ایسے تجارتی معاہدے کئے جن میں امریکہ سراسر خسارے میں ہے۔ اسی تناظر میں ٹرمپ نے میکسیکو سے غیر قانونی طور پر ملک میں آنے والے لوگوں کا راستہ روکنے کےلئے امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا وعدہ کیا۔ اسی طرح دنیا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو بہانہ بنا کر مسلمانوں کو مشتبہ قرار دینا شروع کیا اور اعلان کیا کہ وہ برسر اقتدار آ کر امریکہ میں مسلمانوں کا داخلہ عارضی طور پر بند کریں گے تاکہ ایسے قوانین بنائے جا سکیں کہ کوئی ناپسندیدہ شخص ملک میں داخل نہ ہو سکے۔ اس طرح مسلمانوں کے خلاف نفرت اور ہیجان کی کیفیت کی حوصلہ افزائی کی۔ ٹرمپ کے اس قسم کے اعلانات اور نعروں کی وجہ سے امریکہ میں اقلیتی گروہوں کے خلاف شدید رجحانات سامنے آئے ہیں۔ ان زہرناک خیالات کے ساتھ منتخب ہونے کے بعد اگر بعض لوگ ان کے خلاف احتجاج کا آئینی حق استعمال کر رہے ہیں تو وہ انہیں شر پسند اور سازشی قرار دے کر اپنے تعصب اور گھٹیا سوچ کا اظہار کر رہے ہیں۔

8 نومبر کو ڈالے جانے والے ووٹوں کا تجزیہ یہ واضح کرتا ہے کہ ٹرمپ نسلی بنیادوں پر ووٹ لے کر صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہیں 58 فیصد سفید فام لوگوں نے ووٹ دیا ہے جبکہ ہلیری کلنٹن کو صرف 37 فیصد سفید فام ووٹ ملا ہے۔ اسی طرح ہلیری کلنٹن کو 88 فیصد سیاہ فام لوگوں نے ووٹ دیا جبکہ ٹرمپ کو صرف 8 فیصد سیاہ فام ووٹ ملا۔ ہسپانوی اور ایشین ووٹروں کی دو تہائی اکثریت نے ہلیری کے حق میں ووٹ دیئے جبکہ ان آبادیوں میں ٹرمپ کو ملنے والے ووٹ کی شرح 25 سے 29 فیصد کے درمیان رہی۔ نسلی تقسیم کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ عام اندازوں کے برعکس سفید فام خواتین ووٹروں کی اکثریت نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا۔ 53 فیصد سفید فام عورتوں نے ٹرمپ کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا جبکہ 43 فیصد نے ہلیری کلنٹن کو ووٹ دیئے۔ حالانکہ انتخاب سے پہلے یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ ٹرمپ عورتوں کے بارے میں ہتک آمیز اور گھٹیا خیالات کے حامل ہیں۔ اس کے باوجود سفید فام عورتیں انہیں ووٹ دینے کےلئے باہر نکلیں۔ اب یہ بات بھی غلط ثابت ہو گئی ہے کہ اس بار انتخابات میں ووٹ دینے والوں کی شرح بہت زیادہ تھی۔ اس بار 57 فیصد امریکیوں نے ووٹ دینے کا حق استعمال کیا جبکہ 2012 میں یہ شرح 62 فیصد اور 2008 میں 59 فیصد تھی۔ لیکن اس بار ٹرمپ سفید فام ووٹروں کو گھروں سے نکل کر ووٹ دینے پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہے جبکہ سیاہ فام ، ہسپانوی اور ایشیائی ووٹر اتنی بڑی تعداد میں ووٹ دے کر ہلیری کلنٹن کی حمایت کرنے میں ناکام رہے۔

نسلی بنیادوں پر ووٹ ڈالنے کا رجحان اس لئے بھی خطرناک ہے کہ امریکہ میں سفید فام آبادی کی شرح میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس وقت ملک میں سفید فام آبادی 70 فیصد ہے لیکن اس آبادی میں مرنے والوں کی تعداد شرح پیدائش کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ اسی لئے اندازہ ہے کہ 2032 تک ملک کی غیر سفید فام آبادی 40 فیصد ہو جائے گی۔ سفید فام شہریوں نے دوسری نسلوں کے ساتھ مشترکہ مفادات کی بنیاد پر سوچنے کا انداز نہ اپنایا تو غیر سفید فام آبادی میں اضافہ کے ساتھ معاشرتی افتراق و انتشار میں بھی اضافہ ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے ذریعے اس رجحان کو مزید قوی کیا ہے۔ لیکن اگر بطور صدر بھی وہ اسی قسم کے رویہ کی سرپرستی کرنے کا سبب بنے تو امریکہ میں نسلی تفاوت اور انتہا پسندی کے رجحانات میں اضافہ ہوگا۔

امریکہ کی اس انتہا پسندی کو مسلمان ملکوں میں پروان چڑھنے والے جہادی رجحان اور یورپ میں فروغ پانے والے قوم پرستی کے رویوں سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ درحقیقت یہ سب لوگ ایک ہی طرح کے رویہ کا اظہار کرتے ہیں۔ یعنی خود کو درست ثابت کرتے ہوئے دوسروں کو اپنے مسائل کی وجہ بتاتے ہیں اور مل جل کر معاشرے تعمیر کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ مسلمان ملکوں میں ایسے عناصر امریکہ اور دیگر مذاہب کو اپنے زوال اور معاشی و سیاسی مسائل کی وجہ بتاتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ یہی رویہ جب شدت اختیار کرتا ہے تو وہ دہشت گردی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ لیکن اس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا دعویدار امریکہ اب اپنے معاشرے میں ہی ان عناصر کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہا ہے جو ترقی پزیر ممالک، مسلمانوں یا دوسرے علاقے کے لوگوں کو اپنی معاشی زبوں حالی یا بے روزگاری کا سبب ماننے لگے ہیں۔ یورپ میں یہ گروہ قوم پرستی کے نام پر منظم ہوکر خطرناک مسلح جتھوں کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔ امریکہ میں بھی کوکلکس کلان KKK کے نام سے یہ عناصر موجود ہیں۔ لیکن جب قومی سطح پر سیاستدان نسلی تقسیم کا پرچار اور نمائندگی کریں گے تو یہ انتہا پسند گروہ زیادہ قوت سے تشدد اور دہشت گردی کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔ ان حالات میں امریکہ اور یورپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہوگی کہ وہ دنیا سے جس انتہا پسندی کو ختم کرنے کےلئے عالمی جنگ منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود ان کے اپنے معاشروں میں کیوں فروغ پا رہی ہے۔ اگر یہ ممالک اپنے ملکوں کے انتہا پسندوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دہشت گردی کو عذر بنا کر مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی کا سلسلہ جاری رکھیں گے تو وہ دنیا کو انتشار ، تصادم اور فساد کی طرف لے جانے کا سبب ہی بنیں گے۔

امریکی انتخابات نے ثابت کیا ہے کہ محرومی اور احتیاج کی وجہ سے ہی انتہا پسندی پیدا ہوتی ہے۔ سیاست دان جب ان عوارض کو دور کرنے کی بجائے اس رجحان کو سیاسی کامیابی کےلئے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے اور اپنے طرز عمل کی وضاحت سازش اور شر پسندی جیسی اصطلاحات سے کرنے لگتے ہیں تو وہ انسانی بھائی چارے اور افہام و تفہیم کے امکانات کو بھی کم کرتے ہیں۔