شہیدوں کو کٹہرے میں کھڑا نہ کریں

دو ہفتے قبل خضدار میں شاہ بلاول نورانی کی درگاہ پر ہونے والے خودکش حملہ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 52 ہو چکی ہے۔ عالمی دہشت گرد گروہ داعش نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ملک کی سول و عسکری قیادت نے اس حملہ کی مذمت کرتے ہوئے انتہا پسند عناصر سے بہرصورت نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب درجنوں گھروں کے چراغ گل ہوئے اور ایک سو سے زائد لوگ زخمی حالت اسپتال میں زیر علاج ہیں، ملک میں دین کے ایسے عالم اور حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنے والے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو درگاہ شاہ نورانی پر دھمال میں شریک لوگوں پر کفر کے فتوے صادر کرنے اور انہیں مذہبی دہشت گرد قرار دینے میں مصروف ہیں۔ اس قسم کی گفتگو ملک کے ایک نجی قومی ٹیلی ویژن چینل پر نشر ہو چکی ہے۔ صاحب گفتگو کو دھمال میں خواتین کی شرکت پر اعتراض تھا۔ اسی لئے وہ اسے مذہبی شدت پسندی سے تعبیر کر رہے تھے۔ یہ بحث ہمارا مقام نہیں ہے کہ اسلام کے احکامات اور ان پر عملدرآمد کے مختلف طریقوں پر بحث کی جائے لیکن دنیا کے ایک مسلمہ دہشت گرد گروہ کے اشارے پر جان لیوا حملہ میں شہید ہونے والے لوگوں کے بارے میں افترا پردازی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ اس قسم کے گفتگو کرنے والے شخص اور اسے نشر کرنے والے ادارے کو جان لینا چاہئے کہ اس طرح مذہب کی خدمت کرنے کی بجائے ملک میں مذہب کے نام پر فساد برپا کرنے والوں کے ہاتھ مضبوط کئے جا رہے ہیں۔

دنیا میں اسلام پر عمل کرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ ہے۔ ان کے مختلف طبقات اپنی صوابدید ، علم و فہم اور اکتساب کے مطابق مذہب پر عمل پیرا ہیں۔ عقیدہ کی تفہیم اور اس پر عمل کرنے کےلئے مختلف طریقوں کو اختیار کرنے کا رواج نیا نہیں ہے۔ اختلاف رائے کا سراغ طلوع اسلام کے ابتدائی سالوں میں بھی لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن ہر زمانے میں عقیدہ و مسلک سے اختلاف کرتے ہوئے بھی سب لوگ مل جل کر رہتے رہے ہیں اور ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوششیں بھی کرتے رہے ہیں۔ متعدد بزرگان دین کے اعمال و افکار سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک خاص طریقہ اور مسلک کو درست سمجھتے ہوئے مختلف طریقہ مذہب پر چلنے والے لوگوں کو مسترد نہیں کیا اور نہ ہی ان سے نفرت کرنے اور ان پر الزام تراشی کا سبق دیا۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات طیبہ تو اس بات کا سبق بھی دیتی ہے کہ معاشرے میں آباد دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ بھی فراخدلی کا سلوک کیا جائے گا، انہیں اپنے طریقے سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہوگا۔ اور وہ اپنی شریعت کے مطابق فیصلے کر سکیں گے۔ آج اگر کچھ لوگ اس اسوۃ حسنہ کے برعکس اور بزرگوں کے اختیار کردہ راستے سے علیحدہ کوئی طریقہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں تو وہ یا تو کم علم اور گمراہ ہیں یا جان بوجھ کر ایسے نظریات کی تبلیغ کرنا ضروری سمجھتے ہیں جو معاشرہ میں انتشار ، افتراق اور مذہبی بے چینی کو جنم دے۔ یہ عناصر کسی بھی مسلک میں موجود ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس قسم کی سوچ اور خیالات کو مسترد کرنے اور ان کے خلاف محاذ بنانے کی ضرورت ہے۔

شاہ بلاول نورانی کا مزار گزشتہ پانچ سو برس سے عقیدت مندوں کی توجہ  کا مرکز رہا ہے۔ ملک کے دور دراز علاقوں کے علاوہ دوسرے ملکوں سے بھی عقیدت مند روحانی فیض کےلئے اس درگاہ پر حاضر ہوتے ہیں۔ عقیدت مندوں کا دھمال اس درگاہ کی روایات کا حصہ ہے۔ بعض مسالک کے نزدیک یہ طریقہ غلط  ہو سکتا ہے اور اس پر علمی گفتگو کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن دور دراز علاقے میں واقع ایک درگاہ پر دھمال کا اہتمام کس طرح کیا جاتا ہے، اس بارے میں ان لوگوں کےلئے بات کرنا مناسب نہیں ہے جوعقیدت و فیض کے اس طریقہ کو مسترد کرتے ہیں یا جنہوں نے کبھی خود وہاں جا کر یہ مشاہدہ نہیں کیا۔ اس لئے ٹیلی ویژن مباحثہ کے دوران کسی مبصر کا یہ قرار دینا مناسب نہیں کہ خواتین دھمال میں شامل تھیں، جو ان کے بقول مذہبی دہشت گردی ہے۔ ایک تو یہ بات عام مشاہدے میں آتی ہے کہ جن درگاہوں پر دھمال ڈالی جاتی ہے، عام طور پر خواتین اس کا حصہ نہیں ہوتیں۔ مرد دھمال ڈالتے ہیں۔ خواتین ایک کونے میں یا علیحدہ حجرے سے اس کا مشاہدہ کرتی ہیں اور اس عمل کا حصہ بنتی ہیں۔ شاہ نورانی کی درگاہ پر ہفتہ کی شام اس دھمال کا اہتمام کس طرح ہوا تھا، اس کے بارے میں ان پانچ چھ سو لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں بتا سکتا جو اس موقع پر موجود تھے۔ ان میں 52 اللہ کو پیارے ہو گئے، سوا سو کے لگ بھگ زخمی حالت میں اسپتالوں میں داخل ہیں اور باقی ماندہ اس المناک سانحہ کے اثرات سے مغلوب اپنے گھروں میں اس صدمہ سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک ایسا مبصر جو واقعہ کا عینی شاہد نہیں ہے، اسے یہ حق حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ اس کے بارے میں ایک مفروضہ قائم کرے اور اس کے بعد اس مفروضہ کی بنیاد پر فتویٰ نما بیان جاری کرے۔ یہ رویہ دین کے احکامات کو سمجھنے کے مسلمہ طریقہ کار کے خلاف ہے۔

اس کے علاوہ درگاہ پر موجودہ عقیدت مندوں کے طرز عمل سے اختلاف کی بنیاد پر ایک ایسے وقت میں ان کے عقیدہ کو طنز و تشنیع یا تنقید کا نشانہ بنانا، غیر اخلاقی اور انسانی ہمدردی کے تمام اصولوں سے متصادم ہے۔ متاثرین کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہے اور بعض لوگ اس عقیدہ کو بنیاد بنا کر الزام اور ذمہ داری کا تعین کرنے کی مذموم حرکت کریں تو اسے شر پسندی ، ناروا مذہبی تکبر اور دل آزاری کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اس مذہبی رسم میں شرکت کرنے والے صرف اپنے طریقے کے مطابق عمل کر رہے تھے۔ نہ وہ دوسروں کا راستہ روک رہے تھے اور نہ ہی بندوق کی نوک پر کسی کو اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر رہے تھے۔ لیکن اس کے برعکس جن لوگوں نے ایک 14 سال کے بچے کو خودکش جیکٹ پہنا کر انسانوں کو ہلاک کرنے کےلئے درگاہ پر بھیجا تھا، وہ طاقت کے زور پر اپنا بیانیہ دوسروں پرمسلط کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایسے میں جو شخص دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کو شدت پسند قرار دے، وہ درحقیقت دہشت گردی میں ملوث لوگوں کے فعل کو جائز قرار دینے کی شرمناک اور غیر قانونی حرکت کر رہا ہے۔ ملک کی حکومت جس قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا دعویٰ کرتی ہے، اس کے تحت کسی عقیدہ کے خلاف نفرت انگیز گفتگو اور اشتعال انگیزی ناقابل قبول رویہ ہے اور ایسے شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ بدنصیبی سے ایسے خیالات کا اظہار اگر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے کیا جاتا ہے تو وہ زیادہ مہلک اور نقصان دہ ہے۔ اس قسم کے خیالات کو آزادی کے نام پر بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اظہار کی آزادی آپ کو اپنا موقف ، نظریہ اور خیالات بیان کرنے کا حق دیتی ہے لیکن دوسروں کو غلط قرار دینے اور کسی بھی عقیدے کے خلاف نفرت انگیز گفتگو کرنے کا اختیار نہیں دیتی۔

بدنصیبی کی بات ہے کہ ملک کا میڈیا سنسنی خیزی اور ریٹنگ کے دوڑ میں ہر قسم کی اخلاقی ، پیشہ وارانہ اور قانونی حدود کو پھلانگ رہا ہے۔ ملک کے بااثر طبقے بھی اپنے مفادات کےلئے ایسی بے قاعدگیوں کو برداشت کر رہے ہیں۔ ناجائز طرز عمل اختیار کرنے اور کسی مفاد کےلئے اسے قبول کرنے ہی کی وجہ سے ملک میں انتہا پسندی اور عدم برداشت کا ایک ایسا رجحان تقویت پکڑ رہا ہے جو نفرت اور مسترد کرنے کے رویہ کو جنم دیتا ہے۔ دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی اسی قسم کے رویوں کے بطن سے جنم لیتی ہے۔ جب تک ملک کے سب لوگ اور خاص طور سے خود کو تعلیم یافتہ اور صاحبان فہم و شعور قرار دینے والے عناصر خود پر یہ لازم نہیں کریں گے کہ انہیں ملک میں احترام ، محبت اور قبولیت کے طرز عمل کو فروغ دینا ہے، اس وقت تک انتہا پسندی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ جیتی نہیں جا سکتی  اور دی جانے والی قربانیاں رائیگاں جائیں گی۔ پھر ہم جتنا چاہیں شور مچاتے رہیں کہ ہم نے 50 ہزار لوگوں کی قربانی دی یا 60 ہزار دہشت گردی کی نذر ہو گئے، دہشت گرد کمزور نہیں ہوں گے۔ کیونکہ معاشرے میں لاشوں کو عقیدہ و مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے والے لوگ بدستور ان کے ہاتھ مضبوط کرتے رہیں گے۔ کوئی فوج اس وقت تک ان کی قوت کو توڑنے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتی جب تک زہریلے خیالات اور مذہب کے نام پر منافرت کا سبق دینے والے مبلغین کو لگام نہیں دی جاتی۔ اسی لئے آپریشن ضرب عضب اس وقت تک نامکمل رہے گا جب تک قومی ایکشن پلان کے تحت سب کو ساتھ لے کر چلنے والے معاشرے کی بنیادیں استوار نہیں ہوتیں۔
 
جو ملک اور قوم ہر فرد کو اپنی مرضی کے مطابق عقیدہ رکھنے اور اس کے مطابق جینے کا حق نہیں دیتی، وہ خود اپنے زوال اور تباہی کی طرف قدم بڑھا رہی ہوتی ہے۔ معاشرے انسانوں کو مورد الزام ٹھہرا کر نہیں، انہیں ساتھ لے کر چلنے سے معرض وجود میں آتے ہیں۔ اخلاقیات کا کوئی درس، سیاست کا کوئی اصول اور مذہب کی کوئی تعلیم انسانوں کو گروہوں میں بانٹنے اور اختلاف کی بنیاد پر مسترد کرنے کے اصول کو تسلیم نہیں کرتی۔ اہل پاکستان جتنی جلد یہ حقیقت جان لیں، اتنی ہی سرعت سے ملک میں امن بحال ہو سکے گا۔