کیا مسلمان شیطان ہیں؟

امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب ہونے کے بعد ملک کی مختلف اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر 700 حملے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک سو حملوں میں ملک میں آباد مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں کیلی فورنیا کی تین مساجد کو ایک دھمکی آمیز خط موصول ہوا ہے جس میں مسلمانوں کو گندے اور ناخوشگوار قرار دیتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس خط میں مسلمانوں کو ’’شیطان کی اولاد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی صفائی کریں گے اور اسے دوبارہ چمکا دیں گے۔ وہ اس کام کا آغاز مسلمانوں سے کریں گے۔ اس لئے مسلمانوں کو سامان باندھ کر امریکہ سے نکل جانا چاہئے۔ گزشتہ روز سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کے علاقے بریدنگ میں واقع ایک مسجد کی دیوار پر نیو نازی نعرے اور نشان ثبت کئے گئے۔ یہ حرکت کرنے والوں نے مسجد کے بیرونی دروازے کے قریب پٹاخے چھوڑے جس سے دھماکہ سنائی دیا۔ مسجد کی دیوار پر جو نعرہ تحریر کیا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ :’’مسلمانوں کو قتل کر دو‘‘۔ گزشتہ ہفتے کے دوران امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں وہائٹ ہاؤس سے چند سو میٹر کے فاصلہ پر ایک عمارت میں 200 کے قریب نازی قوم پرست جمع ہوئے اور انہوں نے سفید فام نسل کی برتری کا اعلان کرنے کے علاوہ مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف باتیں کیں۔ اجلاس میں ’’ٹرمپ زندہ باد‘‘ ، ’’سفید فام نسل زندہ باد‘‘ اور ’’فتح قریب ہے‘‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔

امریکہ میں اقلیتوں کے خلاف نفرت کے حوالے سے کام کرنے والے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ 2008 میں باراک اوباما کے صدر منتخب ہونے کے بعد قوم پرست گروہوں نے زیادہ منظم اور متحرک ہونا شروع کر دیا تھا۔ نفرت اور تعصب پھیلانے والے ان گروہوں کی تعداد 2008 میں 150 کے لگ بھگ تھی لیکن 2012 تک یہ تعداد بڑھ کر تیرہ سو سے زائد ہو چکی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد یہ گروہ بہت پرجوش دکھائی دیتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ ٹرمپ وہی باتیں کرتے ہوئے برسر اقتدار آئے ہیں جن کا مطالبہ ہم برس ہا برس سے کرتے آئے ہیں۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان قوم پرست گروہوں کو مسترد کیا ہے اور ان کی طرف سے اعانت کے اعلان کو ماننے سے بھی انکار کیا ہے لیکن امریکہ کے نومنتخب صدر کی دیگر باتوں کی طرح اقلیتوں اور خاص طور سے مسلمانوں کے بارے میں ان کی پالیسی کے متعلق کوئی دوٹوک بات کرنا ممکن نہیں ہے۔ وہ اب بھی اہم اعلانات کےلئے ٹوئٹر پیغامات کو استعمال کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور ماضی میں منتخب ہونے والے صدور کے برعکس انہوں نے ابھی تک باقاعدہ پریس کانفرنس منعقد کرکے اپنے عزائم اور ارادوں کے بارے میں کھل کر بات نہیں کی ہے۔ اس دوران سی بی ایس CBS کے پروگرام 60 منٹ کے ساتھ ایک انٹرویو اور گزشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز کے دفاتر میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ان کے ذریعے ان کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں کوئی واضح تصویر بنانا مشکل ہے۔ سی بی ایس کی رپورٹر نے جب ان سے نسلی حملوں اور اقلیتوں کے خلاف قوم پرستوں کی کارروائیوں کا ذکر کیا تو انہوں نے کیمرہ میں دیکھتے ہوئے یہ کہنے میں اکتفا کیا کہ ’’میں کہتا ہوں یہ بند کرو۔ اسے بند کیا جائے‘‘۔

ماہرین اور مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ جو لیڈر ڈیڑھ برس کی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تعصب کو ہوا دیتا رہا ہو، اس کی طرف سے صرف اتنا کہہ دینے سے کام نہیں چل سکتا کہ اب یہ کام بند کر دیا جائے۔ دراصل ٹرمپ نے متعصب قوم پرست عناصر کی حوصلہ افزائی کے ذریعے ایک خطرناک رجحان کو تقویت بخشی ہے۔ صدر منتخب ہونے کے بعد بھی انہوں نے کسی ذمے داری کا مظاہرہ کرنے یا اقلیتوں کے بارے میں ٹھوس پالیسی سامنے لانے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔ اس کے برعکس انہوں نے ابھی تک اپنی کابینہ میں جن لوگوں کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، ان کے بارے میں یہی کہا جا رہا ہے کہ وہ انتہا پسندانہ نظریات رکھتے ہیں۔ یہ کہنا تو غلط ہوگا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر کے طور پر نسل پرستانہ پالیسیاں اختیار کریں گے لیکن ان کی باتوں اور معاملات کو آسان یا عام فہم بنانے کے طرز عمل کی وجہ سے امریکہ میں نسل پرستی کو فروغ ضرور ملے گا۔ اس کا سب سے پہلا نشانہ بھی مسلمان ہی بنیں گے۔ اسی بات کا اظہار کیلی فورنیا کی مساجد کو ملنے والے خط میں کیا گیا ہے اور یہی بات اقلیتوں پر ہونے والے حملوں سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسلمانوں کو تختہ مشق بناتے رہے ہیں۔ صدارتی مباحث کے دوران وہ مسلمانوں کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ حکام کو انتہا پسند یا دہشت گرد عناصر کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ یعنی وہ یہ قرار دے رہے ہیں کہ تمام مسلمان اگر براہ راست دہشت گردی میں ملوث نہ بھی ہوں لیکن انہیں ان کے بارے میں خبر ہونی چاہئے۔

دسمبر 2015 میں سان برنارڈینو میں پاکستانی نژاد میاں بیوی تاشفین ملک اور سید رضوان فاروق نے فائرنگ کرکے معذور افراد کی ایک تقریب میں 14 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ برسر اقتدار آنے کے بعد عارضی طور پر امریکہ میں مسلمانوں کے داخلہ پر پابندی لگا دیں گے۔ یہ پابندی اس وقت تک عائد رہے گی جب تک امریکہ کے امیگریشن کنٹرول سسٹم کو اتنا مستحکم نہ کر لیا جائے کہ کوئی انتہا پسند ملک میں داخل نہ ہو سکے۔ صدر منتخب ہونے کے بعد اگرچہ انہوں نے اس اعلان کو نہیں دہرایا لیکن انہوں نے ابھی تک اس بات کی تردید نہیں کی ہے۔ مسلمانوں کے امریکہ داخلہ پر پابندی لگانا امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی ہو گی اور یہ امتیازی سلوک کے مترادف ہوگا۔ امریکہ کا صدر منتخب ہونے والا جب کوئی شخص ایک اہم اقلیت کے بارے میں اس قسم کا ابہام پیدا کرتا ہے تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ایسے انتہا پسند عناصر کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتا ہے جو طاقت کے زور پر اقلیتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ اسٹاک ہوم کی مسجد کے بارے نعرے میں اعلان کیا گیا ہے کہ ’’مسلمانوں کو قتل کر دو‘‘

اس قسم کی نفرت انگیزی کو صرف نعرے بازی یا مٹھی بھر لوگوں کی کارروائی کہہ کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام کی تکفیری تشریح کے مطابق دوسرے عقائد کے مسلمانوں کو مارنے والے گروہ بھی تعداد میں کم ہیں لیکن ان کی نفرت اور دہشت گردی کے سبب لاکھوں لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پوری دنیا شام اور عراق میں اس قسم کے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کرنے کےلئے مل کر کارروائی کر رہی ہے۔ اسی طرح ایساف ISAF کے اشتراک میں درجنوں ملکوں کی فوجوں نے پندرہ برس تک افغانستان میں انتہا پسندوں کا خاتمہ کرنے کےلئے جنگ کی ہے لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اسی طرح یورپ اور امریکہ میں جو گروہ مسلمان دشمن نعروں کی بنیاد پر قوت پکڑ رہے ہیں اور اپنا سیاسی نظریہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ اقلیت میں ہونے کے باوجود مہلک اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان ملکوں کے سیاستدان اگر سیاسی ضرورتوں کے خول سے باہر نکل کر ان رجحانات کا مقابلہ کرنے کےلئے کام نہیں کریں گے تو یہ انتہاپسند اقلیتی گروہ جو آج نعرے لگا کر یا دیواروں پر نفرت انگیز فقرے لکھ کر اپنے عناد کا اظہار کر رہے ہیں، مزید حوصلہ مند ہو سکتے ہیں اور معاشرتی تصادم کی صورتحال پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

ناروے جیسا چھوٹا ملک جولائی 2011 میں اس قسم کی نفرت اور تعصب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہ کاری اور ہلاکت کا تجربہ کر چکا ہے۔ اس سال 22 جولائی کو آندرس برائیویک نے اوسلو میں سرکاری دفاتر کے باہر دھماکہ کرکے  اور ایک جزیرے میں حکمران جماعت کے یوتھ ونگ کے فیسٹیول پر فائرنگ کرکے 77 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ برائیویک نے حکمران جماعت کو نشانہ بنایا تھا کیونکہ اس کے خیال میں اس طرح ان پالیسیوں کو ختم کروایا جا سکتا تھا جو نارویجئن قوم پرستی کےلئے خطرہ بنی ہوئی تھیں۔ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی امریکہ اور پورے یورپ میں نسلی اور مذہبی منافرت کو عام کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ اس سے قبل فرانس اور بیلجئم میں ہونے والے حملوں کے بعد یورپ میں مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف فضا تیار ہو چکی تھی۔ گزشتہ دو تین برسوں میں یورپ کے تقریباً تمام ملکوں میں نسل پرست قوم پرست عناصر کی قوت میں اضافہ ہوا ہے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والی پارٹیاں عوام کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ سویڈن جیسے ملک میں ’’سویڈش ڈیمو کریٹ‘‘ جیسی نسل پرست پارٹی ملک کی تیسری بڑی پارٹی بن چکی ہے۔

امریکہ میں ایک انتہا پسند صدر کے وہائٹ ہاؤس میں منتقل ہونے کے بعد صرف امریکہ کے 35 لاکھ مسلمانوں کےلئے ہی حالات مشکل نہیں ہوں گے بلکہ یورپ بھر میں آباد کروڑوں مسلمانوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا۔ اگرچہ یورپ اور امریکہ میں فی الوقت اس رجحان کو صرف امتیازی سلوک کی نعرے بازی سمجھا جا رہا ہے لیکن نفرت انگیز نعرے بازی کرنے والے یہ گروہ اب اپنے مقاصد حاصل کرنے کےلئے زیادہ سخت گیر اور پرجوش ہوتے جا رہے ہیں۔ یورپ میں ہونے والے انتخابات کی طرح امریکہ کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران بھی یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ نفرت کے نعروں کی طرف تیزی سے متوجہ ہوتے ہیں اور ان لیڈروں سے زیادہ توقعات وابستہ کرتے ہیں جو امتیازی سلوک اور قوم پرستی کی باتیں کر کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس مزاج کو داعش یا القاعدہ جیسا دہشت گرد رویہ اختیار کرتے دیر نہیں لگے گی۔

دنیا اس وقت دو انتہاؤں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ امریکہ کی سرکردگی میں دنیا کے بیشتر ملکوں نے ایک انتہا پسندی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے ہی ملکوں میں اتنی ہی مہلک اور خطرناک دوسری انتہا پسندی کو سمجھنے ، مسترد کرنے اور اس کا راستہ روکنے میں کامیاب نہ ہوئے تو دنیا ایک بڑے انتشار اور تصادم کی طرف بڑھنے لگے گی۔