بے نظیر کی بیباک بیٹیاں
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 03 / مارچ / 2017
- 9550
بے نظیر بھٹو کی صاحبزادیوں بختاور اور آصفہ نے اپنے والد آصف علی زرداری کے فیصلہ کے خلاف مؤقف اختیار کرکے ایک طرف پارٹی کے روشن خیال کارکنوں کی ہمت بندھائی ہے تو دوسری طرف یہ واضح کیا ہے کہ نوجوان نسل پیپلز پارٹی میں ترقی پسند روایات اور خواتین کے احترام کے بارے میں اقدار کاتحفظ کرے گی۔ یہ دونوں پہلو ملک کی سیاست اور پیپلز پارٹی کے مستقبل کے لئے امید افزا کہے جا سکتے ہیں۔ دونوں بہنوں نے سندھ کے ایک سیاست دان عرفان اللہ مروت کی سابق صدر سے ملاقات اور پیپلز پارٹی میں شمولیت پر اعتراض کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے پارٹی میں جگہ نہیں ہو سکتی جو خواتین کا احترام کرنے سے قاصر ہیں۔ بختاور نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں یہ بھی جتایا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت ایک خاتون کرتی رہی ہیں ۔ یہ پارٹی ہمیشہ خواتین کے حقوق اور احترام کے لئے کام کرے گی۔
آصف علی زرداری ان دنوں سندھ کے نمایاں وڈیروں اور باثر لوگوں سے ملاقاتیں کرکے انہیں پارٹی میں شامل ہونے پر آمادہ کررہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں عرفان اللہ مروت نے بھی آصف زرداری سے ملاقات کی تھی اور گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) سے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ مروت پر نوے کی دہائی میں بے نظیر بھٹو کی ایک دوست کے ساتھ جبری جنسی تشدد کے معاملہ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ 1991 میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر بے نظیر بھٹو نے اس حوالے سے احتجاج بھی کیا تھا۔ اسی لئے سابق وزیر اعظم کی صاحبزادیوں نے اپنے ٹوئٹ پیغامات میں اس اعلان پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ اپنے باپ اور پیپلز پارٹی کے معاون چیئرمین آصف زرداری کے خلاف اس واضح اختلاف کا اظہار اس لحاظ سے بھی معنی خیز ہے کہ اگرچہ بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے باقاعدہ چیئرمین ہیں لیکن آصف زرداری پارٹی کو اپنے طریقے سے چلانا چاہتے ہیں۔ بلاول کی طرف سے اس بارے میں کوئی واضح بیان تو سامنے نہیں آیا ہے لیکن اس سال کے شروع میں دو سالہ جلاوطنی کے بعد ملک واپسی پر آصف زرداری نے جو اقدامات کئے ہیں اور پارٹی کے حوالے سے جو فیصلے کئے گئے ہیں ، ان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ابھی تک اپنے بیٹے کو پارٹی چلانے کا مکمل سیاسی اختیار دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
بختاور اور آصفہ کے احتجاجی ٹوئٹ اس مصالحانہ پالیسی کے برعکس ہیں اور ایک واضح سیاسی مؤقف کا اظہار ہیں۔ یہ پالیسی سابقہ صدر کی مفاہمانہ اور سیاسی سودے بازی کی حکمت عملی کو مسترد کرتی ہے۔ آصف زرداری سندھ کے علاوہ پنجاب میں بھی سیاسی جوڑتوڑ کے ذریعے 2018 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے لئے جگہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ پارٹی کو منظم اور متحرک کرنے اور اس کے بنیادی انقلابی نعروں کا احیا کرنے کی بجائے جوڑ توڑ کی سیاست کو پارٹی کے لئے مناسب سمجھتے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کو انقلابی نعروں کی بنیاد پر استوار کرنے اور اس کے پرانے کارکنوں کو ساتھ ملانے کے لئے کام کا آغاز کیا تھا۔ تاہم آصف زرداری کی وطن واپسی کے بعد سے بلاول کا یہ کام تعطل کا شکار رہا ہے۔
خواتین کے حقوق اور پارٹی کی بنیادی اقدار کے حوالے سے بے نظیر کی دونوں بیٹیوں کا احتجاج پیپلز پارٹی سے روشن خیال ایجنڈے کی توقع کرنے والے لوگوں کے لئے امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے پارٹی کے پرانے اور نظریاتی کارکنوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اس کے علاوہ اس سیاسی مؤقف سے یہ پتہ چلتا ہے کہ نوجوان نسل بہر حال سیاسی معاملات میں اندھا دھند مفاہمت کی پالیسی سے نالاں ہے اور اصولوں کے بنیاد پر سیاست کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ یہ سارے پہلو ملک اور پیپلز پارٹی کے سیاسی مستقبل کے لئے خوش آئیند ہو سکتے ہیں۔