ایک مہاجر کی ڈائری
- تحریر مسعود مُنّور
- ہفتہ 02 / مئ / 2015
- 7978
میں مہاجر ہوں ۔ میرے آباؤ اجداد نے جنت الفردوس سے زمین پر ہجرت کی تھی ۔ ہم سب فردوسی الاصل ہیں ۔ فی الوقت ہم مہاجروں میں سے کسی کو بھی معلوم نہیں کہ ہمارا آبائی اور اصلی وطن فردوس کہاں تھا اور اب وہاں کون رہتا ہے ۔ شاید وہاں وہ خود کُش بمبار رہتے ہیں جو گندھک کے کُرتے پہن کر پھٹ جاتے ہیں ۔
ہم زمین زادوں میں سے فردوسی طوسی کے علاوہ کسی نے خود کو فردوسی نہیں کہلوایا اور اُس کے ساتھ شاہ نامہ کے معاوضے پر جو کچھ ہؤا ، میں اُس کا ذکر نہیں کروں گا۔ کیونکہ شاہ نامہ لکھوانے والے سلطان محمودنے سترہ بار ہندوستان پر لشکر کشی کی اور ان حملوں میں اُس کے ہاتھ لمبی دولت لگی مگر اُس نے فردوسی کو حسبِ وعدہ شاہ نامہ کا معاوضہ نہیں دیا ۔ یہ معاملہ بھی دو مہاجروں کے درمیان کا ہے کہ غزنوی جو ترکی الاصل تھا ترکی سے ہجرت کر کے غزنی کے تخت پر بیٹھا تھا اور فردوسی ایرانی مہاجر تھا ۔ لیکن ان دونوں مہاجروں کے درمیان ہونے والا معاہدہ فردوسی کی موت پر منتج ہؤا ۔ کیا دلدوز کہانی ہے ۔
اب یہ نئے مہاجروں کا قصّہ ہے جو اُنیس سو سنتالیس میں ترکِ وطن کر کے نو زائیدہ پاکستان میں آئے تھے کہ اس ملک کو اپنی اُمنگوں اور آرزوؤں کے مطابق تعمیر کر سکیں ۔ یہ چھ کروڑ مسلمان تھے جنہوں نے راتوں رات ہندوستان سے پاکستان کی سرزمین کی طرف ہجرت کی تھی ۔ ان مہاجروں میں میرے والدین بھی تھے اور میں بھی ۔ کچھ لوگ ہندوستان کے دوردراز صوبوں سے آئے تھے اور کچھ لوگ شمالی ہندوستان کے میدانوں اور پہاڑوں میں بیٹھے بیٹھے ہجرت کی گھاٹی عبور کر کے برطانوی ہند کی شہریت ترک کر کے پاکستانی بن گئے ۔
یہ ایک طرفہ ہجرت تھی ۔ اپنے ہندوستانی گھروں سے پاکستانی گھروں میں ہجرت کا سفر آسان نہیں تھا ۔ ہجرت کے اس سفر کا نظریاتی تناظر یہ تھا کہ نبی ء کریم ﷺنے اُمت کو ہجرت کا سندیسہ دیا تھا ، اور فرمایا تھا کہ اصل مہاجر وہ ہے جس نے خطا کے شہر کو چھوڑ دیا ۔ چنانچہ ہم سب مہاجروں نے خطا کے شہر سے ایک پاک استھان کی طرف ہجرت کی تھی تاکہ وہاں مل جُل کر اخُوت اور مساوات کی فضا میں رہ سکیں ۔
یہ ایک نظریاتی معاہدہ تھا جو اُن لوگوں کے درمیان طے پایا جنہوں نے مُسلم لیگ کی الگ وطن کی تجویز پر لبیک کہا تھا ۔ ہندوستان کے مُختلف علاقوں سے ترکِ وطن کر کے پاکستان آنے والے لوگ پاکستانی تھے ۔ وہ دور سے آئے تھے یا قریب سے اُن میں کسی کے پاس وجہِ امتیاز نہیں تھی ۔ وہ سب ایک جیسے سادہ دل مسلمان تھے ۔ لیکن ایم کیو ایم کے سربراہ کی تقریروں اور جماعت کی موجودہ سیاسی ریشہ دوانیوں کے درمیان ایک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا مہاجر کوئی الگ قومیت ہے ؟
اگر ایسا ہے تو ہم سب پاکستانی یکساں طور پر مہاجر ہیں اور ایک ہی قوم اور قومیت ہیں کیونکہ ہم سب نے ہی ہجرت کی ہے اور ہم انیس سو سنتالیس کے بعد اڑسٹھ برس سے پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ جو ہمارا اپنا ملک ہے ۔ اپنے ملک میں کوئی بھی مہاجر نہیں ہوتا اور اپنے گھر میں کوئی پرایا نہیں ہوتا ۔ چنانچہ مہاجر کی ہجرت کی داستان تمام ہوئی اور اب اپنے ملک کی تعمیر ، ترقی ، امن اور خوش حالی کا مرحلہ درپیش ہے ۔ لیکن ہم لڑ رہے ہیں اور ایک گروہ ہے جو مہاجر کیمپ سے نکل کر پاکستان کے گھروں میں آباد ہونے کی حقیقت کو تسلیم ہی نہیں کرتا ۔ اُس کے لئے ہجرت کا سات دہائیاں پہلے رونما ہونے والا واقعہ ہنوز تازہ ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان اکر بھی پاکستان نہیں آئے ۔
مجھے لگتا ہے کہ اس طرح مہاجر رہنے کا دعویٰ پیش کرنا خود کو بیرونی عنصر کے طور پر شناخت کرنا اور پیش کرنا ہے ۔ اس کا ایک تاثر یہ بنتا ہے کہ مہاجر پاکستانیوں سے الگ ایک خانہ بدوش گروہ ہے جو خود کو پاکستانیت کے مرکزی دھارے میں مدغم کر ہی نہیں سکا یا وہ دانستہ ایسا کرنا ہی نہیں چاہتا اور اپنی ہجرت کے خول میں بند رہنا چاہتا ہے ۔ یہ عام آدمی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایم کیو ایم کی موجودہ قیادت کی سیاسی حکمتِ عملی ہے، جس کا ماسٹر مائند ایک برطانوی شہری ہے ، جو مہاجر کے نام پر پاکستان کی دوسری اور تیسری نسل کے اُن لوگوں کو جن کی اکثریت سندھ میں آباد ہے ، گمراہ کر رہا ہے ۔
سچ تو یہ ہے کہ پاکستان آنے کے اڑسٹھ برس بعد بھی خود کو مہاجر کہنا پاکستان سے اپنے رشتے کو مشروط کرکے نظریاتی سوت کے تار سے لٹکانے کے مترادف ہے ۔ یہ پاکستانیت کی تردید ہے اور پاکستان کی ریاست پر یقین کے فقدان کا واضح اظہار ہے جو ایک سنگین نوعیت کا طرزِ عمل ہے ۔
مہاجروں کی متحدہ تحریک کی قیادت پاکستانیوں کی نئی نسلوں کو ، جو پاکستان میں پیدا ہوئیں اور پلی بڑھیں ، مسلسل یہ یاد دلاتی رہتی ہے کہ تمہاری جڑیں پاکستان سے باہر ہیں ۔ تم کسی اور دیش سے درآمد کر کے لگائے گئے پودے ہو ۔ تم اس دھرتی کے بیٹے نہیں ہو بلکہ کسی اور جگہ کے اینٹ روڑے ہو ۔
یہ پاکستان کی نئی نسل کی برین واشنگ ہے ۔ ایم کیو ایم کی جماعتی یونیورسٹی کے نصاب میں جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے وہ نہ صرف پاکستان کی ملی وحدت کے لئے بلکہ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لئے بھی خطرناک ہے ۔ اس قسم کی زہرناک اور خطرناک پالیسیوں کا سدِ باب لازمی ہے ۔ اور ایک برطانوی شہری الطاف حسین کو یہ حق کسی طرح بھی حاصل نہیں کہ وہ اپنے غیر ذمہ دارانہ اور طفلانہ بیانات سے پاکستانیوں کی دلآزاری کرے ۔ جن بچوں کو وہ ہجرت کا سبق پڑھا رہے ہیں، اُن کو گمراہ کرنا سنگین جرم ہے ۔
مہاجر ہونا ہمارا مقدر تھا لیکن مہاجر رہنا ہمارا مقدر ہر گز نہیں ہے کیونکہ ہمارا اپنا ملک ہے جسے الطاف حسین چھوڑ کر برطانیہ جا بیٹھے ہیں ، جہاں سے اُن کی پاکستان واپسی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔
ہمارے ملک میں مہاجروں کو برابر کا درجہ حاصل ہے ۔ اس وقت بھی ملک کے صدر مہاجر ہیں ۔ اس سے پہلے دو صدور جنرل ضیا اور جنرل پرویز مشرف پاکستان کے فوجی اور سول سربراہ رہ چکے ہیں ۔ وہ پاکستان کی تاریخ کا حصّہ ہیں ۔ قوم نے اُنہیں خوشدلی سے یا بادلِ نا خواستہ قبول کئے رکھا کیونکہ وہ پاکستانی تھے ۔
پاکستان ایک حقیقت ہے اور پاکستانیت ایک فلسفہ جس کی اساس اسوہ ء رسول ﷺ پر ہے ۔ ہمارا پاکستان اللہ کی ایک نادرِ روزگار مسجد ہے اور اس مسجد کا حسن یہ ہے کہ یہاں عیسائی بھی اپنی نماز پڑھتے ہیں ، اور ہندو سکھ بھی اپنی پوجا کرتے ہیں ۔ یہ ملک اقلیتوں کا ایک گلدستہ ہے ، جس کا ایک ایک پھول خُدا کا تحفہ ہے اور جن کو زبردستی مہاجر کیمپ میں بٹھایا جا رہا ہے ۔ وہ مہاجر ہر گز نہیں ہیں ۔ وہ ہمارے اپنے جگر گوشے اور دل کے ٹُکڑے ہیں ۔ جو اُنہیں گمراہ کرے گا اُس کا محاسبہ کیا جائے گا ۔ کیونکہ ہم ایسی روحانی طاقت سے لیس ہیں جو ہر طاغوت کا طلسم توڑ سکتی ہے ۔ جیوے جیوے پاکستان