کہاں کا فرد اور کہاں کے اِدارے
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 08 / جون / 2015
- 7179
پاکستان کے معاملات میں دخل اندازی کی میں نے کبھی خواہش کی ہے نہ سازش ۔ لیکن میری مِٹّی چونکہ کنارِ چناب کی ہے ، اِس لئے میری مِٹّی کا دُکھ آنسو بن کر میرے قلم سے بہنے لگتا ہے ۔
پاکستان میں کالم نگاری ایک پیشہ ہے اور بعض کالمسٹوں بلکہ ففتھ کالمسٹوں کا ایک ایک کالم لاکھوں میں بکتا ہے جبکہ ہم سمندر پار پاکستانیوں کا معاملہ اپنے آبائی وطن سے عشق کا ہے ۔ چنانچہ “ کاروان “ اس عشق کا اِظہار ہے اور میں اس کے ذریعے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑتا رہتا ہوں ۔ چنانچہ میں دن میں دو بار پاکستان سے آنے والی خبروں کا جائزہ لیتا ہوں اور پاکستان کی صورتِ حال پر نظر رکھتا ہوں ۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی گھر سے نکالا ہؤا آدمی اپنے گھر کے درودیوار کو حسرت کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اب گھر میں اُس کے لیے کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی جگہ ۔
کل ٹی وی کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے ایک دردناک خبر کیمرے کی آنکھ سے دیکھنے کو ملی جس میں دو نوجوان موٹر سائیکل سواروں کو راولپنڈی پولیس نے اس لئے گولی ماردی کہ وہ اُن کے اشارے پر رُکے نہیں ۔ اسے کہتے ہیں انصاف ۔ چٹ مقدمہ ، پٹ عدالتی فیصلہ اور موقعے پر سزائے موت اور پھانسی کے انتظار اور تکلف کے مراحل کے بغیر فوری طور پر سزا پر عملدرآمد ۔ اب کون کہہ سکے گا کہ پاکستان میں لوگوں کو انصاف نہیں ملتا ۔ اب تو پولیس ہی عدالت ہے اور پولیس ہی پھانسی گھاٹ کی جلاد ۔ اتنا سستا اور فوری انصاف کسی اور ملک میں کہاں ملے گا ۔
مرنے والے پاکستان کے عام نوجوان تھے ۔ چھان بُورا ۔ اُن میں کوئی مولا جٹ تھا نہ نُوری نت ۔ دونوں میں سے کوئی بھی اقتدار زادہ ، شریف زادہ ، کرسی زادہ ، مافیا زادہ یا اسمبلی زادہ نہیں تھا ۔ یہ پاکستان کے اُس طبقے کے لوگ تھے جن کا مقدر سڑکوں پر موت ہے ۔
پولیس کے بدلگام جانور جن کو وردیاں پہنا کر خالی جگہوں کی خانہ پُری کی جاتی ہے اور قانون کو اُن کے ہاتھ میں دے کر اُنہیں قانون کے محافظ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ، اپنے کردار کے اعتبار سے بدترین قانون شکن ثابت ہو رہے ہیں ۔ یہ لوگ سرِ راہ ڈکیتیاں کرتے اور جیبیں تراشتے ہیں ۔
میں یہاں واضح کرتا چلوں کہ جیسے پانچوں اُنگلیاں برابر نہیں ، اسی طرح پولیس کا ہر اہل کار ڈاکو یا جیب کترا نہیں مگر بدقسمتی سے بہت سے جیب کترے ، ڈاکو ، اُٹھائی گیرے اور رسہ گیر بھی سفارش کے چور دروازے سے پولیس فورس میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں عمران خان سیاسی پولیس کا نام دیتے ہیں اور پولیس کو غیرسیاسی بنانے کی بات کرتے ہیں ۔
پولیس کا محکمہ صوبائی محکمہ ہے ، جو صوبائی انتظامیہ کا قانون نافذ کرنے والا اہم ادارہ ہے ۔ انتظامیہ کے چاند ستارے ایک تو اپنے ذاتی تحفظ کے لئے اور دوسرے اپنی سیاسی قوت میں اضافے کے لیے ایسے نا افراد کو پولیس میں بھرتی کر لیتےہیں جو پولیس فورس کے بجائے غُنڈہ فورس کے لائق ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی پولیس فورس میں شمولیت صوبے اور صوبے کے عوام کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے اور اس نے پولیس کے ادارے کو اذیّت کیمپ میں تبدیل کردیا ہے ۔
ہمارے ملک کے سیاسی چانڈو خانے میں قسم قسم کے جعلی اور بیمار نظریات پھیلائے جاتے رہے ہیں ۔ اُن میں ایک نظریہ سسٹم کی تبدیلی کا ہے ۔ اس تبدیلی میں اِدارے اور افراد ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں لیکن نام بدل جاتا ہے۔ کبھی پارلیمانی جمہوریت ، کبھی بنیادی جمہوریتوں کا نظام ہوتا ہے ، کبھی فوجی آمریت آ جاتی ہے ، کبھی باوردی اسلام نازل ہوجاتا ہے۔ ایسی تبدیلیاں مسلسل آتی جاتی رہتی ہیں لیکن نہ تو قانون کی بالادستی کی ہوا چلتی ہے، نہ ہی معاشرے کی مجموعی اخلاقیات بدلتی ہیں اور نہ ہی عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہوتا ہے ۔
اس طرح کی تبدیلیاں اکثر و بیشتر وقتی طور پر ترقی کی جھلکیاں دکھاتی ہیں لیکن یہ تبدیلیاں ہمیشہ عارضی ثابت ہوتی ہیں اور دور رس بالکل بھی نہیں ہوتیں ۔ چنانچہ کشکول توڑنے کا اعلان کرنے والا جب پیش منظر سے پس منظر میں چلا جاتا ہے تو کشکول جوں کا توں موجود ہوتا ہے اور قوم کا مونہہ چِڑا رہا ہوتا ہے ۔
اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ تبدیلی لانا اداروں کا کام نہیں افراد کا کام ہے ۔ ایسے افراد جو خود اپنی ذات میں انقلاب لا چکے ہوں وہ اداروں کے ذریعے تبدیلی کا ہما بن کر اڑتے اور ملک کو سیدھی راہ پر ڈالتے ہیں ۔ قرآن نے اس کا ذکر یوں کیا ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک تبدیلی نہیں لا سکتی جب تک اُس کے افراد تبدیل نہ ہوجائیں :
خُدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہین بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
چنانچہ فرد کو تبدیل کئے بغیر سسٹم کی تبدیلی کا نعرہ ایک بہت بڑا سیاسی فراڈ ہے جس کے ذریعے عامتہ الناس کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے ۔ ہماری بدقسمتی سے ہمارے یہاں تبدیلی کا پرچم ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو خود کو بدل نہیں سکے ہوتے مگر مذہب کا ڈھول بجا بجا کر تبدیلی کا بھنگڑا ڈالتے رہتے ہیں ۔ ان لوگوں کے اقدامات میں نہ اسلام ہوتا ہے اور نہ ہی تبدیلی ۔ چنانچہ جب ایک حکومت اپنا وقت پورا کر کے رخصت ہونے لگتی ہے تو اُس کے ساتھ ہی اُس کے تبدیلی کے غُبارے سے ہوا نکل جاتی ہے اور ملک کی ترقی کا خواب چکنا چور ہوجاتا ہے ۔
لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ایسا کیوں ہؤا ہے اور کیوں ہوتا ہے ۔
میں بھی یہ کالم لکھ کر اپنے فرض سے سبکدوش نہیں ہؤا ۔ کالم بھی ایک طرح کا سیاسی بیان ہوتا ہے جو غیرسیاسی لوگ رقم کرتے ہیں ۔ اور میری یہ تحریر میرے لئے ایک خواب ہے جس کی تعبیر کیا ہوگی میں نہیں جانتا ۔ میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ پاکستان میرا آبائی ورثہ ہے اور یہاں ایسا معاشرہ قائم ہونا چاہیے جو دنیا بھر ایک مثالی معاشرہ ہو ۔
کیا کبھی ایسا ہو سکے گا ؟