تبدیلی کا اطلاقی علم
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 14 / جون / 2015
- 7409
اس برس اگست کے وسط میں وطنِ عزیز اڑسٹھ برس کا ہو جائے گا ۔ اس سے قطع نظر کہ پاکستان اپنی جغرافیائی حدود میں جو تھا ، وہ اب پہلے جیسا نہیں ہے ۔ ممکن ہے تقسیم سے پہلے یہ ملک کوئی خواب یا نظریہ رہا ہو مگر تقسیم کے بعد سے پاکستان ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے ۔
اور یہ جیتی جاگتی ریاست اپنی حدود میں بسنے والی قوم سے مثبت تبدیلی کا تقاضا کرتی رہی ہے اور آج بھی کر رہی ہے ۔ لیکن بد قسمتی سے آج کا پاکستان ایک شکستہ آئینہ ہے جس میں قائد اعظم کا چہرا دو نیم ہو کر نظر آتا ہے ۔ سب کو یاد ہے کہ قائد اعظم کی ایک آنکھ سن اِکہتر کے موسمِ سرما میں ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں نکال لی گئی تھی ۔ اور اُس آنکھ سے رستا خون اب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی اچکن کا تمغہ ہے اور قائدِ اعظم کی بائیں آنکھ اُن لوگوں کو دیکھ رہی ہے جو ٹھوکریں کھا کر اور مونہہ کے بل گر کر بھی کچھ سیکھ نہیں پائے ۔
پاکستان کی معاشرتی ہیئت اور اُس کے اقتصادی ڈھانچے کو بدلنے کے لیے پچھلی چھ دہائیوں میں بہت سی فکری لہریں اُبھریں مگر ڈوب ڈوب گئیں ۔ ان فکری تحریکوں میں ترقی پسندوں کی تحریک ، چار مارشل لائیں، نت نئے ناموں کے چولے بدلتی مسلم لیگیں ، قومی نظریاتی جماعتیں ، جماعتِ اسلامی اور اُس کی ہمنوا مذہبی سیاسی جماعتیں اور پیپلز پارٹی سرِ فہرست ہیں ۔ یہ جماعتیں اب تاریخ کی فکری شاہراہ پر ماضی کی یادگاریں ہیں۔ مگر تازہ ملکی صورتِ حال میں جن دو ناموں کا بڑا چرچا ہے، وہ ہیں عمران خان کی پاکستان تحریکِ انصاف اور مولانا طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک ۔ یہ دونوں جماعتیں تبدیلی کی بات کرتی ہیں اور موجود سیاسی ڈھانچے کو دھاندلی کی پیداوار قرار دیتی ہیں ۔
لیکن کیسی تبدیلی ؟ تبدیلی کی نوعیت کیا ہو گی؟
سسٹم کی تبدیلی یا واضح الفاظ میں نظامِ حکومت کی تبدیلی ۔
سسٹم یا نظام کیا ہیں ؟ مروجہ پارلیمانی جمہوریت ، آمریت ، مارشل لا ء ، بنیدی جمہوریتوں کا نظام ( الیکٹورل کالج ) ۔ ان ناموں کا بار بار تذکرہ ہوتا ہے لیکن اِن دونوں لیڈروں میں سے کوئی بھی سسٹم یا نظام کی کوئی تعریف نہیں کرتا کہ سسٹم ہوتا کیا ہے ۔ میری صوابدید کے مطابق تبدیلی کے یہ علمبردار چہروں کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں اور بعض مواقع پر وہ تبدیلی کے آنے کی نوید بھی سناتے ہیں اور بر ملا کہتے ہیں کہ “ تبدیلی “ تو آ گئی ہے ۔ مگر وہ تبدیلی کہاں آئی ہے اور یہ کس طرح کی تبدیلی ہے ۔ پاکستان کے اندر جھانک کر دیکھیں تو تمام صوبوں میں پنجابی کہاوت کے مطابق “ اندھی پیس رہی ہے اور کُتّے چاٹ رہے ہیں “ ۔ اس صورتِ حال میں اصل دھاندلی تو فرد کی تبدیلی کے بجائے سسٹم کی تبدیلی کا نعرہ اور پیغام ہے ۔
میں اپنی بات آگے بڑھانے کے لیے سسٹم کی مکتبی تعریف کا اعادہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ سسٹم کی تبدیلی کا نعرہ ہی غلط ہے ۔ اصل مسئلہ یا مرحلہ جو ہمیں درپیش ہے وہ اداروں کی تبدیلی کا نہیں فرد کی تبدیلی کا ہے ۔ میں جس مذہبی فکری سکول سے وابستہ ہوں ، اُس کا معاشرتی اقتصادی تبدیلی کا اطلاقی علم یا مکینکس الگ ہیں ۔ وہ اطلاقی علم کہتا ہے :
“ لا یغیر ما بقوم ، حتیٰ یغیّر ما بانفسھم “ ۔ قرآن
خُدا کی طرف سے یہ ایک واضح حکم ہے کہ قوم کو بدلنا ہے تو فرد کو بدلو ۔ کیونکہ بدلا ہؤا فرد ہی قوم میں انقلاب کی بنیاد بن سکتا ہے اور جو لوگ فرد کو بدلے بغیر سسٹم اور اداروں کو بدلنے کی بات کرتے ہیں وہ تبدیلی کے نعرے کی آڑ میں اقتدار پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ اسلام کی آمد کے بعد کفار میں سے ایک ایک فرد کو صداقت اور امانت کاری کا سبق پڑھا کر متقی بنایا گیا اور پھر وہ افراد جب بدر کی جنگ میں کفار کے مقابلے کے لئے جمع ہوئے تو ان کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی ۔ پھر ان بدلے ہوئے افراد کی تعداد بڑھتی گئی اور جب مکّہ فتح ہؤا تو سب نا افراد نے ہتھیار ڈال تو دئے مگر با دلِ نا خواستہ ۔ چنانچہ جو لوگ ابو سفیان کی پناہ میں آئے وہ اس پتھر پر نہیں پسے تھے ، جس پر پس کر صداقت و راستبازی کی حنا رنگ لاتی ہے ۔ ابو سفیان کی پارٹی کے لئے فتح مکہ شکست فاش تھی اور پھر اسی شکست کا بدلہ ابو سفیان کے پوتے یزید ابنِ معاویہ نے کربلا کے میدان میں نواسہ ء رسول ﷺ سے لیا ۔ یہ تاریخ ہے اور ہم اس تاریخ کے گرفتار مگر ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اس اقدام کو راست نہیں جانا کہ اداروں اور نظاموں کو بدلنے کے لیے فرد کو بدلنا کتنا ضروری ہے ۔
جب ہم انقلاب یا تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو اُس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم انفرادی شعوری کوششوں سے اپنی زندگی ، اپنا طرزِ عمل ، اپنا کردار اور اپنے اندازِ بودوباش کو تبدیل کریں اور انصاف اور مساوات کے تقاضوں کے مطابق ایک نام نہاد “ شریف “ کی نہیں بلکہ ایک متقی مسلمان کی سی زندگی بسر کریں ۔ ایک مسلمان کے وقار ، عزت نفس اور منصب کا حسن وہ شعوری تبدیلی ہے جو اسے قانون کا پابند شہری بناتی ہے۔ ایسا شہری جو معصوم ہو ۔ معصوم وہ ہوتا ہے جو جرم کرنے کی صلاحیت کو تج دیتا ہے اور جرائم پیشگی اور لا قانونیت سے یکسر دستبردار ہو جاتا ہے ۔
جرم کی اہلیت کو ترک کر دینے کا اظہار آپ کو سڑکوں پر ٹریفک کے قانون کی پاندی سے ہوتا ہے اور دفاتر میں سرکاری کارِ منصبی ذمہ داری سے ادا کرنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔ اور یہ نظم و ضبط جو نظام کی روح ہے اپنے مونہہ سے آپ بولتا سنائی دیتا ہے ۔
یہ معصومیت اپنی نوعیت کے اعتبار سے کیا ہے ؟ یہ مذہب کا جوہرِ مذہبیت ہے اور یہی اسلام کی اسلامیت ہے ۔ یہ معصومیت آئین اور قانون کی پابندی کی تربیت ہے جو فرد کی عادتِ ثانیہ بن جاتی ہے ۔ یہ وہ صلاحیت ہے جو کسی مذہبی نظریاتی ریاست کے شہری کا طرہء امتیاز ہوتی ہے ۔
اور جب ایسے معصوم لوگ ملک کے قومی ادارے چلاتے ہیں تو ملک امن کے پاؤں پہن کر خوش حالی کی تانیں اُڑاتا اور ترقی کا ملہار گاتا ہے ۔ محبّت کی تتلی خوش بختی کی چوڑیاں پہن کر گھروں کے باورچی خانوں میں روٹیاں پکاتی ہے اور سکولوں میں خُدا کے فرشتے بچوں میں علم و دانش کے خزانے بانٹتے ہیں اور یہ تبدیلی انتخابات سے نہیں آتی، فرد کی تبدیلی سے آتی ہے :
زمیں کا نام بدل ، آسماں کا نام بدل
یہ لفظیات پرانی ہے ، اب کلام بدل
خُدا کو ان کی ضرورت نہیں رہی مسعود
تو میرے ملک کے رہبر بدل ،عوام بدل