مُقدر کی چاردیواری میں قید ایک قوم

آزادی حاصل کرنا جوکھوں کا کام ہے ۔ آزادی کے حصول کے لئے قوموں کو افراد کی قیادت میں آگ اور خون کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے ۔ صبر آزما تحریکوں کی طول طویل  مشقت اُٹھانی پڑتی ہے لیکن ۔ ۔ ۔

لیکن آزادی حاصل کر کے اُسے برقرار رکھنا ، اُس کی ناموس کی حفاظت کرنا اور غلامی سے رہائی پانے والے لوگوں میں آزادی کو برتنے ، اوڑھنے اور پہننے کا ذوق پیدا کرنا مشکل تر ہوتا ہے ۔ اور جب آزادی کا بیج پھوٹ کر چھتنار درخت نہ بن  پائے  تو وہ بیج کس کام کا  ؟

اور یہ ہے وہ سوال جو میں نو آبادیاتی تسلط سے رہائی پانے والے خطّے کے لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں  کہ جس آزادی کا حاصل بے پایاں جہالت ، بے کنار کرپشن ، پے در پے جنگیں اور دہشت گردی ہو ، اُس آزادی کا معیار اور کوالٹی کیا ہے ؟
اِس سوال کا جواب اُس عام آدمی کے پاس نہیں  ہے جو پچھلی سات دہائیوں سے کسمپرسی اور حکمران قوتوں کی غلامی میں بسر کر رہا ہے ۔

حقیقی آزادی وہ ہوتی ہے جو بامعنی ہو اور تکمیل پا کر ایک خوبصورت معاشرت تعمیر کرے  لیکن کوئی قوم اگر حکمران قوتوں کی ہوسِ اقتدار ، کرپشن ، منی لانڈرنگ ، زر پرستی  اور بھتہ خوری  کے پنجرے میں ڈال دی جائے تو تو وہ آزادی کا منصب کھو بیٹھتی ہے ۔ ایسی قوم اپنے نظریات اور اُن کے عملی اطلاق  کو باہم مدغم ہوتے نہیں دیکھ پاتی اور اُسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ زندگی کا حقیقی چہرا کیسا ہے ؟

جب کسی قوم پر اس نفسیاتی غلامی میں  پون صدی بیتنے کو ہو تو اُسے آزادی کے ہجے بھی یاد نہیں رہتے ۔
پاکستانی قوم جس زندان میں  اسیر ہے اُس کی چاردیواری کی ایک دیوار عسکریت  ہے ، دوسری دیوار مُلائیت ہے  ، تیسری دیوار سیاسی مافیا ہے اور چوتھی دیوار نوکر شاہی ہے ۔ اِس چار دیواری کے اندر ہر وہ جرم سرزد ہوتا ہے جو معاشرے کو منتشر ، افراد کی صفوں کو تتر بِتّر  اور امنِ عامہ کو تباہ کرتا  چلا جا رہا ہے ۔  یہ چاروں دیواریں ملک کے طاقتور ترین اداروں کے بل پر کھڑی ہیں مگر  باہمی ہم آہنگی اور توازن سے محروم ہیں  ۔ ان چاروں دیواروں کو  مضبوطی سے تھام کر رکھنے کے لیے وحدت اور یگانگت کی جس چھت کی ضرورت ہوتی ہے وہ ایک عرصہ ہؤا ڈھے چکی ہے ۔

چنانچہ چھت سے محروم یہ قوم  ایک طرف آسمانی بلاؤں کا براہِ راست نشانہ بنی ہوئی ہے اور دوسری طرف چاردیواری کے اندر  چھپے چور قوم کی پونجی لوٹ کر بیرونی ممالک منتقل کر رہے ہیں ۔
اِس المیے کا سب سے درد ناک پہلو  یہ ہے کہ یہ چور چوہے اور دیمک کے کیڑے انہی چاروں دیواروں میں چھپے ہوئے ہیں جو ایک دوسرے کو چور چور بھی پکارتے ہیں اور ایک دوسرے پر کیچڑ بھی اچھالتے رہتے ہیں ۔

ان چاروں ادارہ جاتی دیواروں کو احساس تک نہیں کہ ان کی باہمی چپقلش اور آویزش کتنی نقصان دہ ہے ۔ سب ادارے طاقت کے نشے میں مدہوش مست ہاتھی بنے ، ایک دوسرے کی حدود میں غدر برپا کرتے پھرتے ہیں ۔  وہ ایک دوسرے پر سونڈ لہرا لہرا کر چنگھاڑتے ہیں مگر کوئی بھی نہ تو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتا ہے اور نہ ہی اپنے فرضِ منصبی کو ہی پہچانتا ہے ۔ اگر کسی طرف سے ذمہ داری کا احساس دلایا جائے تو ہر سفید ہاتھی اس تنقید کو اپنی دم پر پیر کے مترادف جانتا ہے اور انتقامی کاروائی پر اتر آتا ہے ۔

یہ صورتِ حال بے حد تشویشناک ہے ۔ ان اداروں کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ایک چیز کی شدید کمی ہے اور وہ ہے خود تنقیدی اور خود احتسابی ۔  نہ تو عسکریت ہی اپنے احتساب پر تیار ہے اور نہ ہی  ملائیت ۔ ان کی دیکھا دیکھی باقی کے دو اداروں  سیاسی مافیا اور  نوکر شاہی نے بھی  بہت سی بُری عادتیں اپنا لی ہیں اور  وہ ہر طرح سے   بگڑ کر رہ گئے ہیں ۔

یہ منظر نامہ  عذاب کی کس کتاب کا دیباچہ ہے  اور یہ صورتِ حال کیا کہتی ہے ؟
نزولِ  عذاب سے تو  اللہ  محفوظ ہی رکھے مگر یہ صورتِ حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ محولہ بالا  چاروں   ادارے اپنے اندر  رضاکارانہ طور پر خود احتسابی سیل قائم کریں جو اُن کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور ان کی سرگرمیوں کی سہ ماہی رپورٹ تیار کریں، جن میں محکمانہ قواعد و ضوابط کی پابندی کی تفصیل درج  ہو۔ جو میڈیا ، علمائے تحقیق  اور طلباء کے لئے  باقاعدہ  محکمانہ اجازت کے ساتھ دستیاب ہو سکے ۔ اس رپورٹ میں وہ اشارات درج ہوں جو ادارے کو تجدید اور ارتقا کی راہ پر ڈال سکیں اور خود کو وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق تبدیل کر سکیں ۔

اس طرح جو تبدیلی رونما ہو گی وہ اس ملک کی بیمار معاشرت کے لئے شفا کا پیغام ثابت ہوگی ، ورنہ وہی ہوتا رہے گا جو ہو رہا ہے ۔ مشاعرے ہوتے رہیں کے اعزاز بٹتے رہیں گے ، واہ واہ ہوتی رہے گی ، ادارے باہم متصادم رہیں گے ، سیاستدان وحشی جاٹوں کی طرح لڑتے رہیں گے  اور بے چاری قوم مصائب کی چکی میں پستی رہے گی ۔

یہ آشوبناک صورتِ حال درویشوں اور فقیروں کو بھی یہ یاد دہانی کراتی ہے  کہ تمہاری دعاؤں کے سوتے بھی خُشک ہوگئے ہیں اور تمہارے دم میں اثر باقی نہیں رہا ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ خُدا سے تمہارا رابطہ کمزور ہوگیا ہے ۔ ایسے وقت گھڑیال کی منادی یہ ہے :
اُٹھو ، وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو ، زمانہ چال قیامت کی چل گیا