چھ ستمبر ۔۔ کچھ تلخ و تُرش باتیں
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 06 / ستمبر / 2015
- 7660
چھ ستمبر کو کیا ہؤا تھا ؟
ایک وقوعہ میری زندگی کا ہے کہ چھ ستمبر کو میری شادی ہوئی تھی ۔
دوسرا وقوعہ پاکستانی قوم کا ہے کہ اس روز لاہور پر بھارتی فوج نے حملہ کیا تھا ۔ جس وقت حملہ ہؤا میں کراچی میں تھا اور اپنی معاشی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا ۔
میں نے ایوب خان کی تقریر ریڈیو پر سُنی ۔ وہ گرجدار آواز میں للکار رہے تھے کہ دشمن کو اندازہ نہیں کہ اُس نے کس قوم کو للکارا ہے ۔ اس جنگ میں پورا پاکستان بشمول مشرقی پاکستان شریک تھا ۔ فوج لڑ رہی تھی ۔ شاعر اور گلو کار لڑ رہے تھے ۔ میڈیا لڑ رہا تھا ، اخبارات اور ریڈیو لڑ رہے تھے ۔ شکیل احمد اور انور بہزاد لڑ رہے تھے ۔ لاہور میں تلقین شاہ بر سرِ جنگ تھے ۔ یہ پچاس سال پہلے کی بات ہے ۔ اُس وقت موجودہ عسکری قیادت شاید ابھی ملٹری اکیڈمی تک بھی نہ پہنچی ہو۔ مگر اس جنگ کے وارث بہر حال وہی ہیں ، جو پچاس سال پرانی شہادتوں کا اعزاز وصول کر رہے ہیں ۔
آج ہم سب ملکوں ملکوں چھ ستمبر کی جنگ کے قصیدے گا رہے ہیں اور اسے حب الوطنی کا اظہار قرار دے رہے ہیں ۔ ایسے میں ائر مارشل اصغر خان کا سچا جھوٹ یاد آ جاتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ جنگ پاکستان نے شروع کی تھی ۔ وہ ایک ویڈیو انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ جب اُنہیں اس بات کی اطلاع ملی کہ پاکستان نے کشمیر میں فوجی کاروائی کا آغاز کر دیا ہے تو اُنہوں نے ایوب خان سے ملنے کا وقت مانگا ۔ جنگ سے بمشکل دو روز پہلے وقت دیا گیا تو اصغر خان نے ایوب خان سے کہا کہ آپ نے کشمیر میں جو فوجی مداخلت شروع کی ہے ، بھارت اس پر ردِ عمل ظاہر کرے گا ۔ جس پر ایوب خان نے کہا کہ مجھے دفترِ خارجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسا نہیں ہوگا ۔
مگر دفترِ خارجہ کی یقین دہانی کے برعکس بھارت نے لاہور پر حملہ کردیا ۔ اُس وقت یہ خبر بھی بہت مشہور ہوئی کہ جب حملہ ہؤا ، تو اُس وقت لاہور کے کور کمانڈر جنرل سرفراز سو رہے تھے۔ دروغ بر گردنِ افواہ سازاں، مگر بہت سے کان افواہوں پر یقین رکھتے ہیں ۔ سو اس بات پر بھی ایک زمانہ تک لے دے ہوتی رہی ۔
ائر مارشل اصغر خان آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ مگر اُن کی کسی نے سُنی ہی نہیں ۔ اس لئے کہ لوگوں کو امن سے زیادہ جنگ سے دل چسپی ہے ۔ میرے ایک کرمفرما نے آج ہی مجھے یہ سندیسہ دیا کہ آدمی کو جنگ کی صلاحیت دے کر پیدا کیا گیا ہے ۔ میں اس بات سے اختلاف نہیں کرتا مگر انسان کی اصل لڑائی جہالت ، بے علمی ، غربت اور ظلم سے ہے مگر لوگ اس کے بجائے ایک دوسرے کو قتل کرنے لگتے ہیں ۔
پچھلے دس ہزار سال میں پچاس ہزار سے زیادہ جنگوں میں اس زمیں پر لڑنے اور تباہیاں پھیلانے کے تجربے نے انسان کو کوئی سبق نہیں سکھایا ۔ جنگ میں عورتیں بیوہ ، بچے یتیم اور مکان تباہ ہونے کے دردناک مناظر انسان کو بے رحمی ، ظلم اور بربریت سے باز نہیں رکھ سکے اور اُس نے مذہب کے نام پر جنگ کو تقدس مآب کر لیا ہے۔ تاکہ اس کی خونریزی کو جواز مل سکے ۔
اس طرح جنگ ہمارا مقدر بن چکی ہے اور جب جنگ کسی قوم کا مقدر بن جائے تو وہ امن کے راستے پر چلنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہے ۔ اور شاید یہی ہمارے ساتھ ہؤا ہے کہ ہمارے جنگ بازی کے رویوں کی وجہ سے جنگ کے عفریت نے ہمارا گھر دیکھ لیا ہے ۔ اب ہم گلی گلی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ دہشت گردی کی جنگ جو ہماری اپنی قومی پالیسیوں کا حاصل ہے ۔ چنانچہ ضربِ عضب ہمارا قومی منشور بن چکی ہے ۔ مرنا مارنا ہمارا قومی شعار ہے اور ہم ہر روز گلی گلی لاشیں اُٹھانے کی سزا سہ رہے ہیں ۔
جنگ اللہ کے خوشنودی کے لئے ہو تو وہ ظلم اور نا انصافی کے خلاف ہوتی ہے ۔ لیکن جب جنگیں اللہ کی خوشنودی کے بجائے جوع الارض کے لئے ہو تو حرام ہوتی ہے ۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ مسلمان بادشاہوں نے ایک دوسرے کے خلاف جنگیں کیوں کیں ؟ جب ظہیر الدین بابر نے ہندوستان پر حملہ کیا تو اُس وقت دہلی کے تخت پر ایک مسلمان بادشاہ ابراہیم لودھی متمکن تھا ۔ پانی پت کے میدان میں جب ایک طرف ابراہیم لودھی اور دوسری طرف ظیر الدین بابر اپنی فوج کے ساتھ صف آرا تھا تو اس وقت دونوں میں سے کون اسلام اور خُدا کی رضا کے لیے لڑ رہا تھا ؟
لیکن جنگ دونوں طرف سے خُدا کا عذاب ہوتا ہے اور زمیں زادوں کے کرتوتوں کی سزا ہوتی ہے ۔ جانے ہم کن گناہوں کی پاداش میں پے در پے کئی جنگوں کا ایندھن بنے اور مشرقی پاکستان سے اپنا رشتہ بھی برقرار نہ رکھ سکے ۔ نظریہ ء پاکستان برِ صغیر کے مسلمانوں کا مشرکہ نظریہ تھا لیکن اب برِ صغیر کا نقشہ اور جغرافیہ بتاتا ہے کہ مسلمان تین حصوں میں بٹ گئے ہیں ۔ اب نہ بنگالی مسلمان پاکستان کا ہمنوا رہا اور نہ ہی بھارت میں مقیم بیس کروڑ مسلمان اس صورتِ حال سے خوش ہیں ، مگر ہمارے پاکستان حکمران خواہ عسکری ہوں یا سول اب تک انیس سو سنتالیس سے پہلے کے نظریاتی مفروضوں کے اسیر ہیں اور اپنی غلط جنگی پالیسیوں کو درست سمجھتے ہیں ۔
پاکستان اس وقت کوئی نظریہ نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے ۔ اب اسے ایک پُر امن قوم کے طور پر تعمیر و ترقی کی ضرورت ہے ۔ لیکن پاکستان کے پالیسی ساز ابھی تک بالک کہانیوں کی خیال آفرینی میں رہتے ہیں اور نئی نسل کو ذہنی طور پر جنگ آزمائی کا سبق دیتے رہتے ہیں ۔ جنگی منصوبے ملکی بجٹ کا غالب حصہ کھا جاتے ہیں جو ملک میں نا خواندگی ، جہالت ، غُربت اور بے روزگاری کو فروغ دیتے ہیں ۔ ملک اخلاقی زوال کی تعلیم گاہ بن جاتا ہے اور اخلاقی زوال میں تمام مثبت قدریں مر جاتی ہیں اور ملک مافیا کے پنجہ ء استبداد کا شکار ہوجاتا ہے ۔ اور یہی پاکستان کے ساتھ ہؤا ہے ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی نئی نسل کو دشمنی کے بجائے امن اور محبت کا سبق دیا جائے ۔
میں جو پانچ دریاؤں کی دھرتی کا بیٹا ہوں ، اپنے سابقہ وطن سے محبت کرتا ہوں ۔ اُس مٹی میں میرے ماں باپ اور دو بہنوں کے خاکی جسد دفن ہیں ۔ اس کی گلیوں میں میرا بچپن اور لڑکپن بیتا ہے ۔ یہ صوفی شاعروں، عاشقوں اور بہادر د ہقانوں کا ملک ہے ۔ اس ملک کا اصل تحفط اس کی تہذیبی قدروں، اس کی محبتوں اور اس کی صوفیانہ تعلیم کا تحفظ ہے ۔ بابا فرید سے لے کر سچل سرمست تک اور رحمان بابا سے لے کر لال شہباز قلندر نے جس محبت کا درس دیا ہے اس کا تحفظ ہمارا پہلا فریضہ ہے ۔ ہم اپنی جنگی صلاحیتوں کو آزما چکے ہیں ۔ سن اڑتالیس میں کشمیر کی کاروائی ، رن کچھ کی جنگ ، پینسٹھ کی جنگ ، اکہتر کی شرمناک جنگ ، کارگل کی جنگ ، افغان جنگ اور اب ضربِ عضب ۔
ان جنگوں کا حاصل کیا ہے ؟ میں نہیں جانتا اور نہ ہی کوئی ایسی بات کہنا چاہتا ہوں جس کی بنا پر مجھے پاکستان سے غداری کا طعنہ دیا جائے۔ مگر ایک ایسا شخص جس نے پاکستان اپنے سامنے بنتے اور ٹوٹتے دیکھا ، در بدری دیکھی اور ملک کی شہریت سے محروم ہؤا ، صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ ملک کی بقا امن میں ہے جنگ میں نہیں ۔ بھارت بھی بیس کروڑ مسلمانوں کا ملک ہے ۔ بنگلہ دیش ہمارا ٹوٹا ہؤا بازو ہے ۔ ہمیں ایسی پالیسی اختیار کرنی چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو امن اور خوش حالی دے سکیں ۔ مجھے سورہ ء المائدہ سے ایک حوالہ یاد آ رہا ہے :
" یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں تو خُدا اس آگ کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کے لئے دوڑتے پھرتے ہیں ۔ اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا " ۔
6 . 5 . 64
احمد مشتاق کا شعر ہے :
دودھ ملے چاندی سا اُجلا ، پانی صاف ملے
امن ملے میرے بچوں کو ، اور انصاف ملے