بھکاری اور لُٹیرے
- تحریر مسعود مُنّور
- بدھ 16 / ستمبر / 2015
- 8880
" پاکستان میں سفارش کے بغیر سڑک بھی پار نہیں کرنے دیتے ۔"
یہ ایک شاعر کا بیان ہے ۔ غیر سیاسی تبصرہ ہے ۔ پاکستان کی معاشرتی اور تہذیبی صورتِ حال کا ایک اجمالی جائزہ ہے ۔ کوزے میں سمٹا ہؤا دریا ہے ۔
گذشتہ روز مانچسٹر میں ویمسلو روڈ کے ایک دیسی توشہ خانے میں دو پاکستانی ایک دوسرے سے دردِ وطن بانٹ رہے تھے ۔ اُن دونوں میں ایک نامور شاعر اور ڈراما نگار باصر سلطان کاظمی تھے اور دوسرا یہ فقیرِ قلم مسعود مُنّور ۔
میں نے پاکستان کے موجودہ حالات پر باصر کاظمی سے تبصرہ مانگا تو اُنہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا مُلک بن چکا ہے جس میں سڑک پار کرنے کے لئے بھی سفارش درکار ہوتی ہے ۔
ہماری گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ پچھلے اڑسٹھ سال میں پاکستان کے عسکری ، مذہبی اور سیاسی لیڈر میڈیا کے قوالوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں کوئی ایسی تبدیلی کیوں نہیں لا سکے جو پاکستانی معاشرے کو ترقی کی منازل طے کرا کر ایک فلاحی معاشرت کی تعمیر پر منتج ہوتی ۔ ایک ایسی معاشرت جس میں خلقِ خُدا کا بھلا ہوتا ، سب پاکستانیوں کو دو وقت کی روٹی ہر قسم کی کرپشن کی آلودگیوں سے پاک میسر آتی ، سب پاکستانی بچے بلا تخصیصِ طبقہ ایک جیسے سکولوں میں جاتے اور سب کو بیماری کی صورت میں بر وقت طبی امداد میسر آتی ۔ عدالتیں انصاف بانٹتیں ، اور لوگ باہمی محبت سے سرشار ، اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے اور ملک میں قانون کی بالا دستی ہوتی ۔
آخر سات دہائیوں میں ایسا کیوں نہیں ہو سکا ؟
کیا ہم من حیث القوم نالائق ہیں ؟ کیا ہماری قومی قیادت کی تریمورتی قیادت کی حقیقی صلاحیتوں سے محروم ہے ؟ کیا ہماری یونیورسٹیاں صرف نا اہل اور جاہل پیدا کرتی ہیں ، جو ملک کو ایک ترقی یافتہ اور خوشحال ریاست بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ؟
ہم میں سے کچھ لوگوں نے یہ سوچا کہ مذہبی قیادت ملک کی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہے ۔ چنانچہ ہم ترقی پسندی اور روشن خیالی کی راہ پر چل نکلے ۔ کمیونسٹ پارٹی اور انجمن ترقی پسند مصنفین نے ملک میں تبدیلی لانے کی کوشش کی تو راولپنڈی سازش کیس بن گیا ۔ اس کیس کے ملزموں نے جن میں جنرل اکبر خان ، سید سجاد ظہیر ، فیض احمد فیض اور میجر اسحاق پیش پیش تھے ، ملک میں تبدیلی لانے کی جو سازش کی تھی ، اُس کی پاداش میں دھر لئے گئے اور سزا کاٹی۔ لیکن اصل بات جو تھی وہ فیض صاحب نے پھر بھی کہ دی :
تم یہ کہتے ہو اب کوئی چارہ نہیں
سنگِ بارِ ستم اپنے بس کا نہیں
سنگِ بارِ ستم ، بارِ سنگِ ستم
جس کو چھو کر سبھی اک طرف ہوگئے
بات کی بات میں ذی شرف ہو گئے
اور فیض صاحب کے اس بیان کا اطلاق صرف ترقی پسندوں پر ہی نہیں بلکہ اسلام پسندوں پر بھی ہوتا ہے کہ وہ بھی مذہبی سریع الاعتقادی کا پل عبور کر کے شہرِ محمد ﷺ میں داخل نہیں ہو سکے ۔ اُن کا عشق رسول ﷺ محض ایک مفروضہ ہی رہا ۔ اور اگر اس مفروضے پر انگلی اٹھائی جائے تو یہ فرضی عاشقانِ نبی ﷺ انگلی کاٹنے اور جان سے مارنے پر تُل جاتے ہیں۔ حالانکہ وہ ان اڑسٹھ برس میں معاشرے کو صادق اور امین نہیں بنا سکے ۔ وہ زیادہ سے زیادہ جماعتِ اسلامی ہی بنا سکے ہیں جو آج تک کسی صوبے میں نہ تو تنہا حکومت ہی بنا پائی اور نہ ہی مرکز میں اپنی طاقت کا لوہا منوا سکی ۔ اور وہ غالباً اس لئے کہ لوہے پر جن لوہاروں کی اجارہ داری ہے وہ کہاں کسی دوسرے کو اقتدار کی ہوا بھی لگنے دیتے ہیں ؟
ملک میں آبرو مندانہ زندگی کا تصور مفقود ہے ۔ ملک بھر میں جتنے قتل روز ہوتے ہیں اُن کے اعداد و شمار جمع کرو تو شرم آنے لگتی ہے اور ذہن میں یہ سوال عود کر آتا ہے کہ یہ عاشقانِ رسول ﷺ کا ملک ہے یا بے دین جلادوں کا ؟
اور قیادت کے بتکدے کے بتوں کو غور سے دیکھو تو وہ لیڈر کم اور لُٹیرے زیادہ لگتے ہیں ۔ صاحبِ نہجہ البلاغہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ :
" جہاں وافر دولت دیکھو ، سمجھ جاؤ کہ کسی کا حق غصب ہؤا ہے " ۔
اور جب سیاست کے بتکدے کے اصنام کی طرف نگاہ اُٹھاؤ تو لگتا ہے کہ یہی وہ لُٹیرے ہیں جنہوں نے عام پاکستانیوں کو لوٹ لوٹ کر بھکاری بنا دیا ہے ۔ چنانچہ اب پاکستان میں دو ہی طبقے ہیں جو اس کے نمایاں خدو خال کے مظہر ہیں ، جن میں ایک طبقہ ء گداگراں ہے اور دوسرا طبقہ ء غاصباں ۔ ان غاصبوں کے گلے میں ایک لوحِ قرآنی ہے جس میں سورہ ء حمزہ سے ایک حوالہ درج ہے :
" خرابی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے مال جمع کیا اور گن گن کر رکھا "
اور وہ زر اندوز یہ بھول جاتے ہیں کہ ناجائز طریقے سے حاصل کئے گئے مال کو آگ میں تپا کر ان کی پشتوں اور پیشانیوں کو داغا جانے کے دن دور نہیں ہیں ۔
ہر چند کہ لُٹیرے لوٹ کے مال کو فضلِ ربی کا نام دیتے ہیں مگر دین و دنیا کا مالک جانتا ہے کہ لُٹیرا اور بھکاری ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں ۔ ایک ہی کاغذ کے دو صفحے ہیں اور ایک ہی واردات کے دو فریق ہیں۔ اور ربِ کائنات نے خود اپنے سوا کسی کو امیر ہونے کا لائسنس نہیں دیا ۔ وہ کہتا ہے ، " واللہ الغنی و انتم الفقرا ء " کہ اللہ ہی امیر ہے اور تم سب اس کے دروازے کے فقیر ہو ۔ اس واضح حکم کے ہوتے ہوئے امارت کا دعویٰ کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے کہ سلطان الانبیاء ﷺ نے فرمایا ہے :
انا فقیر والفقر فخری " میں ایک فقیر ہوں اور مجھے اپنی فقیری پر فخر ہے
لیکن یہ کون ہیں جو فقیرِ کائنات ﷺ کے سامنے اپنی شاہی کے شادیانے بجا رہے ہیں؟