تیل کے شہزادے اور مسکین پاکستانی

اسلام ، اِنسانی قدروں کا امین ہے لیکن اب سعودی حکمرانوں اور اُن کی نجدی انتظامیہ کے ہاتھوں خُؒلقِ عظیم کی جو بے حُرمتی ہو رہی ہے اُس پر جلالتہ الملک شاہ سلمان ابنِ سعود سے ایک وضاحت طلبی تو ہر مسلمان کا حق بنتا ہے، بالکل اُسی طرح جس طرح ایک بدّوکو یہ حق حاصل تھا کہ وہ خلیفہ ء اسلام عمر رضی اللہ تعالیٰ سے یہ پوچھ سکے کہ آپ کی قمیض کا کپڑا کہاں سے آیا ۔

لیکن قرائن اور شواہد سے لگتا ہے کہ دینِ محمد ﷺ اب سعودی عرب میں معطل  اور موقوف ہو گیا ہے اور اُس کی جگہ دینِ محمد بن عبد الوہاب نے لے لی ہے ۔ دین میں حسب خواہش  ترامیم کے بعد اب ایک مسلمان کی جان کی کوئی قیمت نہیں رہی تا آں کہ ایک مرے ہوئے حاجی کا بدن گلی کا کوڑا ہے جسے مشینی جھاڑو سے اکٹھا کر کوڑے کے ڈھیر کی طرح پھینک دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

یہ ایک المیہ ہے کہ تیل کی دولت ، ریالوں کی ریل پیل اور دنیا بھر کے حجاج کے ذریعے ملنے والے زرِ مبادلہ  نے جزیرہ نمائے عرب کے باشندوں کی اخلاقی اقدار کو چوپٹ کر کے رکھ دیا ہے ۔ اور پھر اسی پر بس نہیں عرب شیوخ کی رنگیلا شاہی کے فسانے چار دانگِ عالم میں پھیلے ہوئے ہیں ۔

میری آج کی بات یہاں سے شوع ہوتی  ہے  کہ اس بار حج کے دوران سعودی عرب میں دو المناک حادثے ہوئے۔ ایک کرین ٹوٹنے کا اور دوسرا منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ مچنے سے حاجیوں کے روندے جانے کا، جس میں کئی سو ہلاکتیں ہوئیں ۔ موت اور زندگی تو خُدا کے ہاتھ میں ہے لیکن موت کا ناجائز سبب بننے والوں کو اپنا حساب دینا ہوتا ہے اور وہ متوفی کے لواحقین کے سامنے جواب دہ ہیں ۔ ایک خبر یہ  بھی ہے کہ منیٰ میں بھگدڑ مچنے کا سبب ایک سعودی شہزادے کی سواری اور اس کے محافظ تھے جنہوں نے ایک راستہ بند کردیا تھا جس کے سبب بھگدڑ مچی ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام میں ایک عرب شیخ زادے کی حیثیت ایک پاکستانی مسلمان سے زیادہ ہے ؟

تاریخ گواہ ہے کہ سعودی عرب کی سیاسی قیادتوں اور سعودی حکمرانوں نے اس سر زمین کو اپنی زر خرید لونڈی بنا رکھا ہے اور وہ اس کے مالک ہیں جب کہ قرآن نے الارض للہ کا حکم جاری کر رکھا ہے کہ زمیں خُدا کی ہے ۔ اگر زمیں خُدا کی ہے تو سعودی عرب ہر مسلمان کا ہے اور اُس میں ایک عرب شہزادے اور ایک پاکستانی مسلمان میں فرق روا رکھنا ، خطبہ ء حجتہ الوداع کی تنسیخ کے مترادف ہے ۔
سعودی عرب کے حکمرانوں کی انا پرستی اور عصبیت کوئی نئی نہیں ۔ اس کی وضاحت کے لیے اقبال کا ایک شعر پیش کرتا ہوں :
کیا خوب امیرِ فیصل کو سنّوسی نے پیغام دیا
تو نام ونسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا

یہ نام نسب کے حجازی ایک زمانے سے دینِ محمد ﷺ سے گریز کے راستے پر چل رہے ہیں ۔ شاید ابنِ تیمیہ کی غلط تاویلات اور محمد بن عبدالوہاب کی کتاب التوحید، وہ دو کلہاڑے ہیں جس نے اسلام کے کئی چہرے بنا دئے ہیں۔ لیکن تیل کی سیاست کی قوت  اور حرمین شریفین کے متولی کا منصب اتنا بڑا ہے کہ کسی مسلمان ملک کو اُن کے سامنے دم مارنے کی جرات نہیں ۔ اسی بات کی طرف اقبال نے سنوسی کے حوالے سے اشارہ کیا ہے کہ جب انگریزوں نے دمشق پر قبضہ کیا تو امیر فیصل شریفِ مکہ نے انگریزوں کی فتح کی خوشی میں چراغاں کیا تھا ۔  اس پر سید محمد ادریس السنوسی نے ( جو سنوسیہ تنظیم کے ایک بزرگ تھے ، اٹلی کا مقابلہ کرنےکے لئے انہوں نے 1911 میں ترک فوج کی مدد کے لئے اپنے مریدوں کے جتھے روانہ کئے تھے ) یہ بات کہی جسے اقبال نے نظم کیا ہے اور تاریخی واقع کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جب شریفِ مکہ چراغاں کر رہا تھا تو انہوں نے شریفِ مکہ کو پیغام بھجوایا تھا کہ تم صرف نام ہی کے مسلمان ہو دل کے نہیں ۔

اس قسم کی بات سنوسی علیہ رحمت تو کر سکتے ہیں مگر میری کیا مجال کہ میں شاہ سلمان سے پوچھوں کہ حاجیوں کی میتوں کو کوڑا کباڑ کیوں سمجھا گیا ؟
لیکن اب تو یہ بات سارے عالمِ اسلام پر واضح ہے کہ عام سعودی عرب شہریوں اور خلیج کی ریاستوں کے تیل کے شہزادوں کی طبیعت بہت آوارہ ، شہوانی اور اس حد تک بگڑی ہوئی ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کو مسکین اور اپنی رعایا تصور کرتے ہیں ۔

میرے دوست میاں سرور سکھیرا بتا رہے تھے کہ وہ لندن میں گاڑی خریدنے گاڑیوں کے نیلام گھر پہنچے اور حسبِ دستور ایک گاڑی کی بولی دی ، جو پہلی بولی سے زیادہ تھی ۔ اس پر ایک عرب صورت شیخ تشریف لائے اور پاکستانی خریدار سے کہا کہ ،" دیکھو ، میں سعودی ہوں ، تم مجھ سے اونچی بولی نہیں دو گے " ۔
اس پر شیخ مذکور کی شکایت کی گئی تو منتظمین نے اسے نکال باہر کیا ۔

یہ اپنی نوعیت کا اکلوتا واقع نہیں ۔ مجھے تین ہفتے قبل ایک منی کیب ڈرائیور نے عرب نوجوان طالب علموں کی خبر سنائی  جو پیسے جیب میں ڈالے بغیر ٹیکسی بلوا بھیجتے ہیں اور بعد میں کرایہ مانگنے پر سیخ پا ہوجاتے ہیں کہ کسی پاکستانی کی اتنی مجال کہ وہ تیل کے شہزادے سے پیسے مانگے ؟