سیکولرازم کے قتل کا نوحہ

یہ ایک خطر ناک زمانہ ہے جس میں لکھنا ،  شیر کی کچھار میں بیٹھ کر چائے پینے اور اژدہے کے مونہہ میں قلم ڈبو کر نکالنے کے مترادف ہے ۔ لوگ دوسروں کے لکھے کو اپنے معنی پہناتے ہیں اور پھر خود ہی اُس کے خلاف حصار باندھ لیتے ہیں ۔ رواداری مر چکی ہے اور عدم برداشت کی تیز آندھیاں ہر وقت چلتی رہتی ہیں ۔

میں کبھی سوچتا ہوں کہ یہ صحافت اور ادب دونوں ہی گھاٹے کے سودے اور شعبے ہیں ۔ یہ نہ لکھنے والے کا بھلا کرتے ہیں اور نہ ہی قاری کا ۔ لیکن کہنے والے پھر بھی نا گفتنی کو قلم کی نوک میں پرو کر کاغذ پر اتارتے رہتے ہیں ۔ بے شک یہ گھاٹے کا سودا ہے اور ہم سب خسارے میں ہیں ۔

لوح و قلم کا مالک خُدا ہے اور خُدا کے دفترِ رسالت سے ایک روایت کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو رسالت کے قلمدان عطا ہوئے ۔ اور یہ پیغمبریاں صرف اولادِ ابراہیم علیہ السلام کو ہی عطا نہیں کی گئیں  بلکہ دنیا  کی ہر نسل اور رنگ  کی اُمت کو نوازا گیا ۔ قرآن گواہ ہے کہ ہر اُمّت میں رسول آئے اور ہر قوم کو ہادی دیا گیا تاکہ وہ بنی نوعِ انسان کی رہنمائی کریں ، اُمتیں  گمراہ نہ ہوں ، بلکہ وہ  انسانی اخوت ، محبت ، یگانگت اور باہمی احترام کو روا رکھیں۔ لیکن ان تعلیمات کو یک سر بھلا کر لوگ  آج بھی گمرہی کا شکار ہیں اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں ۔

یہ لڑائی ہر محاذ پر لڑی جا رہی ہے ۔ پاکستان ، بھارت اور افغانستان کے سیاستدان اور دانش ور  میڈیا کے ٹاک شوز میں  ایک دوسرے پر چیلوں کی طرح جھپٹتے ہیں  اور ذہنی نابالغوں کی طرح ایک دوسرے پر  کھردرے اور نا مناسب الفاظ میں اتہام تراشی کرتے اور الزامات کے لفظی بم پھینکتے ہیں ۔ ایسے لگتا ہے یہ کسی مہذب سوسائٹی کی پیداوار نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی تعلیم و تربیت ہوئی ہے ۔ اس پر طرہ یہ کہ سیاست کی مسندوں پر چھلاووں نے قبضے جما رکھے ہیں ۔

کسی مُلک کا حکمران قوم کے اجتماعی تشخص کا نمائندہ ہوتا ہے ۔ چنانچہ پاکستان میں نواز شریف ، بھارت میں نریندر مودی اور افغانستان میں اشرف غنی اپنے اپنے تشخص میں اپنی قوموں کے چہرے ہیں ۔ ان تینوں چہروں میں کوئی ایک چہرا بھی ایسا نہیں جس سے علم و دانش کی روشنی  اور حُسنِ مروت کی تابانی چھنتی ہو ۔ یہ سب ایک مکروہ نظام کی پیداوار ہیں جسے وہ اپنی  صوابدید کے مطابق جمہوریت سمجھتے ہیں لیکن یہ جمہوریت کہیں دھاندلی کی ناجائز اولاد ہے ، کہیں عوام کی اُمنگوں کا استحصال ہے اور کہیں نظریہ ء ضرورت کا جبری تسلسل ۔ اور اس قسم کی جمہوریتیں انسان دوست نہیں انسان دشمن ہوتی ہیں جو لوگوں کو ضرورتاً جنگی جنون میں مبتلا رکھتی ہیں  اور ملکی بجٹ کاغالب حصہ ہتھیاروں اور غیر ضروری جنگی منصوبوں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے ۔ جن سے حاصل تو کچھ نہیں ہوتا مگر عام آدمی  بنیادی ضروریاتِ زندگی سے بتدریج محروم ہوتا چلا جاتا ہے ۔

اس وقت برِ صغیر پر ایسے عفریتوں کے سائے ہیں جنہوں نے خطے کے امن کو کلاشنکوف کی نالی کے گرد لپیٹ رکھا ہے ۔ بھارت میں حکمرانوں اور انتہا پسند ہندو تنظیموں کی ملی بھگت سے دوسرے مذاہب کے خلاف مورچہ بندی ہو رہی ہے ۔ گائے خوری پر مسلمانوں کی زندگی داؤ پر لگی ہے اور سکھوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کر کے ملک کے امن کو غارت کیا جا رہا ہے ۔ یہ کھلی مذہبی منافرت ہے لیکن اس منافرت کی سرپرستی کی جا رہی ہے ۔ اور بدقسمتی سے بھارت میں ایک ایسی کند ذہن مگر مداری شخصیت مسندِ اقتدار پر فائز ہے جس کی آنکھوں میں مجھے شر اور شیطانیت کی منحوس چمک نظر آتی ہے ۔ یہ وہ شخص ہے جس نے ہندستان کی سیکولر آتما کو قتل کر دیا ہے ۔

لفظ سیکولر ہمیشہ سے مذہبی جنونیوں  کے لئے ہر مذہب و ملت میں اور ہر جگہ ایک نا پسندیدہ تصور رہا ہے ۔ وہ سیکولرازم کو مذہب کا رد  قرار دیتے ہیں  ، حالانکہ سیکولریت اپنے اپنے مذہب ، عقیدے اور فلسفے کو مکمل امن  اور آزادی کے فضا میں روبہ عمل لانے اور ایک دوسرے کے نقطہ ء نظر کو مکمل احترام دینے کا نام ہے ۔ میں جب سیکولرزم کو سیکو لریت کہتا ہوں تو  اس ترکیب میں مجھے اپنے مقامی وجود کا احساس ہوتا ہے ۔ لگتا ہے یہ خُدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے  ۔ یہ  سیکولریت پر امن بقائے باہمی کی چابی ہے جو بنی نوعِ انسان کو من حیث القوم  یا ملت اپنے اپنے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی دیتی ہے ۔  سورہ ء بقر میں لکھا ہے :
" جو لوگ مسلمان ہوئے، اور جو لوگ یہودی ہوئے اور عیسائی اور صائبین ہوئے ، ان میں سے جو اللہ پر  اور یومِ احتساب پر  ایمان لائے اور نیک کام کئے ، اُن کا اجر اللہ کے پاس ہے اور  وہ خوف اور غم کا شکار نہ ہوں گے " ۔ بقر ۔ آیت نمبر باسٹھ

یہاں مسلمان ، یہودی ، عیسائی اور صابی کو اللہ پر ایمان  لانے اور نیک عمل کرنے  کی بنیاد پر یکساں حیثیت دی گئی ہے اور انہیں اپنی اپنی ملتوں میں رہتے ہوئے اجر  کی اور خوف اور غم سے نجات کی بشارت دی گئی ہے ۔

اس پیغام کی وسعت اور گنجائش میں پر امن بقائے باہمی کی پوری کائنات آباد ہے ۔ لیکن بد قسمتی سے برِ کوچک کی مذہبی ملتوں میں ہمیشہ سے برتری کا ایک شدید  احساس  غالب رہا ہے  ، جس نے شدت پسندی کے لئے فکری بنیاد فراہم کی ہے ۔ اس طرزِ فکر نے مذہب کی روح کو بڑا نقصان پہنچایا ہے ۔ چنانچہ ہر مذہبی گروہ نے خود کو سچا اور دوسرے کو جھوٹا جان کر اُسے مطعون کرنے کی کوشش کی ہے  جس کے نتیجے میں تمام مذاہب ایک دوسرے  کےدشمن کیمپ میں تبدیل ہو گئے ہیں ، سماجی امن غارت ہو گیا  ہے اور بد امنی ہمارا مقدر بن کر رہ گئی ہے اور اس کے ذمہ دار ہمارے مذہبی رہنما اور وہ سیاستدان ہیں جنہوں نے مذہب کے نام پر سیاست کی ہے ۔

مجھے یاد آرہا ہے ۔ اسّی کی دہائی کے اوائل میں، میں بھارت میں تھا ۔ ایک دن قبل دوپہر میں جالندھر کے دیش بھگت ہال میں ایک پرانے انقلابی بابا بلگا کے پاس بیٹھا تھا  کہ اچانک جالندھر ریڈیو سے کلامِ اقبال سنائی دینے لگا :
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
اس پر بابا بلگا زور زور سے پکارے : " او نہیں یار اقبال ، ایہہ مذہب ای سکھاؤندا ای ، ایہہ مذہب ای سکھاؤندا ای " ۔