کوالیفائیڈ مسلمان شہریوں کی تلاش

ناروے میں آج سنیچر کی  شام  ہے اور ہالووین کا جشن برپا ہے ۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں رنگ رنگ کے بہروپ بھرے شام کی سنولاہٹ کو دھنک پہنا رہے ہیں ۔ کوئی لڑی تتلی کے پر پہنے اُڑتی پھرتی ہے ، کوئی نوجوان سپیرا  بنا دکھائی دیتا ہے تو کوئی جادو گر کی عبا پہنے فضا کو مسحور کر رہا ہے ۔ ننھے بچے ماسک پہنے گھروں کی گھنٹیاں بجا بجا کر چاکلیٹ ، ٹافیاں اور کیک بٹور رہے ہیں ۔ جن گھروں سے چاکلیٹ نہ ملا دس بیس کراؤن مل گئے ۔ لگتا ہے پورا شہر پرستان بنا ہؤا ہے ۔

دوسری طرف ٹی وی کی  کھڑکی سے جھانکو تو پاکستان میں خون میں نہائے شہری بلدیاتی الیکشن میں ووٹ ڈال رہے ہیں ۔ ہاتھا پائی کرتے  اور آلو کی بریانی  کھاتے ووٹر  پولنگ سٹیشنوں کو میدانِ جنگ بنائے ہوئے ہیں۔ سندھ سے دست بدست لڑائی کے بعد درجن بھر اموات کی خبریں موصول ہوئی ہیں ۔ پی ٹی آئی کا ایک کارکن فیصل آباد میں دم توڑ گیا ہے ۔ لیکن رانا ثنا اللہ گروپ جیت گیا ہے  اور عابد شیر علی کا بھائی ہار گیا ہے ۔ ایک طرف شیر تھا اور دسری طرف چودھری شیر علی مگر جیت شیر کی ہوئی ۔ عابد شیر علی اور رانا ثنا اللہ کا انتخابی معرکہ ن لیگ کے لئے کوئی نیک فال ثابت نہیں ہوگا کیونکہ سیاست میں شریف خاندان کے ذاتی اختلافات نے پاکستانیوں کے سماجی رویوں کی قلعی کھول دی ہے کہ ہم نے من حیث المعاشرہ کوئی اچھی ثقافتی مثال قائم نہیں کی ہے ۔

بلدیاتی انتخابات نے سیاسی جماعتوں کے ووٹ بنک کے اثاثے واضح طور پر ظاہر کر دئے ہیں ۔ سندھہ پیپلز پارٹی کا اور پنجاب نون لیگ کا ۔ پی ٹی آئی نے بھی کئی نشستیں جیتیں مگر اس جماعت  پر ریحام خان  طلاق سندرم نے بہت منفی اثر ڈالا ہے ۔ ریحام عمران  کی شادی سچ مُچ کی سیاسی شادی ثابت ہوئی ہے جس نے عمران خان کی مقبولیت کو کوئی بڑا نقصان تو نہیں پہنچایا مگر خان کے  امیج کو گہنا  ضرور دیا ہے ۔

یہ صورتِ حال دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان مکمل طور پر دہشت گردی کے خونین عفریت کا نوالہ بنا ہؤا ہے ۔ بلکہ  محسوس  یہ ہوتا ہے کہ شدت پسندی پاکستانیوں کا روز مرہ عمومی رویہ بن گئی  ہے ۔  نہ صبر ، نہ تحمل  ، نہ  برداشت نہ رواداری نہ ملّی اور قومی ہم آہنگی۔ جرائم پیشگی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ لیکن پھر بھی لوگوں کے کان پر جوں نہیں رینگتی ۔ لگتا ہے ہر پاکستانی نے بد امنی ، دہشت گردی اور کرپشن کو مقدر سمجھ کر قبول کر لیا ہے ۔

الیکشن میں ہونے والی اموات  نے بھی جیتنے والوں کے بھنگڑوں اور ڈھول ڈھمکوں پر کوئی اثر نہیں ڈالا ۔ لگتا ہے اب اس ملک میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ۔ کوئی ایک مر گیا تو دوسرا کیا کرے ۔ بے حسی کی  تو انتہا ہوگئی ہے ۔ اور ہر شخص خواہ وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ اور مہذب کیوں نہ ہو جب بولتا ہے تو  آگ  اور نجاست اُگلتا ہے ۔ آپس کے معاشرتی  تعلقات  کی نوعیت سو فی صد کمرشل ہیں ۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر سات دہائیوں میں ہم ایک پر امن ، روبہ ترقی اور خوش حال معاشرت کیوں تعمیر نہیں کر سکے ؟ ہمارا کوئی اجتماعی قومی مزاج کیوں  نہیں بن سکا ؟ 

مجھے تو اُس کی ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ ہم نے قائدِ اعظم کے آزادی کے تصور سے انحراف اور  اقلیتوں کی برابر ی کے  بنیادی حق کو نظر انداز کر کے  مذہب کے نام پر ایک روایت پرست  ریاست کا جو  فلسفہ گھڑا ہے اُس نے ہمیں  ایک نظریاتی  عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ مذہب کی  بھانت بھانت کی تعبیروں اور جنرل پرویز مشرف  کے حافظ سعید اور اُسامہ بن لادن جیسے ہیروز کی تعلیمات نے پاکستان کی ساکھ کو بڑا نقصان پہنچایا ہے ۔
اور جہاں تک ہمارے مسلمان ہونے کا معاملہ ہے اُس بر بھی کئی سوالیہ نشان لگے نظر آتے ہیں ۔

میرا مشاہدہ یہ ہے کہ ہم اپنے دینی نصاب کے ذریعے کوالیفائیڈ مسلمان تربیت نہیں کر سکے ۔ کوالیفائیڈ مسلمان کیسا ہوتا ہے ؟
کوالی فائیڈ مسلمان ہونے کے لئے پہلے صادق اور امین ہونا ضروری ہے اور وہ اس لئے کہ  جن پیغمبرِ آخر الزماں ﷺ کو اسلام ودیعت  ہؤا وہ چالیس برس سے صادق اور امین تھے ۔ حضرت فضل شاہ نور والے  علیہ رحمت فرمایا کرتے تھے کہ دین کے دو بنیادی ارکان ہیں ۔  کہ مسلمان کا ہاتھ امین ہو اور زبان صادق ہو ۔ اور ہاتھ کی امانت میں یہ عنصر بھی شامل ہے کہ  کہ اس سے کسی دوسرے مسلمان بھائی کو  مالی اور جانی نقصان  بھی نہ پہنچے  اور نہ ہی زبان کا زخم لگے۔ مگر ہمارے عہد میں یہ تعلیم تو  یکسر فراموش کردی گئی ہے۔

اس کے باوجود عشقِ رسول کے بلند بانگ نعرے جاری ہیں اور ناموسِ رسالت ﷺ کے مقدس  نام پر عشق رسول ﷺ کا باقاعدہ الگ فرقہ قائم ہے جس میں قوالی کی دھن پر  ناچنے اور حال کھیلنے کو عشق رسول ﷺ کی گواہی سمجھتا ہے ۔ بابا نور والے فرمایا کرتے تھے کہ  جس کو یہ دو بنیادی  ارکان یعنی  ہاتھ کی امانت اور زبان کی صداقت  بہم ہوتے ہیں اُس کو باقی پانچ ارکان بھی عطا ہو جاتے ہیں ۔ اور  جو شخص ان دو بنیادی ارکان کا حامل نہیں اُس کے نماز روزے کی کوئی وقعت اور  حیثیت نہیں ۔ وہ سطحی مسلمان ہوتا ہے اور وہی سطحی مسلمان آج پاکستانی معاشرت کو  بد امنی ، دہشت گردی ، کرپشن اور  زوال سے دو چار کر رہا ہے ۔ اقبال نے کہا تھا :
چوں می گویم مسلمان بلرزم
کہ دانم مشکلاتِ لا الہ را
( جب میں مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں تو میں کانپ جاتا ہوں کیونکہ میں لا الہ کے راستے کی مشکلات سے واقف ہوں )

لیکن ہمارے لئے  مُلّا صاحبِ تصدیق ہے اور وہ ہمیں اپنے فرقے کی رکنیت عطا کر کے مسلمان ہونے کا  لائسنس جاری کردیتا ہے ۔ اور بے چارہ سادہ لوح مسلمان سمجھتا ہے کہ بس اب جو جی چاہے کرو ، مرنے کے بعد جنت کی حوریں اور حوضِ کوثر میرا  بنیادی حق  بن چکے ہیں ۔ پاکستان پر امن ، ترقی یافتہ اور خاش حال ہو نہ ہو  ہماری بلا سے ، جنّت تو مل گئی ۔ لیکن مولانا حالی کیا کہہ رہے ہیں ، وہ بھی سُن لیں :
جنّت ہیں جس کو کہتے ، بس اک جھلک ہے تیری
باقی تو واعظوں کی رنگیں بیانیاں ہیں