ایک المیہ ہزار داستان

پروفیسر  ڈاکٹر اشتیاق احمد ایک معروف  سکالر ، ممتاز ماہرِ تعلیم اور محقق ہیں ، جنہوں نے  تاریخ اور سماجیات کے شعبہ ء تحقیق میں  نمایاں  خدمات انجام دی ہیں  اور قلم کے کولمبس کی طرح تحقیق کے  کئی  نئے برِ اعظم دریافت کیے ہیں  ۔

یوں تو وہ سیاسیات کی تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں  لیکن اِس بار اُنہوں نے اپنے تحقیقی  رہوار کو  اپنے وطن مالوف پنجاب کی  سڑکوں پر بگٹٹ دوڑایا ہے ، جو  اُنیس سو سنتالیس  سے لے کر تا دمِ تحریر خُون آلود ہیں  اور  سات دہائیااں گزر جانے کے باوجود اُس خون کے دھبے ہنوز  تازہ ہیں ،   جو تقسیم کے بعد آبادی کی نقلِ مکانی کے دوران مذہب کے نام پر بہایا گیا تھا ۔

یہ کتاب برِ کوچک کی تاریخ میں ایک نئی جہت کی نشان دہی کرتی ہے  اور کتاب پڑھتے ہوئے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ  مصنف نے ناول کی شکل میں تاریخ لکھی ہے یا  تاریخ میں ناول رقم کیا ہے۔  تاہم اُن کی زیرِ نظر  تصنیف جو لگ بھگ  ساڑھے پانچ  سو صفحات  پر مشتمل ہے ،  غیر منقسم پنجاب ، تقسیمِ پنجاب اور منقسم پنجاب  پر ایک دسدتاویزی فلم لگتی ہے جو سلولائیڈ کے بجائے کاغذ پر فلم بند ہوئی ہے ۔  اس فلم کے ہزار کردار ہیں اور سارے کردار ہیرو ہیں ۔ ان کرداروں میں مغوی خواتین اور بچے بھی ہیں جن   کا دردوکرب  کتاب کے صفحات میں خون میں نہائی ہوئی تصویروں کی صورت میں پوری دستاویزی ذمہ داری اور تحقیقی  ہنروری  سے محفوظ کر لیا گیا ہے ۔

اِس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری کو یہی  محسوس ہوتا ہے کہ  وہ  بھی اس قتلِ عام  کے دوران کھیلے جانے والی خون کی ہولی  کی لپیٹ میں ہے اور وہ ایک ایسا مظلوم کردار ہے جسے مذہبی دہشت گردوں نے اغوا کر لیا ہے ۔  قتل و غارت گری کے جو واقعات اس کتاب میں درج ہیں ، وہ اس تقسیم کا شکار ہونے والوں کی زبانی گواہی دیتے ہیں  کہ اس  تقسیم کے اسباب میں سب سے بڑا سبب مذہبی جنون اور نظریاتی دہشت گردی تھی اگر چہ اس کا ظاہری محرک سیاسی تھا ۔

چند سال پیشتر پٹیالہ کی پنجابی یونیورسٹی  میں منعقدہ  امن سیمینار میں شرکت کا موقعہ ملا تو  وقفے کے دوران معروف صحافی  کلدیپ نیر  سے ایک غیر رسمی گفتگو میں  راقم نے  کہا کہ  وہ مسلم لیگی ، کانگرسی اور اکالی لیڈر  جن کی نالائقی اور ناقص انتظام کی وجہ سے یہ المیہ رونما ہؤا تھا ،  اس قتلِ عام کے مجرم ہیں۔ اور اگر وہ زندہ ہوتے تو  میں اس سیمینار میں قرارداد پیش کرتا کہ تینوں فریقوں کے لیڈروں کا عدالتی مواخذہ ہونا چاہیے ۔ خیر یہ تو ایک جملہ ء معترضہ ہے  لیکن آج جس کتاب پر میں اپنے مطالعاتی تاثرات بیان کر رہا ہوں ، اُس کا موضوع خونریزی کی وہ تاریخ  ہے جسے ڈاکٹر اشتیاق احمد نے طویل مطالعے ، گہری چھان بین اور طویل دستاویزی عرق ریزی کے بعد تحریر کیا ہے ۔

کتاب میں نسل کُشی کے نظریے کو بنیاد بنا کر انتقالِ آبادی کی کاروائی اور نقلِ مکانی کے دوران ہونے والی قتل و غارت گری کے محرکات کے سوال کا جواب نہایت اعلیٰ علمی سلیقے اور دانشمندی سے سلجھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔  ہر چند کہ  یہ تجزیاتی محاکمہ خالص علمی اور تحقیقی ہے لیکن ڈاکٹر اشتیاق کا اسلوبِ بیان علمی نکات کو آسان اور عام فہم بناتا چلا جاتا ہے اور ہر تعلیمی معیار کے قاری پر اس کا متن بآسانی افشا ہوتا چلا جاتا ہے ۔ لگتا ہے یہ ہر قاری کو اُس کے ذہنی معیار کے مطابق  وہ مواد مہیا کرتی ہے ، جسے  کتاب کا عنوان دیکھ کر  وہ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ اس کتاب کے آئینے میں قاری کو پنجاب کی موجودہ نسل کے اُن  اجداد کے غضبناک یا سہمے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں  جو اُس نسل کشی کے تجربے سے گزر رہے ہیں جو  ایک خوفناک خانہ جنگی کے نتیجے میں وقوع پذیر ہو رہی ہے ۔ یہ ایک ایسی آگ ہے  جس کی روک تھام پر دفاعی اداروں اور سول انتظامیہ کو کوئی قدرت یا اختیار حاصل نہیں ہے ۔

کتاب کل اکیس ابواب پر مشتمل ہے ۔ ان ابواب میں نظریاتی بحث کے علاوہ  ماقبلِ تقسیم کی  حکومتوں کی تفصیل کے ساتھ نوآبادیاتی دور کے پنجاب کی تصویر کشی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی اتحادی حکومت کیسی تھی ۔ پنجاب کے الگ الگ علاقوں میں ہونے والے فسادات کو پوری تفصیل سے الگ الگ حصوں میں بیان کیا گیا ہے ۔ لیکن اس کتاب کا سب سے اثر انگیز حصہ اُن آپ بیتوں پر مشتمل ہے جو اس تقسیم کا جبری شکار ہونے والوں نے سنائی ہیں ۔ یہ انسانوں کے انفرادی تجربے ہیں جو اپنے وطن سے جبراً  ترکِ وطن پر مجبور کیے گئے ہیں ۔ اپنے گھر کو  مجبوراً چھوڑنا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ وہ ان کہانیوں میں بڑی تفصیل سے سمو دیا گیا ہے ۔ 

یہ کتاب دو حصوں میں منقسم ہے ۔ ایک حصہ وہ ہے جس میں نظریات ، ترک وطن ، نقلِ مکانی ، طرزِ حکمرانی اور سیاست کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے جو اس کتاب کو علمی  تحقیقی دستاویز بناتا ہے۔ جب کہ دوسرا حصہ اُن المیاتی کہانیوں پر مشتمل ہے جو اس  کتاب کو  بر صغیر کا  ہولوکوسٹ ثابت کرتا ہے ۔ پروفیسر اشتیاق نے جس لگن ، وابستگی اور محنت سے یہ کتاب مرتب کی ہے، وہ اُن کا اپنے  آبائی وطن سے محبت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔ یہ کتاب جو انگریزی میں لکھی گئی تھی ، ایک مشاق اور زیرک مترجم وسیم بٹ کے فنِ ترجمہ پر دسترس کا واضح ثبوت ہے ۔ اگرچہ اردو کے ایک استاد کی حیثیت سے مجھے ضمنی جملوں  کی ترتیب اور ترکیب  پر ہلکا سا اعتراض ہے ، مگر اس کی نشان دہی اس لئے غیر ضروری ہے کہ اب پاکستان کی اردو صحافت میں یہی ہو رہا ہے ۔ تاہم کتاب کا اردو ترجمہ  سہل، رواں اور شستہ ہے اور کہیں بھی کوئی ابہام پیدا نہیں ہوتا ۔ اس پر مصنف اور مترجم دونوں تحسین کے مستحق ہیں ۔

یہ کتاب پیرامائونٹ بُکس کراچی کے زیرِ اہتمام بڑے سلیقے سے شائع کی گئی ہے لیکن کتاب پر قیمت کہیں بھی درج نہیں ۔  یہ ایسی  کتاب ہے جسے تمام  پاکستانی لائبریریوں میں موجود ہونا چاہیے۔ لیکن حیرت ہے کہ اس کتاب کی صرف پانچ سو کاپیاں چھاپی گئی ہیں ۔ حالانکہ اس کا  پہلا ایڈیشن پانچ ہزار کی تعداد میں چھپنا چاہیے تھا ۔ ایسی اہم تاریخی دستاویز مرتب کرنے پر پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد کو خصوصی مباک باد۔