تباہی کے گھر میں قیام

زندگی ایک ڈیڈ لائن معاملہ ہے کہ جو کام اپنے ذِمّے لیا جائے ، اُسے مقررہ تاریخ اور وقت پر پایہ ء تکمیل تک پہنچایا جائے  ۔ یہ زندگی کا چیلنج ہے ۔ اور ہم پاکستانیوں کو اس طرح کے کئی چیلنج درپیش ہیں مگر ہم  من حیث القوم جن منصوبوں کا آغاز کرتے ہیں ،  کبھی بھی مقررہ تاریخ اور وقت پر مکمل نہیں کر پاتے ۔ مثال کے طور پر ؟

مثال کے طور پر بجلی کی فراہمی کے منصوبے  ۔۔ ۔  ہم بجلی کی فراہمی کے بجائے سڑکوں ، پلوں کی تعمیر، میٹرو بس   اور انٹرنیٹ ،  موبائل فون اور ٹی وی چینلوں کی فراہمی پر لگے ہوئے ہیں ۔ وزیرِ اعظم میاں نواز شریف حلفیہ کہہ رہے ہیں کہ اگلے ڈھائی سال میں بجلی آئے گی اور ایسی آئے گی  کہ پھر کبھی نہ جائے گی ۔ یہ بیان سُن کر مجھے حاجی لق لق کاشعر یاد آ گیا :
الٰہی آئیں وہ گھر میں مرے برطانیہ بن کر
نکالیں لاکھ تو کہہ دیں کہ ہم جایا نہیں کرتے

بجلی آئے گی اور کہے کہ میں اب نہیں جاتی ۔ یہ بچوں کی ایک نئی الف لیلیٰ ہے جسے میاں نواز شریف پاکستانی بچوں کو سنا رہے ہیں ، اور بڑے تیقن سے سُنا رہے ہیں ۔ اور قیاس کرنے والے قیاس کر رہے ہیں کہ جب اقتدار کی مدت کے صرف اڑھائی سال ہی باقی رہ گئے ہوں تو یہ کہانی بہت دل چسپ اور قابلِ یقین لگتی ہے کیونکہ اڑھائی سال بعد جو طبقہ  بھی بر سرِ اقتدار آئے گا وہ حسبِ روایت سابقہ حکومتوں سے ورثے میں ملے مسائل کا رونا روئے گا اور روتے روتے ، آنکھیں ملتے ، اور ولایتی ٹِشو سے آنکھیں پونچھتے اپنی مُدتِ اقتدار گزار دے گا  ۔ اسی کشا کش میں پانچ سال پورے ہو جائیں  گے اور حکمران اپنی جمہوریت کے دام کھرے کر کے یہ جا وہ جا  ۔

اور بجلی کی فراہمی سے بھی زیادہ اہم ایک اور  معاملہ ہے اور وہ ہے دہشت گردی کا خاتمہ ۔  یہ دہشت گردی کون ختم کرے گا ؟
کیا وہی ختم کریں گے کہ جنہوں نے دہشت گردی کی انڈسٹری لگائی ، جیش جتھے اور لشکر بنائے اور پھر مُلک کو ان سانپوں اور بچھوئوں کے حوالے کردیا  ؟
اب ان سانپوں نے انڈے دے کھے ہیں اور سانپوں کی نئی نسل انہی دہشت گردوں کی شریعت سیکھ کر پروان چڑھ رہی ہے ۔ چنانچہ اس وقت " ضربِ عضب " کو دو مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ ایک تو دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا ا اور دوسرا اُن کی نئی نسل کو دہشت گردی کی منفی تعلیم اور اُس کے اثرات سے محفوظ رکھنا ۔ مستزاد یہ کہ جو جرائم پیشہ لوگ ان شدت پسند تنظیموں میں شامل ہوئے ہیں اُن کی شناخت کرنا اور ڈی ایجوکیٹ کرنا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ، مرحلہ بلکہ معرکہ ہے ۔ 

اس مسئلے کا حل کیا ہے اور کس کے پاس ہے ؟  یہ اُن لوگوں کے پاس ہو سکتا ہے جو خود شدت پسندی کے رُجحانات سے چھٹکارا پا چکے ہوں ، مگر وہ لوگ کہاں ہیں ؟ شاید کہیں نہیں کیونکہ ہمارا قومی منظر نامہ یہ دکھا رہا ہے کہ ہم ہر قومی شعبے اور ہر فکری محاذ پر شدت پسندی کا شکار ہیں ۔ مذہبی شدت پسندوں نے فرقوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ء کر رکھا ہے اور اس تفرقہ بازی کا رنگ مسلمان ملکوں کے باہمی تنازعات میں ہینگ اور پھٹکڑی کے ساتھ  چوکھے سے بھی کئی گُنا چوکھا آ رہا ہے ۔ چنانچہ سعودی عرب اور یمن کا تنازعہ ہو ، ایران اور اس کے سُنی حریفوں کا لفڑا ہو ، پاکستان افغانستان یا پاک بھارت روایتی جنگ بازی ہو ، ان سارے تنازعوں کو ہوا دینے اور ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے نظریاتی محاذ پر ایک باقاعدہ حکمتِ عملی موجود ہے جو سکول کے بچوں میں نفرت کا زہر بھرتی ہے ، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس آلودہ تعلیمی فضا میں لوگ باہمی محبت ، احترام ، امن اور رواداری سے نا آشنا ہوتے جا رہے ہیں ۔

ہم اور ہماری دنیا دیکھ رہی ہے کہ نفرت کی یہ وبا بستی بستی پھیل گئی ہے ۔  نفرت جو ڈینگی مچھر سے بھی زیادہ خطرناک ہے ، انسانی خون کی پیاسی ہے ۔ دو روز پہلے جہلم میں ایک فیکٹری کو جو احمدی مکتبِ فکر کے لوگوں کی ملکیت تھی ، نذرِ آتش کردیا گیا ۔  یہ بلاس فیمی کے قانون کے غلط استعمال کی ایک  اور بُری مثال ہے ۔  اِس قانون کے غلط استعمال نے لوگوں کو خونخوار بنا دیا ہے ۔ المیہ تو یہ ہے کہ ہمارا عدالتی نظام بھی اس قانون کے نام پر کی گئی لا قانونیت کے آگے بے بس ہے ۔  اس کی ایک مثال سلمان تاثیر مقتول کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت کا مسلسل التوا ہے ۔ اور یہ اس لئے ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدل و انصاف کی مشینری خوف میں مبتلا ہے ۔

خوف اداروں کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیتا ہے  اور یہ فالج صرف قومی اداروں تک ہی محدود نہیں بلکہ دہشت گردی اور شدت پسندی کا عفریت اب بیشتر گھروں  میں گھسا ہؤا محسوس ہوتا ہے ۔ یہ عفریت اب ازدواجی زندگی اور فیملی لائف کو بھی متاثر کر رہا ہے ۔ رشتہ و پیوند اور لوگوں کے دوطرفہ تعلقات کو بھی شدت پسندی کی آگ نگلتی چلی جا رہی ہے ۔ کہیں کوئی باپ اپنے تین معصوم اور کم سن بچوں کو ہلاک کر دیتا ہے ، کہیں کوئی نوجوان محبت کا جھانسہ دے کر کسی لڑکی کو اپنے دامِ فریب میں پھانستا ، اُسے بلیک میل کرتا ہے  ، اُس کی عصمت دری کرتا اور پھر اُسے چھت سے گرا کر موت کے مونہہ میں ڈال دیتا ہے ۔ ایسے واقعات پاکستان کی مسلمان سوسائٹی کا روز مرہ بن گئے ہیں جو اس دہشت گردی منطقی  کا ثمر ہیں ۔

کم و بیش یہی کیفیت ، ملکی اداروں ، سیاسی جماعتوں ، سیاستدانوں اور علماء کے طرزِ عمل پر بھی طاری ہے۔ ٹاک شوز میں اُن کی کج بحثی یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ اگر اُن کے بس میں ہو تو وہ ایک دوسرے کو کچا چبا کر کھا جائیں ۔ حال ہی میں مزرا ذوالفقار نے آصف علی زرداری کے حوالے سے جو پنڈورا بکس کھولا ہے ، وہ ان شرفاء کی اصل صورت کی جھلک دکھا رہا ہے۔ اور بے چاری قوم ان شدت پسندوں کے ہاتھوں جیتے جی ، جہنم کا ایندھن بنتی چلی جا رہی ہے ۔ ایسے میں آسمانوں سے ایک صدا آتی سنائی دیتی ہے :
" اور کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا ، جنہوں نے خُدا کے احسان کو نا شکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا ۔ " سورہ ء ابراہیم ، ۲۸