نفرت کے جہنم کا داروغہ ۔۔۔ مودی
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 29 / نومبر / 2015
- 11181
میں نہیں جانتا کہ بات کہاں سے شروع کریں ؟ خود اپنے متروکہ قید خانے سے شروع کروں یا بھارت میں قید بیس کروڑ مسلمانوں سے آغاز کروں جو ان دنوں مودی سرکار کی چھتر چھاؤں میں پلنے والی شیو سینا جیسی کتنی ہی بلائوں کی دست بُرد کا شکار ہیں ۔
نریندر مودی بھارت کے پردھان منتری یعنی وزیرِ اعظم ہیں اور کسی قوم کے مُنتخب وزیر اعظم کو دریدہ دہنوں اور بد گویوں کی طرح صلوٰاتیں سنانا اہلِ قلم کا منصب نہیں ۔ مودی اس زمین پر اُسی خُدا کی اُتاری ہوئی بلا ہے جس نے پاکستان میں مُلّا فضل اللہ ، حافظ سعید اور اُسامہ بن لادن کو اُتارا اور اُنہیں جنرل پرویز مشرف کا ہیرو بنایا اور جس نے مولوی عبدالعزیز کو لال مسجد میں لہو کی ہولی کھیلنے اور برقعے پہننے کی تعلیم دی ۔ نفرت کے یہ سارے پیغمبر ہمارے اپنے حکمرانوں کی پالیسیوں کا شاخسانہ ہیں ۔ بھارت ، جس میں بیس کروڑ مُسلمان بستے ہیں ، ہمارے مذہبی ، عسکری اور سول سیاستدانوں کی ہدایات کے مُطابق سکولوں کے تعلیمی نصابوں اور مدرسوں کی فقہی تاویلوں میں نفرت کے مضمون کی زد پر رہا ہے ۔ بھارت دشمنی ایوب خان کے زمانے سے ہی ہم پاکستانیوں کی فکری غذا رہی ہے، جس میں انڈونیشیا کے احمد سوئیکارنو کا گنجنگ انڈیا کا نعرہ گُڑ کی گچک کی طرح ہمارے ملک کے بچے بچے کی پسند رہا ہے ۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے پاکستانی حکمران ہر گز اتنے با صلاحیت اور لائق تو تھے ہی نہیں کہ وہ اڑسٹھ برس کے دوران کشمیر کے تنازعے کا کوئی سیاسی حل تلاش کر سکتے ۔ سیاسی حل کے بجائے اُنہوں نے کشمیر کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا ۔ مسلح جدوجہد نے پاکستان کو دینا تو کیا تھا ، بلکہ اُؒلٹا آدھا پاکستان ہی چھین کر بنگلہ دیش بنا دیا ، جس کے مابعد اثرات یعنی آفٹر ایفیکٹس اب تک پلاسٹک کے قومی سانپ کے گلے کی چھچھوندر بنے ہوئے ہیں ۔
اب اس وقت برِ صغیر کے مسلمانوں کی ارضی تصویر یہ ہے کہ وہ تین ٹُکڑوں میں بٹے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں ۔ شومئیِ قسمت سے ان تینوں مسلمان ٹُکڑیوں کے درمیان اسلام اتحادی عامل نہیں رہا بلکہ ایک کاغذی مفروضہ ہے ، ایک موہوم اور بے نام سا رشتہ ہے ۔ ایک تاریخی غلط فہمی ہے ۔ ان مسلمانوں کو یہ معلوم نہیں کہ اُن کے درمیان اخُوت کا رشتہ ہے اور وہ انما المومنون اخوۃ کے قرآنی حکم کے بندے ہیں ۔ اسلام فی الوقعہ مذہبی بیوروکریسی کے ہاتھ کی لاٹھی ہے اور وہ اس لاٹھی سے پچاس کروڑ سے زائد مسلمانوں کو چھوٹے چھوٹے ریوڑوں میں بانٹ کر اپنی فرقہ واریت کی چراگاہوں میں چراتے رہتے ہیں اور جب کبھی موقعہ ہاتھ آتا ہے ، اُن کی چمڑی کی دمڑی بھی وصول کر لیتے ہیں ۔
مگر یہ مودی کون ہے اور ہمارا کیا بگاڑ رہا ہے ؟
مودی سے اچانک مجھے نادر شاہ افشار یاد آ گئے ہیں ۔ اُنہوں نے دلی پر فوج کَشی کی تو اپنی برہنہ شمشیر بلند کر کے ہدایت جاری کی کہ جب تک میری تلوار کا رُخ آسمان کی طرٖف عالمِ اللہ اکبر میں ہے ، قتلِ عام جاری رہے ۔ یہ خونیں تماشا دیکھ کر ایک فقیر نے ایک کاغذ پر ایک سوال لکھ کر اُسے بھجوایا کہ تم کون ہو اور یہ کیا کر رہے ہو ؟ اُس نے کاغذ پر اپنے جواب میں لکھوایا کہ میں تُمارے عملوں کی شامت ہوں ۔ اس پر فقیر نے کہا:
ایں شامتِ اعمالِ ما ، صورتِ نادر گرفت
اور اب برِ صغیر میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے ، اُسی کو ملحوظ رکھتے ہوئے آج کا درویش کہتا ہے:
ایں شامتِ اعمالِ ما ،صورتِ مودی گرفت
مودی جدید سیاسی تاریخ کا ایک عجیب کردار ہے کہ دنیا بھر میں بیف یعنی گائے کا گوشت کھانے والوں سے تو دوستی رکھتا ہے مگر بھارت میں اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے پر وجب القتل قرار دیتا ہے ۔ جب امریکی صدر باراک حسین اوباما دہلی میں سلطنتِ مودیہ کے مہمان تھے تو پردھان منتری مودی نے اُن کے گرد شاہی غلاموں کی طرح رقص کیا اور ہاتھ سے چائے بنا کر پیش کی ۔ مودی کے ورود کے بعد سے چائے اب بھارت کا قومی مشروب بن چکی ہے ۔ مودی یہودی بیف خوروں کا گہرا یار ہے ۔ خلیجی ریاستوں کے گائے خوروں کو بھی دوہتڑ سلام پیش کرتا ہے ۔ اگر گائے خوری گناہ ہے تو مودی ان گائے خور موذی ریاستوں سے تعلقات منقطع کیوں نہیں کر لیتا ۔ لیکن حقیقی صورتِ حال یہ ہے کہ کہ وہ خود تو ان گاؤ خوروں کا بے دام غلام ہے اور اگر وہ سچا اور کھرا ہندو ہوتا تو اُن سب سے تعلقات توڑ لیتا جو گائے کا گوشت کھاتے ، اُسے برامد کرتے اور اُس کی تجارت کرتے ہیں۔ مگر مودی تو سیاست کا وہ جدید نادر شاہ ہے جس نے تلوار کے بجائے چائے کا کپ بلند کر رکھا ہے اور ہدایت جاری کر رکھی ہے کہ جب تک چائے کا کپ بلند ہے ، مسلمانوں کی ناک میں دَم رہے ۔
اور بے چارے مسلمان ، سرحد کے اِس پار ہوں ، اُس پار ہوں یا بیچ میں بنگلہ دیشی سینڈ وچ بنے ہوں ، برِ صغیر کے سیاسی ٹھگوں ، کرپشن زادوں اور مذہب فروشوں کے ہاتھوں عاجز آ چکے ہیں اور مسلسل گا رہے ہیں :
ایں شامتِ اعمال ما ، صورتِ مودی گرفت