لاقانونیت کا ثمر
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 06 / دسمبر / 2015
- 8190
قرار دادِ لاہور کے اکہتر سال بعد اُس دستاویز کے کسی مثبت یا منفی پہلو پر اعتراض ، گفتگو یا بحث درکار نہیں تاہم جس وقت یہ قرارداد پیش ہوئی اور منظور کی گئی ، اُس پر ہندو پریس کا ردِ عمل یاد آتا ہے جس نے شور مچایا کہ مسلمان پاکستان مانگتے ہیں ۔
پاکستان دنیا کے نقشے پر وجود میں آیا ۔ پھر پچیس سال بعد اسی مہینے کی سولہ تاریخ کو آدھا پاکستان واپس کردیا گیا ، ہو گیا یا اپنے مغربی جوڑے سے جُدا کردیا گیا ۔ اور جو باقی آدھا پاکستان رہ گیا وہ عالمی طاقتوں کا کلائیڈو سکوپ بن کر رہ گیا ہے، جسے امریکی جنگ پسند پینٹاگان میں بیٹھ کر گھماتے ہیں تو بارود کے دھوئیں اور لہو کی لالی کے امتزاج سے بننے والے رنگین مناظر بار بار ، تسلسل اور تواتر سے بدلتے ہیں ۔ ان مناظر کا حاصل کسی کے لئے عذاب اور کسی کے لئے نئے عالمی نظام کے نام پر دنیا بھر کی حکمرانی کا نشہ ہے ۔
پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ وہ وجود میں تو ایک ہی آیا تھا مگر اُس ایک کے اندر اب جتنے پاکستان مضمر ہیں ، گنتے گنتے تھک گیا ہوں ۔ ان میں سب سے طاقتور پاکستان عسکری پاکستان ہے ۔ اُس کے بعد دوسرا پاکستان مُلائیت پوش پاکستان ہے ، تیسرا پاکستان کالعدم تنظیموں کا ہے ، پانچواں پاکستان منی لانڈرر مافیا کا ہے، چھٹا پاکستان کے سیاسی مزدوروں اور تاجروں کا ہے جو سیاست کی آڑ میں تجارت کرتے ہیں اور ساتواں پاکستان بے چارے عوام کا ہے ۔
پاکستانوں میں سب سے طاقت ور عسکری پاکستان ہے جس نے حال ہی میں اپنے طاقت ور ہونے کا ثبوت یوں مہیا کیا کہ آرمی پبلک سکول پشاور کے حملہ آوروں کو کیفرِ کردار تک پہنچا دیا ہے، جب کہ سول سیاسی پاکستان سالہا سال سے مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو مذہبی لاڈ پیار کے جھولے میں جھُلا رہا ہے ۔ یہ صورتِ حال سول پاکستان کے عدالتی نظام کی نامردی کی واضح مثال ہے ۔ یہ عدالتیں ، ان کا عملہ اور وکلاء جس قانونی ڈھانچے سے اپنے اللوں تللوں کے لئے بھاری معاوضے اور فیسیں وصول کرتے ہیں ، اُس کا فائدہ نہ عوام کو پہنچتا ہے اور نہ ہی ملکی نظام کو جسے جمہوریت کہا جاتا ہے۔ ( یہ الگ بحث ہے کہ وہ نظام جمہوریت ہے یا نہیں) ۔
پاکستان میں لیاقت علی خان سے لے کر بے نظیر بھٹو تک جتنے سیاسی قتل ہوئے ہیں ، مروجہ پاکستانی عدالتی نظام قاتلوں کو پکڑ کر سزا نہیں دے سکا ۔ قتل کی ان وارداتوں کے ضمن میں پاکستان کے قانونی ڈھانچے کی گرفت نیل پالش لگی مخروطی ریشمی انگلیوں کی گرفت کی طرح محض ایک تکلف رہی ہے جب کہ ایک فوجی حکمران نے ایک منتخب اور مقبول وزیرِ اعظم کو انہی عدالتوں کے ہاتھوں موت کی سزا دلوائی ، جو ایک طاقتور عسکری پاکستان کے آہنی ہاتھوں کی گواہی ہے ۔
قانون کی حیثیت کسی ملک میں عوام کے لئے باپ کی سی ہوتی ہے ، یعنی زمین اگر ماں ہے تو باپ قانون ہے ۔ قانون لوگوں کے لئے نا انصافی اور ظُلم کے خلاف آخری پناہ گاہ ہوتا ہے ۔ قانون بے رحمی ، نا انصافی اور تشدد کے خلاف بنیان مرصوص کی طرح تن جاتا ہے ۔ قانون حق دار کو اُس کا حق دلواتا ہے اور حقوق غصب کرنے والوں کا ہاتھ تھام لیتا ہے ۔
لیکن جن معاشرتوں میں قانون مراعات یافتہ طبقے کی گھریلو ملازمہ بن کر رہ جائے وہاں عدالتِ عظمیٰ کا کوئی جج ، وفاقی شرعی عدالت کا کوئی قاضی القضا ، کوئی اٹارنی جنرل اور کوئی وزیرِ قانون اپنے عہدے اور منصب کا پاسدار نہیں ہوتا ۔ ایسی معاشرتوں میں لوگ قانونی یتیم ہوتے ہیں ۔ لیکن جن کے پاس قانون کی قیمت ہوتی ہے وہ ہر ظلم ڈھا کر ، قتل عمد کر کے صاف بچ جاتے ہیں یا با عزت بری ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ ملکی نظام لاقانونیت کا نوالہ بن چکا ہوتا ہے ۔ اور جب لاقانونیت سماجی رویہ بن کر رائج ہو جائے تو ممتاز قادری کی طرح کےقاتل ایک خاص مکتبِ فکر کے لوگوں کے محبوب بن جاتے ہیں اور لائقِ اعزاز گردانے جاتے ہیں ۔
قانون شکنی جب کسی قوم کا روز مرہ بن جائے اور اُسے عام آدمی سے لے کر ایلیٹ حلقوں تک میں سماجی ایڈونچر کے طور پر قبول کر لیا جائے تو معاشرہ زندگی کی ہر رعنائی اور حُسن سے محروم ہوجاتا ہے ۔ ایسے معاشرے میں کوئی کسی کی نہیں سُنتا ۔ لوگ اپنے فیصلے اپنی صوابدید ، اپنی گمرہی اور اپنی گروہی شناخت کے مطابق کرتے ہیں کیونکہ کسی کے پاس صداقت کا حقیقی معیار ہی نہیں ہوتا ۔ کراچی میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں جماعتِ اسلامی کی شکستِ فاش ، پیپلز پارٹی کا دھڑن تختہ اور پی ٹی آئی کی پٹائی کے بعد کھلا کہ متحدہ کا ووٹ بنک اتنا مضبوط ہے کہ اُس کی دیواروں میں نقب لگانا یا اُس پر ڈاکہ ڈالنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔ الطاف حسین کے خلاف قتل ، منی لانڈرنگ یا بھارت نوازی کا پراپیگنڈہ یا حقیقت لوگوں کو متحدہ سے بد ظن کر کے اُن کے نقطہ ء نظر کو تبدل نہیں کر سکا ۔ متحدہ کے ووٹر اور عام کارکن جوں کے توں اپنی جگہ پر قائم ہیں اور حالیہ انتخابات میں واضح اکثریت نے اُن کا حوصہ بلند تر کردیا ہے ۔ مگر کیوں ؟
جواب واضح ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اور سابقہ وفاقی زرداری حکومت اپنے پیچھے قانون شکنی کی جو روایت چھوڑ گئی ہے ، وہ الطاف حسین پر لگنے والے منی لانڈرنگ کے الزامات سے زیادہ سنگین ہے اور ایان علی کیس میں جس طرح قانون شکنوں کو مراعات دی گئیں ، اُس کی وجہ سے لوگوں نے اپنی تقابلی صوابدید کے مطابق ایم کیو ایم کے قائد پر لگنے والے الزامات کو سیاسی انتقام جانا ہے اور حالیہ انتخابات میں اُس کا بدلہ پیپلز پارٹی سے لے لیا ہے ۔ الیکشن کے نتائج سے قطع نظر ، مجھے ایک اور خدشے نے آن گھیرا ہے کہ:
گذشتہ دنوں متحدہ کے بعض لیڈروں کی طرف سے الگ صوبے کے قیام کے مطالبے کا اعادہ کیا جاتا رہا ہے۔ اور میرا اندازہ ہے کہ اس الیکشن کے بعد اس مطالبے میں شدت آئے گی اور خود کو مہاجر سمجھنے والے انتہائی اقدامات سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔