ربیع الاول کے احترام کے تقاضے
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 15 / دسمبر / 2015
- 7104
پاکستانی سیاسی اخلاقیات ، معاشرتی زوال کی ایک ایسی کہانی بیان کرتی ہیں جس میں ایک خوبصورت نظریاتی ملک کے بیس کروڑ لوگوں کی اکثریت اپنی قومی شناخت کے بحران میں مبتلا ہے ۔ یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس ملک کے اصل حکمران کون ہیں ۔
انہیں ، جنہیں عوام کہا جاتا ہے ، بارہا گُڈ گورننس کا لولی پوپ لہرا لہرا کر دکھایا جاتا رہا ہے ، مگر لوگ نہیں جانتے کہ گُڈ گورننس کا ذائقہ کیا ہے ۔ گُڈ گورننس کا خواب بننے والے گُڈ گورننس کے ہجے کرنا تک نہیں جانتے ۔ البتہ اس ملکِ خُداداد میں تین مراعات یافتہ طبقے ایسے ہیں جو سیاہ و سفید کے مالک ہیں اور وہ اس ملک کے بلاشرکتِ غیرے مالک بننے کے لئے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں اور اپنی لڑائی میں عام پاکستانی کے حقوق غصب کر کے پامال کرتے چلے جا رہے ہیں ۔ سیاسی مگر مچھ ، مذہبی اجارہ دار اور سول بیورو کریٹ ۔ ان تینوں طبقوں میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کو عام آدمی کے دکھ درد اور معاشی مشکلات کا احساس ہو ۔ اگر ہے بھی تو تقریروں اور بیانات کی حد تک ہے ۔ جہاں تک عملی اقدامات کا تعلق ہے ، برسرِ اقتدار طبقے ہمیشہ عوام کے مفادات کو نظر انداز کر کے اپنے مالی مفادات کے تحفظ کے کےلیے سرگرمِ کار رہتے ہیں ۔
پاکستانی عوام کے معاشی وسائل اور اُن کی تقسیم کے نظام کو جو گھن لگا ہؤا ہے اُس کا نام کرپشن ہے۔ کرپشن ایک ایسا مکارانہ شیطانی جال ہے ، جس کے جیڈ کی طرح کئی شیڈ ہیں ۔ رشوت ۔ کمیشن ۔ بھتہ خوری ، ٹیکس چوری ، بجلی چوری ، چور بازاری ، ملاوٹ ، جعلی ادویات ، فرضی سکول ، خیالی اساتذہ ، جعلی ڈگریاں اور جعلی مذہبی نظریات ۔ اگر کرپشن کا پورا شجرہ ء نسب اور اس کی ذیلی شاخوں کی نشان دہی کی جائے تو علم الامراض کا ایک پورا دفتر وجود میں آ جاتا ہے ۔ کرپشن ، لاقانونیت ، ٹارگٹ کلنگ اور ڈکیتی یوں تو ملک بھر میں رائج ہیں ، مگر کراچی میں بطورِ خاص ایک لا ینحل مسئلہ بنی ہوئی ہیں ۔ ان گھناؤنےجرائم کی روک تھام جب سول انتظامیہ کے بس کی بات نہ رہی تھی تو رینجرز کو بلایا گیا ۔ اس کے لئے سندھ حکومت نے باقاعدہ درخواست کی تھی ۔ کاروائی شروع ہوگئی ۔ کراچی میں جرائم کی شرح کم ہوگئی ۔ لوگوں کو سکون کا احساس ہؤا۔ لیکن جب تفتیش کے دوران ایسے لوگوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے شواہد ملے جو حکومت کا باقاعدہ حصہ رہے تھے ، تو سندھ کے حکمرانوں کے کان کھڑے ہوئے اور پھر رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان سرد اعصابی جنگ شروع ہو گئی ۔ اور اب بات یہاں تک آ پہنچی ہے کہ رینجرز اور پیپلز پارٹی دو متحارب قوتوں کے طور پر آمنے سامنے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کراچی میں رینجرز کو مزید کاروائی کی اجازت نہیں دینا چاہتی جب کہ پیپلز پارٹی کی حریف جماعتیں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے لئے مظاہرے کر رہی ہیں ۔ یہ ایک عجیب نوعیت کی سیاسی جنگ ہے جو کرپشن چھپانے کے لیے یا کرپشن کو فروغ دینے کے لیے لڑی جا رہی ہے ۔
پاکستان میں نیب اور اینٹی کرپشن جیسے خصی ادارے موجود ہیں مگر اِن میں کسی کو سزا دینے اور سزا پر عمل درآمد کرانے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ یہ سول انتظامیہ کے غیر مؤثر ہونے کی گواہی ہے جو سول انتظامیہ کو کرپشن کا سول ڈسٹریبیوٹر ثابت کرتی ہے ۔ ابھی ایان علی کا منی لانڈرنگ کا کیس زیادہ پرانا نہیں ہؤا ، جس میں ایسے پردہ نشینوں کے نام سنائی دئے جن کا لال مسجد کے مولوی عبدالعزیز سے تو کوئی تعلق نہیں مگر وہ بھی با پردہ معززین ہیں ۔
حال ہی میں میڈیا کے توسل سے پتہ چلا ہے کہ ایان علی اپنی قسم کی اکیلی پہیلی نہیں بلکہ اس قماش کی کم و بیش اٹھائیس حسینائیں اور حسین ہیں جن میں فلم انڈسٹری اور ٹی وی ڈراموں کے غلمان بھی شامل ہیں جو منی لانڈرنگ کی انڈسٹری میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور کروڑوں میں کھیلتے ہیں ۔ ان حسینوں کی نہ ہینگ لگتی ہے اور نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آتا ہے ۔ مگر یہ کن ہاتھوں کی لگائی ہوئی صنعت ہے ؟ کون معشوق ہے اس پردہ ء زرداری میں ؟ کس نے اُس کسٹم افسر کو قتل کیا جس نے ایان علی پر ہاتھ ڈالا تھا ۔ اب اس غریب کسٹم انسپکٹر کا تو کوئی ذکر ہی نہیں کرتا ۔ اور کوئی بھی قسم کھا کر یہ نہیں بتاتا کہ پاکستان کے غریب عوام کے کتنے اثاثے ان منی لانڈرنگ کے سیٹھوں نے لوٹ کر دیارِ غیر میں اپنی ملکیت میں رکھے ہوئے ہیں ؟ کیا نیب اس قسم کے دستاویزی ثبوت جمع کر کے عوام کے سامنے لاتی ہے کہ کس نے کتنا لوٹا ہے؟ بالکل بھی نہیں ۔ لوٹ مار کی یہ رقم حکمران طبقوں کی باہمی اور مشترکہ کمائی ہے جو بالآخر کچھ لو اور کچھ دو کے سنہری اصول کے تحت مُک مکا پر ختم ہو جاتی ہے ۔
میں نہیں جانتا کہ اب وفاق اور سندھ کی صوبائی حکومت کے درمیان رینجرز کا اونٹ کس کروٹ بیٹھنے والا ہے ، مگر جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ ملک کی علاقائی سالمیت کے لیے دھچکا ضرور ہے ۔ اندیشہ ہے کہ کہیں "پاکستان کھپے" کا نعرہ بلند کرنے والے پھر سے یو ٹرن نہ لے لیں ۔ رینجرز کو اختیارات میں توسیع نہ دینے میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ایک پیج پر نظر آتی ہیں کیونکہ سندھ اسمبلی میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی قرارداد کو کل پر ٹالنے کے خلاف جو احتجاج ہؤا ، ایم کیو ایم نے اس میں اپوزیشن کا ساتھ نہیں دیا ۔ دوسری طرف یہ آواز بھی اُٹھ رہی ہے کہ کرپشن کے خلاف کاروائی کا دائرہ وسیع کر کے پنجاب میں بھی آپریشن شروع کیا جائے ۔ کچھ لوگوں کے لئے اس قسم کی آواز یقیناً نا پسندیدہ ہو سکتی ہے ، مگر بکرے کی ماں کو اپنی خیر منانے کی حد کا تعین کرنا ہوگا ۔
یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے ، جوصادق اور امین ﷺ کے میلاد کا متبرک مہینہ ہے ۔ اس مہینے کے تقدس کا احترام ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ اس مہینے میں کرپشن کا کاروبار ملتوی ہو جانا چاہیے ۔ جرائم پیشہ لوگوں کو بھی اس ملک کی دینی بنیادوں کا احترام روا رکھنا چاہیے ۔ پولیس کو رشوت نہیں لینی چاہیے ۔ جعلسازوں کو جعل سازی ، تاجروں کو چور بازاری سے اجتناب کرنا چاہیے اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو اپنی ٹریفک بند کر دینی چاہیے ۔ دہشت گردوں کو دہشت گردی سے باز آ جانا چاہیے اور میڈیا کو جھوٹ بولنا بند کردینا چاہیے ۔ اور اگر عشق رسول ﷺ کا دعویٰ کرنے والے اس مہینے یہ بدکاریاں نہیں روک سکتے تو انہیں اپنے عشقِ رسول ﷺ کا سرٹیفکیٹ منسوخ سمجھنا چاہیے ۔ آخر میں آقائے نامدار ﷺ کی خدمت میں میرا سلام :
میرا مدینہ ، مرے دل میں ہو چکا آباد
جہاں سے گنبدِ خضریٰ دکھائی دیتا ہے