فرد کی موت کا نوحہ

فرد ایک بڑی جامع  ، پُر معنی اور ہمہ جہت اصطلاح ہے ۔ فرد انفرادیت کی علامت ہے  ۔  فرد وہ اکائی ہے جو تقسیم نہ ہو سکے ۔  وہ اپنی ذات میں توحید کا منفرد استعارہ ہے ۔ فرد کی تبدیلی قوم کی تبدیلی کا نیک شگون ہوتی ہے ۔ اِسی لئے اُم الکتاب میں لکھا گیا کہ کسی قوم میں اُس وقت تک مثبت اور عمودی تبدیلی رونما نہیں ہو سکتی  ، جب تک فرد نہ بدل جائے ۔  وہ اس لئے کہ تبدیلی کے راستے کی سب سے اہم کڑی فرد ہے  ۔ فرد  اگر وہ اپنی فردیت کھودے تو تبدیلی کے راستے کی سب سے بڑی رُکاوٹ  ثابت ہوتا ہے ، جو ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے ۔

وہ فرد جو سسٹم کو بدلنے کا پُر فریب نعرہ تو لگاتا ہے  ، مگر خود اپنی خود فریبی ، فکری فرسودگی ، روایتی  کہنگی اور دقیانوسیت کے پیڈسٹل سے اُتر کر  فعال حال کا سامنا نہیں کرتا  ، تبدیلی کے عمل کی راہ کی  سب سے بڑی رُکاوٹ ہے ۔ ایسے لوگ اگر سیاست میں ہوں تو اُن کے پاس ایک ہی نفسیاتی حربہ ہوتا ہے کہ تبدیلی کے لیے قانون بناؤ !
جی ہاں ، وہ فرضی  کپڑے سلواؤ ، جو کبھی پہننے ہی نہیں  ۔  وہ جادوئی جوتے بنواؤ جن کا واحد استعمال اپنے ہی سر پر کیا جاتا ہے ۔ پُرانے پنجابی دانشوروں نے کیا خوب نکتہ نکالا تھا :
" اپنیاں جُتیاں اپنے ای سر "

ہمارا قومی رویہ یہ ہے کہ ہم قانون تو بنا لیتے ہیں ، اُسے کتابوں میں رقم کر دیتے ہیں مگر اُن کے استعمال  کی نوبت ہی نہیں آتی ۔ یہ قوانین یا تو کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں ، یا بدنیتی کا شکار ہو جاتے ہیں  یا پھر تیسرے درجے کے جرائم پیشہ لوگ ان قوانین کے دام اسی طرح کھرے کرتے ہیں جس طرح پیشہ ور قُل اعوذیے مذہب کے دام کھرے کرتے ہیں ۔  وہ اس لئے کہ مسجدوں میں امامت کا پیشہ اُن کی روزی روزگار کا ذریعہ ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ  یہ مچھندر اسی مذہب سے روٹی کما کر کھاتے ہیں۔ کسی کو اگر شک ہو تو وہ تحقیق کر لے ۔
لیکن وہ فرد جو اپنی ذات میں مستحکم ہوتا ہے ، ذمہ دار اور  فرض شناس ہوتا ہے ، ہمارے معاشرے میں موجود ہی نہیں ۔ ایسا فرد جس کی تعریف اقبال نے ان الفاظ میں کی تھی :
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے مِلّت کے مقدر کا ستارا

آہ ! ملت کے مقدر کا ستارا بے چارہ  ، جسے کہیں مُلا ،  خطبے کی لاٹھی سے ہانکتا ہے ، کہیں سیاستدان ووٹ کی نکیل ڈالے اُسے اپنی جمہوریت کے کھونٹے سے باندھتا ہے  اور کہیں مصنوعی قوم پرست مادرِ وطن کی قسم دے کر اُس کی مِٹّی خوار کرتا ہے ۔

فرد کی عدم موجودگی کا سب سے بڑا گواہ آج کا وہ مکروہ ترین واقع ہے جو پیپلز پارٹی کے لیڈر بلاول زرداری کے پروٹوکول کی صورت میں لیاری کے ایک خاندان پر گزرا ہے ، جس میں ایک دس مہینے کی کم سن بچی طبی امداد پرٹوکول کی نذر ہو جانے کی وجہ سے موت کی آغوش میں چلی گئی ۔انا للہ و انا الیہ راجعون ۔  اس مرے ہوئے  کم سن وجود پر نو سو دُرے سندھ کے سیاسی دانشور استاد نثار کھوڑو کی استادیاں ہیں، جو اُس گلہری کی ٹپوسیوں سے مشابہ تھیں جو ریوڑ کی رکھوالی کرنے کے بجائے پروٹوکول کی ٹپوسیوں میں مصروف تھا ۔ جب اُن سے کہا گیا کہ پروٹوکول کے تکلف نے ایک معصوم بچی کی جان لے لی تو انہوں نے بچی کی موت کو پروٹوکول کے برابر قرار دیا ۔ کہا کہ بچی کی موت اور پروٹوکول دونوں ضروری ہیں۔ سنا آپ نے ؟ جی !

ایک دس مینے کی بچی کی لاش پر پروٹوکول کا ڈھول ۔ جہاں بجتی ہے شہنائی وہاں ماتم بھی ہوتا ہے۔ اس سندھی بچی کا قتل پوری سندھی قومیت کا قتل ہے۔ لیکن بھنگ کے نشے میں نہ اسلام نظر آتا ہے نہ قومیت نظر آتی ہے اور نہ ہی بھٹو ازم کا فلسفہ ۔ بس یہی رہ جاتا ہے کہ اگر لیڈر کی حفاظت کے لئے کسی غریب کی بچی بھی جان بھی  قربان کرنی پڑے تو گریز نہ کیا جائے ۔ اور واقعی گریز نہیں کیا گیا ۔ مجھے اس بچی کی موت بے نظیر بھٹو کی بارِ دگر موت کا منظر نامہ دکھائی دیا ہے ۔ آج نثار کھوڑو کے ہاتھوں بے نظیر پھر قتل ہوئی ہے ۔ مگر ان پیشہ ور قاتلوں کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے ۔ کیونکہ ایک غریب قوم جس میں فرد کی موت واقع ہو چکی ہو ، اس کے سوا کیا کر سکتی ہے:
قوم کیا چیز ہے ، قوموں کی قیادت کیا ہے ؟
اس کو کیا سمجھیں یہ بھٹو کی لحد کے دربان
اقبال سے معذرت کے ساتھ ۔