ایک نئے پاکستانی کا ظہور

2015  کا سال اپنی بارہ بساطیں لپیٹ کر نو دو گیارہ ہو گیا اور اپنے پیچھے بیڈ گورننس کی شاندار اور انمِٹ مثالیں چھوڑ گیا ۔ جو ماضی ہو جائے اُس کا مذکور ہی کیا مگر سالِ رفتہ جاتے جاتے احساسِ زیاں کے جتنے زخم چھوڑ گیا ہے ہے اُن کو گننا آسمان کے تارے گننے جیسا مشکل کام ہے ۔

میری تحریروں کے بعض قارئین کو شکوہ رہتا ہے کہ میں ہمیشہ قلم سے منفی باتیں لکھتا ہوں  ، سیاستدانوں کی طرح سبز باغ نہیں دکھاتا  ، کرائے کے دانشوروں کی طرح " سب اچھا ہے " کی گردان نہیں کرتا ۔ جی ہاں میں اس قسم کی نوید بالکل بھی نہیں دیتا کیونکہ میرے پاس خوشامد کی وہ عینک نہیں ہے ،  جسے مراعات یافتہ سیاسی مغبچوں نے کرنسی نوٹوں کے لفافے میں ڈال کر ، اُس پر سرکاری تمغے کی مہر لگا کر مجھے تحفتاً دیا ہو ۔ لہٰذا اگر اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں ، تو وہ ٹھیک ہی خفا ہیں  کیونکہ میں نے بھی اپنے نظریاتی بزرگوں سے زہرِ ہلاہل کو قند کہنے کا  فارمولا نہیں سیکھا اور نہ سیکھوں گا  ۔ میں بیماروں کو صحت مند ، جہلا کو علما ء اور منی لانڈرنگ کے ستاروں کو شریف زادے نہیں لکھ سکتا ۔ ہر گز نہیں ۔ جو چاہے کوئی کر لے ۔ ہاہاہاہا

پاکستانیوں کے یہ سارے مسائل اپنی جگہ  ، مگر اس نو زائیدہ سال یعنی بیس سو سولہ میں نیک تمنائوں اور محبت بھری دعاؤں کی چنگیر  بھر کر اپنے متروکہ وطن کے نیک بخت لوگوں کی خدمت میں پیش کرنے کی رسم مجھے اچھی طرح یاد ہے  ، سو میں ایک روایتی ملامتی ملنگ کی طرح قلم کا بھنگڑا ناچتے ہوئے ، پاکستان اور اہلِ پاکستان کے لیے پائیدار امن ، بتدریج اور مسلسل ترقی اور عام آدمی کی پر سہولت اور ہمہ جہت خوشحالی کی مخلصانہ اور عاجزانہ دعا کرتا ہوں کہ  " الہ العالمین ! پاکستانی بچوں کو خالص پانی ، ملاوٹ سے پاک دودھ ، شدھ آٹے کی روٹی اور تعلیمی اور طبی سہولتوں سے بہرہ مند فرما تاکہ پاکستان کی نئی نسل نفرت ، جہالت ، عدم مساوات اور نا انصافی کی زنجیروں کو توڑ کر آزاد فضا میں سالنس لے سکے " ۔

کیا آپ بھی میری طرح نفرت ، جہالت اور نا انصافی کی قید کو غلامی کی بدترین صورت سمجھتے ہیں یا نہیں مگر میں تو ایسا ہی سمجھتا ہوں کہ قائدِ اعظم نے پاکستان کو جو آزادی دلائی ، اُسے نوکر شاہی اور سیاسی مافیا کی محلاتی سازشوں نے پاکستانیوں سے چھین لیا  اور پھر پاکستان کی تاریخ کے صفحات خون کے چھینٹوں ، بموں کے دھماکوں اور بارود کے کثیف دھوئیں سے آلودہ ہوتے چلے گئے  ۔

کیا اس زمین پر کوئی دوسری ایسی قوم ہے جس نے اپنی زندگی کی سات دہائیوں میں سات جنگیں لڑی ہوں اور پھر ایک نہ ختم ہونے والی حالتِ جنگ کو ملک کی گلیوں ، بازاروں ، مسجدوں اور سکولوں کا نصابی روز مرہ بنا دیا  ہو ؟ وہ ملک  کی گلیوں  میں روز لاشیں اُٹھتی ہوں  ، کون سے آئین ، کون سے مذہب اور کون سی تہذیبی سوجھ بوجھ کا امین ہو سکتا ہے ؟ وہ ملک جہاں اسلامی نظریاتی کونسل ، پھڈے بازوں کا اڈہ ہو اور علماء کہلوانے والے ایک دوسرے سے دست و گریباں رہتے ہوں ، وہاں نظریاتی کونسل ، جھگڑیاتی کونسل میں تبدیل ہو جایا کرتی ہے ۔

یہ سب کچھ دیکھ اور بھگت کر ایسا لگتا ہے جیسے ہم زندگی کے صحرا میں ایک مہیب اور عمیق سراب کا سامنا کر رہے ہوں ۔ یہ سراب جو  بے معنی اُمید کا سراب ہے ۔  مستقبل کا سراب ہے ۔ آنے والے کل کا سراب ہے ۔ ہم پاکستانی جس طرح کے ہو گئے ہیں یا بنا دئے گئے ہیں ، اب اس صدی کے سولہویں سال میں خود فریبی کے سراب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ۔

فریڈرک نیشے نے کہیں لکھا ہے کہ اس عہد کا آدمی سچ کے ساتھ جی ہی نہیں سکتا ۔ اُسے جینے کے لئے نعروں ، خوابوں اور فریبوں کی ضرورت ہے ، اُسے  اُن سبز باغوں کی ضرورت ہے جو برسرِ اقتدار طبقہ دکھاتا رہتا ہے ۔ اس طرح وہ مسلسل جھوٹ کی غذا پر پلتا رہتا ہے ۔ چنانچہ آج کا پاکستانی جیسا ہے ، وہ اتحاد ، ایمان اور نظم و ضبط کی کھچڑی کھا ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کا ذہنی معدہ اس قدر خراب ہو چکا ہے کہ وہ جھوٹ  اور خود فریبی کی غذا کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتا  ۔ اس خرابئ بسیار میں اُس کا واحد سہارا یہ طفل تسلی ہے کہ وہ اُمّتِ خیر ہے ۔  اُمتِ خیر کا ترجمہ کچھ ستم ظریفوں نے تفننِ طبع کے لیے خیر مانگنے والوں کی اُمّت قرار دے رکھا ہے جس سے میں اتفاق نہیں کرتا۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ زر اندوزی کے جرثوموں نے شریعت کا چہرا مسخ کردیا ہے ۔ ملکی ادارے تباہ ہو گئے ہیں ۔ پولیس جرائم پیشہ لوگوں کی جاگیر بن کر رہ گئی ہے کہ وہ جس کُتے کو چاہیں باولا کہہ کر مار دیں  ۔ اور یہ کسی ایک ادارے کی بات نہیں ، آوے کا آوا ہی بگڑا ہؤا ہے ۔ کیا سیاسی ادارے اور جماعتیں ، کیا ہسپتال ، کیا بنک ، کیا عدالتیں اور کیا سیکیورٹی ایجنسیاں سب ایک ہی کشتی کے سوار اور ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں ۔ ان سب کے ہاتھوں پاکستان کی جو دُرگت بن رہی ہے اُس پر کفِ افسوس ملنے کہ سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حکمران اپنی بد انتظامی کو گُڈ گوررنس ثابت کرنے کے لیے ملک کے معتبر اور مقتدر وکیل اپنی پتلون کی پچھلی جیب میں رکھتے ہیں ۔ 

لیکن اس کے باوجود میرا وجدان کہتا ہے ہم پاکستان کی آنے والی نسل پر بھروسہ کر سکتے ہیں ، کیونکہ اس نسل کا مشاہدہ تیز اور آئی کیو ہم سے کئی گنا زیادہ ہے ۔ وہ ہمارے غلط پینتروں کو دیکھ رہی ہے ۔ وہ یقیناً اس منفی  صورتِ حال کا سدِ با ب کرنےکی صلاحیت رکھتی ہے ۔ وہ پاکستان کی تعمیر کے لئے حاصل کی گئی اس سفید زمین پر ، جس کا نصف بنگلہ برد ہو چکا ، ایک سچ مُچ کا ، شاندار اور متمول پاکستان از سرِ نو تعمیر کرے گی ۔ ایسا پاکستان جس میں نہ مالی کرپشن ہوگی نہ مذہبی جعلسازی ، نہ اکیڈمک عیاری ، نہ گُڈ گورننس کے نام پر مکاری ، بلکہ ایک پر امن ، ترقی یافتہ اور خوش حال پاکستان ہوگا ۔ سیاسی لُٹیروں کا نہیں عوام کا پاکستان ، جو پچھلی دو نسلوں سے تو نہیں بن پایا  مگر یہ تیسری نسل ضرور بنائے گی ۔ انشا اللہ ۔

ہمتِ مرداں مددِ خُدا ۔ میں دیکھ ر ہا ہوں کہ پرانا فرسودہ پاکستانی ذہن رُخصت ہو رہا ہے اور ایک نیا پاکستانی طلوع ہو رہا ہے ۔ خلقِ جدید کا وعدہ پورا ہونے والا ہے ۔ ایک نئی پاکستانی قوم کی بشارت ۔ یہ نئی اُمت اپنے حالات خود بدلے گی اور اللہ اس تبدیلی میں اُس کا مددگار ہے ۔ نصر من اللہ و فتح قریب ۔
عوام کا پاکستان زندہ باد !