تیسری عالمی جنگ کا قابوس
- تحریر مسعود مُنّور
- بدھ 13 / جنوری / 2016
- 8691
شاید میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں ۔ ایک عجیب اور ڈراؤنا خواب ۔
دیکھتا ہوں کہ اِس وقت دنیا ، یہ قدیم ، متوسط اور جدید دُنیا حالتِ جنگ میں ہے ۔ اِس جنگ کا باقاعدہ آغاز پچھلی صدی میں اسّی کی دہائی میں اُس وقت ہوتا ہے جب روسی فوجیں افغانستان کے پرچمی صدر ببرک کارمل کے کابل میں داخل ہوئی تھیں۔ اور اُنہیں پسپا کرنے کے لئے امریکہ نے اپنے یورپی حلیفوں کے ساتھ مل کر پاکستانی فوج کی خدمات مستعار لی تھیں۔ بظاہر سُرخ لادینیت کو روکنے کے لیے، مگر بباطن امریکی ، یورپی ، اسرائیلی اور سعودی سرمایہ داری کو تحفظ دینے کے لئے بے شمار غیر رسمی فوجی لشکر، جتھے ، جند اور جیش تیار کئے اور دنیا بھر میں پھیلے اسلامی ملکوں سے جہاد کے نام پر مسلمان رضا کار بھرتی کر کے انتہائی خطرناک مسلح روبوٹ تیار کئےگئے جن کو اللہ کی رضا کے لئے مرنے مارنے کی گھٹی دی گئی تاکہ وہ پورے جوش اور ولولے سے دشمن کو نیست و نابود کر سکیں ۔
روس کی پسپائی اور سوویت یونین کے انتظامی ڈھانچے کے پرخچے اُڑ جانے کے بعد اِن فوجوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کردیا گیا تاکہ یہ آپس میں اُلجھے رہیں ، ان کا امن غارت رہے ، ان کی اقتصادی اور صنعتی ترقی رُک جائے اور یہ ایک ایسے وحشی کلچر کی زنجیروں میں جکڑے جائیں ، جس میں وہ ایک دوسرے کا خون پی کر رضائے الٰہی کے تصور میں مست رہیں ۔ یہ ہے تیسری عالمی جنگ کے خواب کا پس منظر:
یہ جنگ سلو موشن میں ، سلسلہ وار لڑی جا رہی ہے ۔ ان جنگی معرکوں ، وقوعوں اور وارداتوں کے درمیان ایک کوآرڈی نیشن فرقہ وارانہ بنیادوں پر موجود ہے ، جس کی رو سے وہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور ایک دوسرے کو ختم کرنے پر تُلے ہیں ۔ کہیں مسلمان ملکوں کے اندر فرقوں کی آویزش ہے اور کہیں سعودی عرب ، یمن اور ایران کے درمیان نظریاتی اور فکری تصادم، اُمت کے درمیان خانہ جنگی کو ہوا دے رہا ہے۔ کہیں داعش ہے تو کہیں طالبان ہیں ، کہیں ضربِ عضب ہے ، کہیں ٹارگٹ کلنگ ہے اور کہیں ناموسِ رسول ﷺ اور توہینِ مذہب کے نام پر سر اُتارے جا رہے ہیں ، پھانسیاں دی جا رہی ہیں اور اس ظُلم و بربریت کا باقاعدہ شرعی جواز مہیا کیا جا رہا ہے ۔ موت کا فقہی جواز ۔
اور سب سے دل چسپ بات تو یہ ہے کہ ساتھ ساتھ یہ لقمہ بھی دیا جا رہا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور پھر بڑی ڈھٹائی سے بار بار انسانیت کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے اُٹھایا جا رہا ہے ۔
یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں ہر جنگی کیمپ کا لشکری کلاشنکوف کی نالی سے قرآن لٹکائے بزعمِ خود حق اور سچ کا سپاہی ہے ۔ یہاں ہر شخص دوسرے کا کافر اور مُشرک ہے ۔ یہ جنگ کچھ اس طرح لڑی جا رہی ہے جیسے یہ دھوپ اور چھاؤں کا کھیل ہو ۔ یہاں دھوپ وہاں سایہ ۔ یہاں جنگ وہاں امن ۔ کبھی غزہ کی پٹی ، کبھی افغانستان ، کبھی عراق ، کبھی شام اور کبھی کشمیر ۔ ہر روز گولیاں چلتی ہیں ، لاشیں اُٹھتی ہیں ، شہروں کی گلیوں میں موت برہنہ پھرتی ہے ۔
اس جنگ کی حالت میں رہتے ہوئے کئی دہائیاں بیت گئی ہیں اور لوگ موت کے اس کھیل کے اس طرح عادی ہو گئے ہیں جیسے وہ موت کے کنوئیں میں رہ رہے ہوں ۔ جی ہاں ، اس عہد میں زندگی موت کے کنوئیں کا کھیل ہے۔ سب لوگ اس موت کے کھیل کے تماشائی ہیں اور موت ایک معمول کا سماجی وقوعہ بنتی چلی گئی ہے ۔ لگتا ہے آۡج کا مسلمان، آدمی نہیں بلکہ ڈینگی مچھر ہے ، بھڑ ہے ، بڑ مکھی ہے ، کھٹمل ہے ، جونک ہے یا پسّو ہے اور ان کا مارا جانا ایسا ہی ہے جیسے کسی گندے سر سے جوں نکال کر ماردی جائے ۔
بظاہر یہ ساری جنگی وارداتیں ٹُکڑوں میں بٹی ہوئی ہیں اور ان کے درمیان گیپ ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ وارداتیں در پردہ بہت مربوط ہیں اور ان کی کمان امریکہ اُس کے مغربی حلیفوں اور یہودیوں ، بشمول تیل کے شیوخ اور سعودی ملوک کے ہاتھوں میں ہے۔ غالباً یہ جنگ باز دیوتا اس جنگ کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کرہ ء ارض کا ایک ایک شخص ڈالر کا غلامِ بے دام بن کر سرمایہ داری کے دین کو اختیار نہ کر لے ۔ یہ جنگ بہت مقدس ہے ۔ کبھی اسے جہاد کہہ کر کرائے کے جہادیوں کے ذریعے لڑوایا جاتا ہے اور کبھی براہِ راست نیٹو کے اتحادی لشکروں کے ذریعے پیش قدمی کی جاتی ہے ۔ یہ ایک ایسی طویل جنگ ہے جس کا دورانیہ ویت نام کی تین جنگوں کے برابر ہے ۔ اس جنگ میں مرنے والوں کی تعداد پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں لقمہ ء اجل بننے والوں سے زیادہ ہو گئی ہے۔ میں کسی سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا یہی اس زمین پر خُدا کا دوزخ ہے جس کا دربان باراک اوبامہ ہے ۔ اچانک مجھے اوبامہ کی ہنسی سنائی دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور پھر الارم سے میری آنکھ کھل جاتی ہے ۔