پُردو اور پولیس گردی
- تحریر مسعود مُنّور
- بدھ 20 / جنوری / 2016
- 8462
میری ذہنی تربیت لگ بھگ دس مسلم لیگوں ، پچاس لاکھ مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں اور چار مارشل لاؤں نے کی ہے ۔ ان اداروں نے مجھے جیسا مصنوعی مسلمان بنایا ہے ، اُس کے لئے میں ان سب کا شکر گزار ہوں اور سب سے زیادہ شکر گزار شیخ رشید اور اُن کی عوامی مسلم لیگ کا ہوں جو تمام ٹی وی چینلوں پر اپنے نظریات کا پرچار کر کے سُننے اور دیکھنے والوں کو کنفیوز کرتے رہتے ہیں ۔
شیخ رشید پاکستانی سیاست میں ایک منفرد حیثیت کے حامل ہیں ۔ اُن کی چوتھائی اینٹ کی سیاسی مسجد راولپنڈی کی لال حویلی سے لے کر جی ایچ کیو تک پھیلی ہوئی ہے اور وہ اپنی اُن طوطا برانڈ سیاسی پیشین گوئیوں کی وجہ سے مشہور ہیں ، جو کبھی پوری نہیں ہوئیں اور نہ ہی ہوں گی ۔ یوں تو موصوف ہر فن مولا ہیں مگر اب اُنہوں نے اردو زبان کو بھی ازسرِ نو مرتب کرنا شروع کردیا ہے اور گزشتہ روز نیوز ون کے پروگروم میں انہوں نے فرمایا : مِستری ! ہُشیار باش " ۔ مشتری کو مستری کرنے کا یہ چونچلا مجھے اردو کو قومی زبان کے طور پر نافذ کرنے کا اشارہ لگتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کی اُنہتر سالہ لسانی تاریخ نے اردو زبان کو پاکستان کی قومی زبان تو نہیں بنایا تاہم اردو ، انگریزی اور مقامی زبانوں کے الفاظ کی آمیزش سے ایک ایسی کھچڑی زبان رائج کی ہے جو اُردو کم اور پُردو زیادہ ہے ۔ پُردو یعنی پاکستانی سیاستدانوں کی اردو ۔
پُردو میں ہر سیاسی عہد میں نئے نئے الفاظ شامل ہوتے رہے ہیں اور اس زبان کا ذخیرہ ء الفاظ بہت وسیع ہوگیا ہے ۔ ان الفاظ میں درفنطنی ، مُک مکا ، مٹی پاؤ ، شڑنگ ، بھتہ خوری ، تورا بورا اور خود کُش جیکٹ بہت مقبول ہیں ۔ لیکن حال ہی میں جو لفظ پُردو کے ذخیرہ ء الفاظ میں شامل ہؤا ہے وہ ہے پولیس گردی ۔ پولیس گردی غنڈہ گردی کا عکس ہے ، مگر ایک فرق کے ساتھ کہ غُنڈہ عنصر شریفوں کا شہری ہوتا ہے جسے گُلو بٹ بھی کہتے ہیں ، جب کہ پولیس سرکاری غنڈوں کا معتبر ادارہ ہے ۔ اس ادارے کے نمایاں خدو خال میں سب سے منفرد دھگانہ شاہی ہے جو سکھا شاہی کے مماثل ہے جس میں یہ سرکاری غُنڈے ، شریف اور مجبور شہریوں کے مونہہ سے چھینے ہوئے نوالوں پر پلتے ہیں ۔ مدعی سے بھی ٹیکس لیتے ہیں اور مدعا علیہ سے بھی اُگراہی کرتے ہیں ۔ تھانے یا پولیس چوکی کی حدود میں واقع دکانوں اور ریہڑیوں سے کھانا ، چائے ، لسی اور سگرٹ پان مفت بٹورتے ہیں اور عدم فراہمی کی صورت میں پُلسیانہ مونہہ سے نکلی ہوئی غلیظ گالیاں ڈینگی مچھر کی طرح ڈس لیتی ہیں ۔
پولیس اور گالی دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔ اور ایسے ملک میں جس کی بنیاد لا الہ الاللہ پر استوار بتائی جاتی ہو، گالی اس کی نظریاتی بنیاد میں غداری کی میخ کی طرح ہے جو کنسٹیبلوں ، منشیوں ، حوالداروں اور چھوٹے بڑے تھانیداروں کے مونہہ سے ٹھن ٹھن گرتی اور اسلام کے چوغے میں سوراخ کرتی رہتی ہیں ۔
ملا پنجابی کہتے ہیں کہ اگر پاکستان کی بنیاد لا الہ الاللہ ہی ہے تو پھر قرآن کی تعلیمات پاکستانیت کا نصاب ہیں۔ قرآن کا واضح حکم ہے کہ لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے پیش آؤ اور ایک دوسرے کو برے ناموں اور القاب سے نہ پکارو مگر پاکستانی پولیس خُدا کے حکم کو بھی ملکی قانون ہی سمجھتی ہے جو سپاہی کے ہاتھ کی چھڑی ہے اور جسے حسبِ ضرورت خریدا اور بیچا جا سکتا ہے ۔ گالی اور رشوت دونوں سنگین جرائم ہیں ۔ رشوت لینے اور دینے والے کے دوزخی ہونے کا فتویٰ موجود ہے جو ادارہ ء رسالت سے جاری ہؤا تھا مگر کیا مجال کہ خُدا اور رسول ﷺ کے احکامات تھانے کی حدود میں داخل بھی ہو سکیں ۔ گالی دے کر قرآن کے حکم کی خلاف ورزی اور دین کی توہین ہر تھانے میں کی جاتی ہے۔ رشوت کے لین دین سے اطاعتِ رسول کے قانون کی دھجیاں اُڑائی جاتی ہیں مگر کیا مجال کہ کسی ملا ، کسی قاضی ، اسلامی نظریاتی کونسل کے کسی عہدیدار یا وفاقی شرعی عدالت کے کسی جج کے کان پر جوں تک بھی رینگتی ہو ۔ آج تک پولیس کے ہاتھوں قرآن کی بے حرمتی پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کسی ملوانے میں اتنی استطاعت ہے کہ وہ اس قسم کی جسارت کرے ۔
یہ دونوں لعنتیں اتنی پرانی ہیں کہ ان کا علاج ممکن ہی نہیں ۔ یہ کینسر لا علاج ہے ۔ مگر حال ہی میں ایک نیا دو لفظی مرکب پُردو زبان میں تواتر سے سنائی دینے لگا ہے اور وہ ہے پولیس گردی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس کے نا اہلکار جس شہری کو چاہیں ، جہاں چاہیں اور جس ضرورت کے تحت چاہیں یا پھر بلا ضرورت ہی سہی ، گولی مار دیں ۔ اور پھر اس قتل کو پولیس مقابلے کی کاروائی ظاہر کر کے لاش غائب کر دی جائے یا لواحقین کو دکھائے بغیر دفن کر دی جائے ۔ یہ پولیس مقابلے اب پولیس کا چوگان بنتے جا رہے ہیں یا آپ اسے پولیس کا گولف بھی کہہ سکتے ہیں ۔ جس ملک میں انسانی جان کی قیمت ڈینگی مچھر کے برابر ہو اور جہاں کاٹے ہوئے سروں سے فٹ بال کھیلنے کی کہانیاں اتنی عام ہوں کہ بچے بھی انہیں سن کر نہ ڈریں ، وہاں پولیس مقابلہ ایک بہادروں کی گیم شمار ہونے لگتی ہے ۔
گزشتہ دو دہائیوں سے ہونے والے پولیس مقابلوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستانی پولیس جرائم پیشہ لوگوں کا معزز ادارہ بن چکی ہے ۔ یعنی پولیس اب قانون فروش مافیا ہے اور اس مافیا سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی کے نفاذ میں مدد کرے گی ، خام خیالی ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے سب واقف ہیں مگر سب نے چشم پوشی کو شعار بنا رکھا ہے ۔ وہ پولیس کے عیبوں پر پردہ ڈالے رکھنا چاہتے ہیں ۔ ملک میں کسی ادارے کے پاس اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ بیمار پولیس کا علاج کر سکے ۔ ملک میں نیب ، ایف بی آئی کے علاوہ اب رینجرز بھی جرائم کی بیخ کنی کے لئے نکلی ہوئی ہے لیکن یہ کم بخت مجرم اتنے معشوق ادا اور غزال صفت ہیں کہ انہیں سزا دینے کے بجائے ان کے رُخساروں اور آنکھوں کے بوسے لینے کو جی چاہتا ہے :
ہم نے سوچا تھا کہ حاکم سے کریں گے فریاد
وہ بھی کم بخت تیرا چاہنے والا نکلا
جہاں سب ہی مجرموں کے چاہنے والے ہوں تو کون کس کو سزا دے ۔ مجرم اپنے خلاف کاروائی نہیں کیا کرتے اور نہ ہی اپنی نسل کُشی کیا کرتے ہیں ۔ پچھلے اڑسٹھ برس میں پاکستانی معاشرت کی جو عمارت تعمیر ہوئی ہے اُسے کوئی نہیں ڈھا سکتا اور اس معاشرے کو شاید انہی جرائم پیشہ لوگوں کا قیدی اور بے دام غلام بن کر رہنا ہے ، مگر اس غلامی کے باوجود ہم ہر سال چودہ اگست کو آزادی کی سالگرہ مناتے رہیں گے ۔
پاکستان پولیس زندہ باد !
کرپشن اور بھتہ خوری پائندہ باد !