نفرت کی زبان
- تحریر مسعود مُنّور
- جمعہ 29 / جنوری / 2016
- 8153
بھاڑ میں جائے سیاسی شطرنج ، چولہے میں پڑیں مُلائوں کی فرقہ پرستانہ مو شگافیاں اور جہنم رسید ہوں میڈیا کے خوشامد پرست مداری ۔ پچھلے دو تین دن سے سیاسی کوّوں نے کائیں کائیں کا شور برپا کر کے جان عذاب میں ڈال رکھی ہے ۔
نثار کھوڑو ، نثار چودھری اور خورشید شاہ تینوں نہ جانے اپنے طور پر قوم کی کون سی خدمت کر رہے ہیں لیکن سوائے اس کے کچھ نظر نہیں آتا کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف زبانی محاذ کھولے ہوئے ہیں ، گویا دست و گریباں ہیں ۔ ایک دوسرے کو مہنے اور اُلاہنے دے رہے ہیں ۔
کیا ایسے ہوتے ہیں قوموں کے چارہ گر اور نجات دہندگان ؟
یہ لوگ قوم کے مسائل کیا حل کریں گے ؟۔ یہ تو بجائے خود اپنی اپنی اوقات اور بساط کے مطابق قوم کے لے مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے جھگڑے اور تنازعات سُن کر استاد دامن یاد آ جاتے ہیں ۔ فرما گئے ہیں :
انّھا مارے اَنھّی نوں
گھسُن وجّے تھمّی نوں
وچون وچوں کھائی جاؤ
تے اُتّوں رولا پائی جاؤ
چودھری نثار نے اشارے کنائے میں سیّد خورشید شاہ کی سیاسی گٹھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب سید ہو کر جھوٹ بھی بولتے ہیں اور اُنہوں نے وفاق سے مراعات بھی لی ہیں ۔ جواباً سید خورشید شاہ نے چودھری نثار کے دعوے کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مراعات ثابت ہو جائیں تو وہ سیاست سے کنارہ کش ہو جائیں گے ۔ یہ قصہ اور مکالمہ سن کر میرے جی میں ائی کہ میں اگر چودھری صاحب کے آس پاس ہوتا تو اُن سے ضرور پوچھتا کہ آخر وفاق کو خورشید نوازی کی ضرورت کیا تھی ؟ کیوں کی گئی یہ فیاضی ؟ کیا حکومت اور اپوزیشن کا کام مراعات لینا اور دینا ہے ؟
حکومت کا کام تو عوام کی زندگی آسان کرنا اور اُن کی بنیادی ضرورتوں پر توجہ دینا ہے مگر چودھری صاحب کے الزامات سُن کر "کوئی شرم ہوتی ہے ، کوئی حیا ہوتی ہے " والا مضمون تازہ ہوگیا ہے ۔ اب میرے کانوں میں مسلسل یہی نعرہ گونج رہا ہے :
کوئی شرم ہوتی ہے ، کوئی حیا ہوتی ہے ۔ اصل میں پچھلے اُنہتر سال میں چودھریوں ، شاہوں اور کھوڑوؤں نے پاکستان کو سچ مُچ کا پاکستان اور اور بے چارے پاکستانیوں کو ایک قوم بننے ہی نہیں دیا ۔ اُنہیں اپنی کرسی کی مصلحت کی خاطر صوبجاتی اور لِسانی بنیادوں پر بانٹ رکھا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کراچی سے پنجابیوں کے نام گالی گلوچ کا پیکٹ آتا ہے جس پر شدھ شین قاف کے ساتھ اہلِ زبان کے دستخط ہوتے ہیں ۔ کے پی کے اور بلوچستان میں توپوں کے پنجابی شکن گولے داغے جاتے ہیں اور ادھر سوشل میڈیا پٹھانوں کے تضحیک آمیز لطیفوں سے بھرا پڑا ہے ۔ ادھر سندھی اجرک اور ٹوپی پنجابی پگڑی کا مونہہ چڑاتی ہے ۔ کیا ایسی ہوتی ہیں معزز اور مہذب قومیں ؟؟؟؟
صاحبو ! قوم بنی ہی کہاں ہے ؟ بے شک مولوی ٖفضل الحق شیرِ بنگال سے پوچھ لیجئے ۔ اگر بنے ہیں تو موٹے پیٹوں والے علماء بنے ہیں ۔ سرمایہ دار مزید سرمایہ دار بنے ہیں ۔ جاگیردار اور وڈیرے اپنی چادروں سے باہر پاؤں پھیلا کر اتنی دور نکل گئے ہیں جہاں سے اُنہیں رینجرز کے بوٹوں کی بھاری چاپ ہی واپس لا سکتی ہے ۔ مذہب کو کمرشلائز کر کے باقاعدہ پیداواری صنعت میں تبدیل کردیا گیا ہے جو خود کش بمبار بھی سپلائی کرتی ہے اور دہشت گرد بھی ۔ ساتھ ہی ایک مذہبی بیورو کریسی وجود میں آ گئی ہے جو خُدا اور قرآن کے نام پر لوگوں کو جس چراگاہ میں چاہتی ہے ہانکتی ہے ۔۔۔۔ اور حکمران جو آدابِ حکمرانی سے یکسر نا واقف ہیں ، لوگوں کو قومی اور ملی وحدت کی راہ پر نہیں ڈال سکے ۔
کیا ہی اچھا ہوتا اگر اگر چاروں صوبوں کے صدر مقامات پر علاقائی ثقافتوں کے ایمپوریم اور لسانی مراکز قائم کئے جاتے جہاں لوگ ایک دوسرے کی علاقائی ثقافت کے اسرارورموز سیکھتے ، لوک ورثے سے شناسائی پاتے اور بڑے شہروں میں چاروں بڑی علاقائی زبانوں کی تدریس کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاکستانی لینگوئیجز قائم کئے جاتے ۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر یونیورسٹی اوریئنٹل کالج لاہور میں پنجابی کے علاوہ فارسی اور عربی کے بجائے سندھی ، بلوچی اور پشتو کے شعبے ہوتے اور تمام پاکستانی زبانوں کے نمائندہ اور منتخب ادب کو قومی زبان میں متقل کیا جاتا ۔ منتخب شاعری کی گائیکی پر مشتمل البم بنائے جاتے ۔
ہر چند کہ اکادمی ادبیات نے کسی حد تک اس سمت میں کام کیا ہے لیکن وہ قومی ادب کی چہار جہتی اور چہار لسانی تخلیقات اس طرح سے مرتب نہیں کرپایا جس سے پاکستان کے قومی مزاج کی تشکیل اور تکمیل میں مدد ملتی ۔ فی الوقت لسانی اور ثقافتی صورتِ حال یہ ہے کہ پڑھے لکھے روشن خیال لوگوں کو چھوڑ کر عام پاکستانی ، چاروں صوبوں میں علاقائی لسانی کنوؤں کے مینڈک ہیں اور ایک دوسرے سے ایسے فاصلوں پر رہتے ہیں ، جو کبھی طے ہی نہیں ہو پاتے۔
سب سے بڑی ضرورت اس بات کی تھی کہ پاکستان بننے کے بعد پاکستانیت کو ایک باقاعدہ مضمون کے طور پر متعارف کرا یا جاتا ، تاکہ سارے پاکستانی بچّے ایک ہی تعلیمی وحدت میں اتحاد ، ایمان اور نظم و ضبط کی تعلیم پاتے ۔ مگر یہاں اقتدار کی نفسا نفسی نے حکمرانوں کو وہ شعور ہی نہیں دیا جو قومی تعمیر کے لئے لازمی ہوتا ہے ۔ وہ بیچارے اقتدار میں آ کر مال پانی کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور جب سبکدوش ہوتے ہیں تو اپنے پیچھے ایسی روایات چھوڑ جاتے ہیں جو نیب اور ایف بی ائی جیسے اداروں کو حل کرنے کے لئے سوال مہیا کرتی ہیں مگر جواب کیا ہوتا ہے ؟
وہ جو اب جو سب کے سامنے ہے ۔
لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی زبان بولنے لگ گئے ہیں ۔ ایسے میں بھلا قومیں کہاں پروان چڑھ سکتی ہیں ؟