ایلا جیل سے برائیویک کا مکتوب
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 20 / مارچ / 2016
- 7432
قید خانے ، جیلیں ، زندان اور محبس انسانی تاریخ کا ایک عجیب مقام اور عمرانی ادارہ ہیں جہاں زندگی خود کو تلاش کرتی ہے یا پھر کھو دیتی ہے ۔ فراعنہ ء مصر کے قیدخانے میں یعقوب علیہ السلام کے بیٹے یوسف نے چھ برس قید کاٹی اور پھر خوابوں کی تعبیر کے ہُنر کی طاقت سے رہائی پائی ۔
خود پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسّلم کو بنو شعب کی گھاٹی میں محصور کردیا گیا جہاں آپ (ص) نے کفارِ مکّہ کی قید کاٹی ۔آپ سے ایک روایت منسوب ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "( الدنیا سجن المومن )" کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے ۔ میرے جیسے لوگ بھی جو مومن کی تعریف پر پورا نہیں اُترتے ، خُود کو اس زمین پر زندگی کے زنداں میں محسوس کرتے ہیں ۔ میری ایک غزل کا مطلع ہے :
زندگی ایک جیل ہے مسعود
میں سزا کاٹنے ہوں آیا ہو
اور میں ارضی جیل میں بیٹھا ، اپنے دُکھ اپنے رب کو سُناتا رہتا ہوں ۔ میری شاعری ، میرے رب سے میرا مکالمہ ہی تو ہے ۔
قید و بند کی صؑعوبتیں اہلِ قلم برادری کے لیے کوئی نئی بات نہیں ۔چینی شاعر یانگ سو نے چیانگ کائی شیک کی جیل کاٹی اور کاغذ کے ایک پُرزے پر لکھا ، " ممکن ہے کہ کاغذ پر لکھے ہوئے چند الفاظ کی بنا پر میں عمر بھر سورج کی روشنی نہ دیکھ سکوں مگر کیا تمہارا یہ چیرہ دست نظام زندہ رہ سکے گا ؟"
فیض صاحب نے جیل میں پورا زندان نامہ تخلیق کیا ، حمید اختر نے کال کوٹھڑی رقم کی ۔ حبیب جالب کی زندگی کے ان گنت مہینے قید و بند کی صعوبتوں میں گزرے ۔ذوالفقار علی بھٹو نے جیل میں اپنی کتاب " اگر مجھے قتل کیا گیا " کا مسودہ رقم کیا ۔ انگریزی استعمار کے خلاف تحریک چلانے والوں کو بھی ہتھکڑیوں اور بیڑیوں سے پالا پڑا اور اُن کے ئیے قید خانے ، قید خانے نہیں کُتب خانے ثابت ہوئے جہاں اعلیٰ تحقیقی کام ہوا جیسے رانچی کی جیل میں مولانا ابولکلام اآزاد کی معرکہ آرا تصانیف تخلیق ہوئیں ۔
لیکن آج ایک ایسے قیدی کی تحریر کی بات ہو رہی ہے ، جس کے ایک مکتوب کی بازگشت ان دنوں نارویجین میڈیا میں سنائی دی ہے ۔ قیدی کا نام ہے آندرش بیہرنگ برائی ویک ۔ محولہ بالا خط تو اُس نے 18 اگست کو دو سال پہلے ناروے کے محکمہ ء انصاف اور عوامی محتسب یعنی سول اومبود کے نام پوسٹ کیا تھا ، جس کی کاپیاں پریس کو بھجوائی گئی تھیں مگر یہ خط پچھلے ہفتے اپنی منزل تک پہنچا ہے ۔ جیل سے آزاد دنیا تک کا سفر اتنا ہی طویل ہوا کرتا ہے کیونکہ قیدی کی چیخ اور اُس کا قلم بھی پابندِ سلاسل ہوتے ہیں ۔
برائی ویک کا خط شاعروں کے اذیت ناموں کے بر عکس ایک توبہ نامہ ہے جس میں اُس نے اپنے ماضی سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور اپنی کایا کلپ اور میٹامارفوسس کا اعلان کیا ہے ۔ برائی ویک نے اپنے خط میں لکھا ہے :
HJERTET MITT SOM EKS-MILITANT GRÅTER FOR DET BARBARIET JEG GJENNOMFØRTE 22/7.
میرا دل اپنے ماضی پر ، جب میں دہشت گرد تھا ، خون کے آنسو روتا ہے ۔ یہ آنسو اُس بربریت پر ہیں جو مجھ سے 22 جولائی کو سرزد ہوئی تھی ۔
برائی ویک کا کہنا ہے کہ اب وہ ہتھیاروں کے استعمال کے بجائے جمہوری مناظرے کی راہ اختیار کرنا چاہتا ہے ۔ اپنی لڑائی جمہوری کیمپ میں لڑنا چاہتا ہے ۔ اُس نے اپنے پانچ سو صفحات پر مشتمل نازی منشور سے بھی لا تعلقی کا اعلان کرکے اُسے اپنے ماضی کی غلطی قرار دیا ہے ۔
میں نہیں جانتا کہ ناروے کا محکمہ ء انصاف برائی ویک کے خط کو کس نظر سے دیکھے گا مگر مجھے یہ خط پڑھ کر اپنی مسلمان معاشرتوں کے ان گنت برائی ویک یاد آئے جن کا منشور اللہ کی رضا کے لئے قتل ، تشدد اور دہشت گردی ہے اور ناموسِ رسالت کے نام پر کسی کی گردن کاٹنا اُن کا فرضِ منصبی ہے ۔ میں سوچ رہا ہوں کہ آیا برائی ویک کی طرح وہ بھی اپنی غلطی کا اعتراف کر کے دہشت گردی سے تائب ہونے پر تیار ہیں یا نہیں ؟
پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیاں جو دنیا کی طاقتور ترین ایجنسیاں ہونے کی داد وصول کرتی رہی ہیں ، دہشت گردی کے اس جنگل میں جیشوں ، جتھوں اور لشکروں کی براہِ راست شجر کاری کی ذمّہ دار ہیں ۔ اور اب فوج ضربِ عضب کے ذریعے ایجنسیوں کے لگائے ہوئے پوہلی اور کنڈیاری کے ذخیروں کو تلف کر رہی ہے ۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان ایجنسیوں کے پاس کوئی ایسا نسخہ ہے جس کے استعمال سے یہ بگڑے ہوئے غُنڈے ، جنہوں نے نقلی داڑھیاں پہن کر مذہب کا لبادہ اوڑھ لیا ہے اور ملک بھر میں ہر جگہ دین کے نام پر دہشت گردی کا غدر مچائے ہوئے ہیں ، برائی ویک کی طرح توبہ نامے لکھ کر یو ٹرن لیں اور امن پسند شہری بن کر جمہوری کیمپ میں اپنی لڑائی لڑیں ۔
توبہ واپسی ہے ۔ اپنی اصل فطرت کی طرف واپسی جو امن پسندی ہے مگر دیکھنے والی آنکھوں کو فی الوقت اس کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ۔
اے کاش! یہ مذہبی جماعتیں ، علماء اور مساجد کے پیش امام ، جو اسلام کو امن کا دین کہتے نہیں تھکتے ۔ مل کر اس برائی کے خاتمے کا بیڑہ اُٹھاتے تاکہ پاکستان امن و امان اور نظم و ضبط کا گہوارہ بن کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر چل نکلتا مگر ؟
اب اس مگر کی سو تعبیریں ، تفسیریں اور تاویلیں ہو سکتی ہیں اور ہم پردیس میں بیٹھے پاکستانی تارکینِ وطن دعا کے سوا کیا کر سکتے ہیں کیونکہ قانون کی حکمرانی کو تسلیم کرنے والے لوگ ہر جگہ ناپید ہوتے جا رہے ہیں ۔