گلشنِ اقبال پارک میں پھولوں کا قتل

بچوں کے قتل کی تلمیح بہت پُرانی ہے ۔ فرعونِ مصر نے بنی اسرائیل کے بچّوں کو اس خدشے کے پیشِ نظر  قتل کرنا شروع کیا کہ نجومیوں کی پیش گوئی کے مطابق بنی اسرائیل کے آسمان پر وہ ستارا طلوع ہونے والا تھا جس سے فرعون کی فرعونیت اور اور مصری سلطنت کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا ۔ قرآن کی شہادت اور سند کے مطابق فرعونِ مصر بنی اسرائیل کے لڑکوں قتل کرتے تھے مگر لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے ۔ یہ تاریخ ہے ۔

لیکن طالبان کا وہ دھڑا جس نے  پہلے پشاور آرمی پبلک سکول میں قیامت برپا کی ، اب لاہور میں گلشنِ اقبال پارک پر خود کُش بمبار کے ذریعے حملہ آور ہوا اور آن کی آن میں پاکستان کی نئی نسل کے پھول سے بچوں کو خاک و خون میں نہلا دیا ۔ یہ گروہ فرعون سے بھی زیادہ سفاک ، بے رحم ، کم ظرف اور خطرناک ہے کیونکہ اِس خونخوار دھڑے  نے لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں اور اُن کی ماؤں کو بھی نہیں بخشا ۔
اس موقع پر بُخاری شریف کی کتاب الجہاد والسیر کی اُس حدیث کا حوالہ ضروری ہے جس میں عبداللہ بن عمر کی روایت کے مطابق  غزوہ ء فتح کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی لاش دیکھی تو عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۔

نہ جانے یہ طالبان کیسے مسلمان ہیں جو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح احکامات کی کھلی توہین اور واضح خلاف ورزی کرتے ہیں  اور اُسے نہایت بے شرمی سے اللہ کی رضا کا نام دیتے ہیں ۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ اپنے اس مذموم فعل کو اسلامی فقہ کے من گھڑت حوالوں سے جواز مہیا کرتے ہیں ۔
بچوں کا قتل انسانی معاشرت میں سرزد ہونے والا قبیح ترین فعل ہے ، جس کی دنیا کے کسی فکری ، نظریاتی یا دینی نظام میں ذرا سی بھی گنجائش نہیں ہے ۔ بچوں کے اس بہیمانہ قتل پر مذہبی تنظیموں کی طرف سے مختلف قسم کا ردِ عمل سامنے آیا ہے ۔ کچھ مذہبی حلقے بالکل خاموش ہیں اور کچھ دبے لفظوں میں قدرے کھل کر ردِ عمل کا اظہار کر رہے ہیں ۔ اور کچھ اس ساری کربناک صورتِ حال سے دور ممتاز قادری کے چہلم کو تخریب کاری ، توڑ پھوڑ اور احتجاج کا چولا پہنا کر دمادم مست قلندر کر رہے ہیں ۔ دل چسپ بات تو یہ ہے جن عالمانِ دین نے دہشت گردی کے خلاف مقالے لکھ کر  یورپی اور امریکی معاشرتوں میں اپنے نمبر بنائے ہیں ، اُن کا عمل اپنی جگہ درست سہی مگر اُن کی انگریزی یہ دہشت گرد پڑھتے ہی کہاں ہیں کہ کچھ سبق سیکھتے ۔
جہالت اور ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ ممتاز  کے چہلم کی تقریب کے شرکاء میں غُنڈہ عناصر شامل ہیں  جو قومی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔  لگتا ہے اُنہیں گلشنِ اقبال پارک لاہور میں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ جانے والے بچوں کا ذرا بھی خیال نہیں ۔ وہ اپنی احتجاجی دھن میں مست راستے کی ہر رکاوٹ کو پھلانگتے اپنی جنت کی طرف رواں دواں ہیں ۔

لاہور میں بچوں اور عورتوں کے قتل  عام نے حکمرانوں اور اُن کےسول اور دفاعی اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان لگا دئے ہیں کہ وہ اپنے لگائے ہوئے طالبانی پودوں اور اُن کے گرد اُگی جتھوں ، لشکروں ، جیشوں اور کالعدم تنظیموں کی کنڈیاری ، پوہلی اور بچھو بوٹی کو گذشتہ کئی برسوں میں کیوں تلف نہیں کر سکے؟

ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر گفتگو کر نے ، پریس ریلیز جاری کر نے یا ٹی وی پر خون کے ایک ایک قطرے کا حساب کرنے کے اعلانات بے معنی حکمتِ عملی کا رسمی تکلف ہیں ۔لاہور میں ہونے والی خود کُش بمباری کی واردات یہ ظاہر کرتی ہے کہ پولیس کی رِٹ کتنی ہے اور ضربِ عضب سے قوم نے کیا پایا ہے ۔
چنانچہ لوگ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ موجودہ حکومت اور اُس کے ادارے ملکی معاملات کو درست طور پر نہیں چلا رہے اور نہ ہی اپنی غلطیوں کا جائزہ لے کر اُن کا ازالہ کر سکے ہیں ۔ پولیس قانون کی بالادستی کے بجائے قانون شکنی کا ادارہ بن چکی ہے اور پولس اہلکاروں کے مجرموں سے مخفی رشتوں کا متعدد بار سراغ اور ثبوت مل چکا ہے ۔ پولیس کی کارکردگی پر پنجابی کی وہ پھبتی کسی جا رہی ہے کہ پولیس کی کُتیا چوروں سے ملی ہوئی ہے ۔ ملک میں ہر طرف جرائم کا راج ہے ۔ بنک ڈکیتیاں ، بھتہ خوری ، ٹیکس چوری ، کرپشن ، لڑائی ، مار کُٹائی ، قانون شکنی کے ساتھ ساتھ جائداد کے تنازعوں اور رشتوں ناتوں کے لین دین پر قتل روزمرہ کا معمول بن چکا ہے ۔

کہیں کوئی لڑکی اپنے باپ کو تیل چھڑک کر زندہ جلا دیتی ہے ۔ کہیں کوئی بیٹا اپنی سگی ماں کو قتل کر دیتا ہے ۔ جرائم پیشہ عورتیں گھروں میں کام کرنے کے بہانے گھروں کا صفایا کردیتی ہیں ۔ ہسپتال سے نومولود بچی اغوا ہو جاتی ہے ۔ لوگ غربت سے تنگ آکر اپنے بچوں کو بیچنے کے ئیے فٹ پاتھ پر لا کھڑا کرتے ہیں ۔ اُف خُدایا ! یہ کیسا معاشرہ ہے ؟ یہ کیسا پاکستان ہے جو ہم نے تعمیر کیا ہے ؟

موت ان گنت برقعوں میں لپٹی دیومالائی چُڑیل کی طرح غیر متوقع اور ناگہانی حادثہ بن کر اچانک اُترتی ہے ۔ بارات لے جانے والی بس پر حملہ ہوتا ہے اور براتی اپنے زیوروں اور جمع پونجی سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ کہیں بس کھائی میں جا گرتی ہے ۔ کہیں زمین کی میخیں ادھڑ جاتی ہیں اور لوگ زد میں آجاتے ہیں ۔ بارشوں میں مکان کی چھت گرتی ہے اور ایک ماں بچیوں سمیت زندہ دفن ہو جاتی ہے ۔ یہ ساری باتیں یقیناً خُدا کی طرف سے رونما ہوتی ہیں لیکن اس کا سبب انتظامی محکموں ، بلدیاتی اداروں اور برق و آب مہیا کرنے والے عملے کی نا اہلی ، غیر ذمہ داری اور فرض نا شناسی ہے ۔ اس لئے کہ فطرت کا قانون یہی ہے کہ جیسا کروگے ویسا بھرو گے ۔

سو ہم نے جب طالبان اور کرائے کے جہادی کاشت کئے تو دہشت گردی ، ٹارگٹ کلنگ اور خود کُش بمباری کاٹی ۔ اور ہمارے پاس اس نالائقی پر پردہ ڈالنے کا بہت اچھا جواز ہے کہ یہ سب کچھ بھارتی ایجنسی " را " کروا رہی ہے ۔ کروا رہی ہوگی مگر کن کے ذریعے ہو رہا ہے ؟ میرے ذرریعے ، تیرے ذریعے ، کسی ریش مآب کے ذریعے ، کسی قلم فروش بھانڈ کے ذریعے یا کسی ماڈل گرل کے ذریعے ۔ تو اس صورتِ حال کے ذمہ دار ہم سب ہیں کیونکہ سرتاج الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اس حُکم پر اپنی مہر ثبت کر رکھی ہے کہ تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص جواب دہ ۔
ؤو ! سب اپنا اپنا احتساب کریں  اور اپنی اپنی ذمہ داری نبھائیں ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔