مینڈیٹ کی کہانی عوام کی زبانی

سندھڑی کے سر کے سائیں قائم علی شاہ کو آج  اے آر وائی پر کہتے سُنا کہ آئین اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے  ۔ لیکن سائیں نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ کس کو کرنا چاہیے ۔ میری پردیسی رائے کے مطابق یہ تو حکمرانوں کا فرضِ منصبی اور آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سب سے پہلے مینڈیٹ کا احترام خود  کریں  تاکہ اُن کی دیکھا دیکھی عوام بھی اپنی ذمہ داری نبھائیں ۔ عوام کے مینڈیٹ کے احترام  کا مطلب عوام کے بنیادی حقوق کا احترام ہے ۔ احترام محبت کا پہلا قرینہ ہے ۔ اقبال نے غالباً اسی ضمن میں کہا تھا :
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

مینڈیٹ عوام اور حکمرانوں کے درمیان عشق کا معاہدہ ہوتا ہے جس میں یہ طے پاتا ہے کہ عوام نے اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت کے لیے ایک جماعت کو انتظامی ذمہ داریاں سوپنی ہیں تاکہ وہ بڑی بڑی تنخواہوں پر کام کریں اور لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کا خیال رکھیں ۔اور اس دو طرفہ معاہدے میں محبت بنیادی اور کلیدی شق ہوتی ہے ۔ مینڈیٹ رومانس ہوتا ہے ، مینڈیٹ زمیں پر خُدا کی نیابت ہوتی ہے کہ جس طرح خُدا اہلِ زمین کو پالتا ہے اسی طرح حکمران ملکی عوام کو پالیں اور اگر حکمران اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے تو مینڈیٹ اپنے آپ ختم ہو کر آلہء جبر بن جاتا ہے ۔ اور یہ اُن لوگوں کی کہانی ہے جس کا مینڈیٹ فسق ہو کر آلہء جبر بن چکا ہے ۔ 

چنانچہ ،  ایوانِ اقتدار کی پرتکلف رہائش گاہ کی آرام دہ خواب گاہ میں نیند کے مزے لوٹنے والےسائیں ، اُن مسکینوں اور خانماں خرابوں کا ادب کیسے ملحوظ رکھیں ، جن کے سر پر پنجاب میں چھت نہیں ، جنہیں شاہ لطیف اور ذالفقار علی بھٹو کی سندھڑی میں دو وقت کی روٹی بھی سہولت سے میسر نہیں ، جن کے بیمار بچوں کے لیے علاج کی سہولتیں دستیاب نہیں اور تھر کی ریت میں کوئی کاروان سرائے تک نہیں جہاں زندگی کا کارواں گھڑی دو گھڑی سستا سکے ۔

عوام نے پیپلز پارٹی کو تین بار روٹی کپڑے اور مکان کے لیے مینڈیٹ دیا لیکن عوام کی بد قسمتی سے یہ نعرہ نہ تو لوگوں کا  پیٹ ہی  بھر سکا ، نہ ہر پاکستانی کا بلا تخصیص تن ڈھانپ سکا اور نہ سب کے لیے شب بسری کا تنبو ہی بن سکا ۔ نعرہ ، نعرہ ہی رہا  جو خواب سے نکل کر تعبیر نہ بن پایا  ، مگر  لوگ اس کے باوجود بھٹو سے محبت کرتے ہیں اور اُنہیں قائد اعظم کے بعد بڑا سیاسی لیڈر سمجھتے ہیں ۔

ہمارے سیاسی بقراطوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ نظریاتی مفروضوں کو ارضی حقیقتیں سمجھتے ہیں اور اُن پر گرما گرم بحث سے اپنا اور قوم کا لہو گرم رکھنے کو سیاسی دانشوری سمجھتے ہیں مگر یہ اُن کی بھول ہے ۔ وہ حکمرانوں کی ہمنوائی میں اقتدار کی مُدت کے  پانچ سال پورا کرنے کو جمہوری عمل قرار دیتےہیں ، خواہ  اُن پانچ سالوں میں عوام پر  کتنی ہی قیامتیں کیوں نہ گزر جائیں ۔
مینڈیٹ کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ حکمرانوں کو کھلی چھٹی مل گئی ہے کہ مینڈیٹ دینے والے عوام کو ناروا جبر کی چکی میں پیسیں اور خود دن دیہاڑے جس کُرسی میں چاہے سو جائیں اور مقدور بھر جمہوری خراٹے لیتے رہیں ۔

شریعت کی زبان میں ہمارے چاروں صوبوں کے سائیں جابر حاکم بھی ہیں اور  ایک نظامِ جبر کی سوتی جاگتی علامت بھی ، لیکن افسوس صد افسوس کہ ذوالفقار علی بھٹو کے نئے پاکستان کے اس خواب زار میں ڈاکوؤں ، بد عنوانوں ، دہشت گردوں اور چھوٹوؤں کا راج ہے  ۔ یہاں ایک طرف روز کربلا برپا ہوتی ہے ، ہر عمر کے لوگ اپنوں کے ہاتھوں مرتے ہیں  لیکن اس سے بھی زیادہ ظُلم اُن بنیادی ضروریات سے محروم لوگوں پر ہوتا ہے جو عمر بھر نا آسودگی سے ایڑیاں رگڑتے اور موت کی وادی میں جرائم پیشگی کی بھینٹ چڑھتے رہتےہیں۔

ایسے حالات میں بے چارے مینڈیٹ کا کیا  مذکور ؟
مینڈیٹ کا مطلب یہ ہے حکمرانوں کو بد انتظامی ( بیڈ گورننس) کے پانچ سال پورے کرنے کا لائسنس ملنا چاہیے تاکہ جو کچھ کسی نے لُوٹا ہے اُسے کسی آف شور ٹھکانے پر لے جا کر چھپا سکیں ۔
کون ہیں یہ لوگ جو آئین اور مینڈیٹ کے تقدس کی بات کرتے ہیں ؟
ہاہاہاہا ، یہ جمہوریت کے اُن چیمپئینوں کی بستی ہے جو آئین اور قانون کی کتابیں الماریوں میں سجا کر رکھتے ہیں ، اُن کی لمبی لمبی تشریحات کرتے ہیں۔ مگر قانون پر عملدرامد اُن کے بس کا روگ نہیں ہوتا ۔ آئین پر عملدرآمد تو دور کی بات ہے وہ آئین کے پورے متن سے بھی واقف نہیں ہوتے ۔  میں یہ پر گز نہیں کہ رہا کہ یہ بستی اہل اور قابل لوگوں سے خالی ہے ۔ لائق اور با صلاحیت لوگ موجود ہیں لیکن اُنہیں کون آگے آنے دیتا ہے۔ یہ دنیا تو غلام رسول چھوٹو جیسوں کی ہے جو ملک کے طاقتور ترین اداروں سے الجھنے کی تاب بھی رکھتے ہیں ۔

یہ چھوٹو گینگ کیسے وجود میں آیا ، کیسے پروان چڑھا اور سالہا سال سے یہ کس کی چھتر چھایا میں پرورش پا تا رہا ہے ؟
جن جمہوریتوں میں گینگز اور مافیا تنظیمیں وجود میں آکر معاشرے کی کمان جزوی طور پر سنبھال لیں  وہاں حکومت کی رِٹ باقی نہیں رہتی ۔

یہ سب کچھ  اُس جمہوری بیڈ گورننس کا حاصل ہے جس کا سارا ثمر ملک کا ایک مخصوص مراعات یافتہ طبقہ کھاتا ہے ۔ اور اگر اُن میں سے کسی ایک کی کرپشن کی طرف انگلی اُٹھے تو وہ اُس انگلی کو دوسرے کی طرف موڑ کر کہتا ہے کہ ، وہ بھی تو کرپٹ ہے ۔ اُس کی بھی تو آف شور کمپنیاں ہیں ۔

یعنی ان کی جمہوری سیاست کا ہدف یہ ہے کہ وہ مینڈیٹ کے نام پر جتنی کرپشن چاہے کریں ، وہ اُن کے لیے شیرِ مادر ہے ، کیونکہ مروجہ سیاسی جمہوری تناظر میں  کرپشن سیاسی جماعتوں کا بین الجماعتی معاملہ ہے کہ اگر ایک لیڈر نے منی لانڈرنگ کر کے ، ٹیکس  چوری کر کے یا سرکاری منصوبوں میں سے کمیشن کے نام پر مال بنا کر آف شور چھپا رکھا ہے تو دوسرے کا بھی یہ جمہوری حق ہے ۔ کیا یہی ہے پاکستانی جمہوریت ؟

سچ تو یہ ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیاں مینڈیٹ کی  وہ قتل گاہیں ہیں ، جہاں عوام کے حقوق کے تحفظ کے بجائے سیاسی لیڈروں کے کرپشن کے حقوق کی ضمانت طلب کی جاتی ہے اور مہیا بھی  کی جاتی ہے  ۔ اس طرح ملک کے عوام اس آف شور مافیا کا یرغمال بن کر رہ گئے ہیں ، جس کے کارندوں کواقتدار کی کرسیوں کے بجائے جیلوں میں ہونا چاہیے ۔