شاعری کا قتل

عرب شاعروں کے بارے میں عرب معاشرے میں ایک روایت چلی آ رہی تھی کہ " الشعرا ء تلامیذ الرحمٰن "۔  شاعر لوگ اللہ کے شاگرد ہوتے ہیں ۔ اُس کا ایک سبب یہ تھا کہ شاعری اور مذہب کی زبان دو متوازی دھاروں کی طرح تھیں اور شعری صداقتیں بڑی گنجلک اور  تہہ در تہہ معانی سے لبریز تھیں ۔ یہی وجہ تھی کہ وحی پر شعر کا دھوکا ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو  نعوذ باللہ شاعر اور مجنون کہا گیا۔  لیکن اس عہد کے شعرا خُدا کے بجائے اپنی انا کے شاگرد ہوتے ہیں اور شعری صداقتوں کے بجائے شعری دروغ تخلیق کرتے ہیں۔

لیکن اس وقت جس شاعر کی شاعری پر میں بات کرنا چاہتا ہوں وہ ہیں اقبال جنہیں شاعرِ مشرق کہا جاتا ہے لیکن ایک مولوی صاحب نے اُنہیں شاعرِ مُشرک قرار دے دیا ہے ۔ مجھ تک یہ بات اپنے دوست علی بٹ کے ذریعے پہنچی جو لاہوری الاصل ہیں اور تائیوان میں انگریزی پڑھاتے ہیں ۔ اُنہوں نے ایک ویڈیو کلپ فیس بُک پر لگایا جس میں ایک مولوی صاحب جن کے سر پر سعودی طرز کا رومال تھا ، علامہ اقبال کے ایک شعر کے خلاف گرج برس رہے تھے ۔ کون ساشعر؟ لیجیے یہ رہا :
کی وفا تو نے محمد سے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

مولانا موصوف کا فتویٰ یہ ہے کہ اقبال اس شعر میں شرک کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ لیکن کیسے؟ میں نہیں جانتا کس طرح کہ اقبال کیسے شرک کے مرتکب ہوئے مگر  شاید اس طرح کہ اقبال نے خُدا کی جانب سے  لوگوں سے خطاب کیا ہے اور کہا  کہ اگر تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا کی  تو میں بھی تمہارا ہوں اور یہ جہان ہی کیا   لوح و قلم بھی تمہارے ہیں ۔ لوح و قلم ایک بلیغ استعارہ ہے ۔ اقبال نے ایک نعتیہ شعر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح خراج پیش کیا ہے :
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ، تیرے محیط میں حباب

اقبال کا وہ شعر جسے مولوی صاحب نے متنازعہ بنا دیا ہے  ،  بانگِ درا کی نظم " جواب شکوہ" سے ہے جس میں مسلمانوں کی اُن  شکایات  کا جواب  دیا گیا ہے جو " شکوہ"  نامی طویل نظم میں درج ہیں ۔ بیشتر احباب اس مشہور نظم سے واقف ہیں جس میں اللہ سے کہا گیا ہے کہ مسلمان تیرے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہیں لیکن اُن کی حالت ایسی ہے کہ دیگر اُمتیں اُن پر ہنستی ہیں ۔ اُن شکایات کے جواب میں جواب شکوہ تخلیق ہوا جس میں تمام شکایات کا جواب دیا گیا ہے اور ماحصل کے طور پر یہ کہا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا کرو گے تو یہ دنیا اور نیک مقدر تمہارا ہے ۔ محمد سے وفا کا مطلب  اُن تمام قوانین کی پیروی کرنا  ہے جو شریعتِ محمدی میں وضع کیے گئے ہیں ۔ شریعت کی پیروی احکامِ خُدا کی پیروی ہے ۔ چنانچہ ادارہ ء رسالت سے جاری ہونے والے قوانین کی پیروی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا ہے اور چونکہ شریعت احکاماتِ حق پر مبنی ہے، اس لیے شریعت کی پابندی ہی اطاعتِ الٰہی ہے ۔ اب اس میں شرک کہاں سے آ گیا ؟

اگر اقبال اس عہد میں ہوتے تو یہ مولوی صاحب یقیناً کسی ممتاز قادری کو تیار کر کے اقبال کے قتل کا سامان کرتے مگر اقبال ہیں نہیں تو اُنہیں مُشرک قرار دینے پر اکتفا کر لیا گیا ہے ۔ یہ ایک بے حد خطرناک رویہ ہے ۔ اقبال پر کفر کا فتویٰ شاید اُن کی زندگی میں بھی لگا تھا ۔ اقبال کی ایک نظم " زُہد و رندی " میں ایک مولوی صاحب کی کہانی بیان کی گئی ہے جس میں اُن الزامات کا ذکر ہے جو اقبال کے مذہبی عقائد پر لگائے گئے تھے۔ اسی طرح کے الزامات سے زچ ہو کر اقبال نے کہا کہ مُلائیت جو بھی کہے اُسے تسلیم مت کرو بلکہ اُس کی مخالفت کرو ۔ اور اُنہوں نے یہ کہا بھی:
واعظ ثبوت لائے جو مَے کے جواز میں
اقبال کو یہ ضد ہے پینا بھی چھوڑ دے

پاکستان میں ملائیت نے بڑے بڑے ہنگامےتو کھڑے کیے ہیں ، لیکن معاشرت کو کوئی فکری اور روحانی بالیدگی نہیں بخشی ۔ ملک میں کام کرنے والے لاکھوں مذہبی کارکن ملک کو وہ اخلاقی معیار مہیا نہیں کر سکے جو عام آدمی کو صادق اور امین بنا کر ایک متقی معاشرے کی بنیادیں اُٹھا تا ۔ اس کے بجائے قتل اور کفر کے فتووں کی فیکٹریاں جگہ جگہ قائم ہیں جو خلقِ خُدا کے لیے سوہانِ روح بنی ہوئی ہیں ۔
اس قسم کے فتوے کی زد میں ہمارے معورف پنجابی صوفی شاعر بُلھے شاہ بھی آ چکے ہیں ۔ فتوے کے جواب میں انہوں نے فرمایا تھا :
تینوں کافر کافر آکھدے
توں  آہو  آہو آکھ

مجھے اس وقت اپنے مرحوم دوست سائیں منر نیازی یاد آگئے جنہوں نے فرمایا تھا:
سب سے بڑا ہے نام خُدا کا ، اُس کے بعد ہے میرا نام

اگر کہیں کسی فتویٰ باز مولوی کی نظر منیر نیازی کے اس بیان پر پڑ جاتی تو اُن کا بھی وہی حال ہوتا جو منصور بن حلاج کا ہوا تھا ۔ لیکن خیر گزری کہ ٹی ہائوس کے طاقت ور حصار میں وہ محفوظ رہے ۔
میں یہ سب کچھ دیکھتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ پاکستان میں مذہبی امور کی وزارت اور اسلامی نظریاتی کونسل کیا کر رہی ہیں ۔ کیا یہ اُن کی ذمہ داری نہیں ہے کہ ایک قومی مذہبی پالیسی کے تحت ان بے لگام ملائوں کو تہذیب سکھائیں اور منبر و محراب کو جہالت کے مہیب سائے سے بچائیں تاکہ یہ نیم ملا بچوں کے ذہنوں کو گمراہ نہ کرتے رہیں ۔ متذکرہ ادارے اس  بات کا احساس کریں کہ نیم ملا ایمان کا خطرہ ہے اور پاکستان اس وقت پریشان خیالی کی وجہ سے  ایک انتہائی سنگین خطرے سے دوچار ہے ، اس فکری انتشار نے ملکی وحدت کے سر پر بندوق تان رکھی ہے ۔ اگر جہالت کے یہ بادل نہ چھٹے توفرقہ وارانہ  ٹکُروں میں بٹا معاشرہ مزید تتر بتر ہو جائے گا ۔

لیکن حکمرانوں کو اس کی فکر کہاں ؟ وہ تو اپنی کرسی کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ملاؤں نے ریاست کے اندر اپنی ریاست قائم کر رکھی ہے جس کی وجہ سے ملک کی سالمیت داؤ پر لگی ہے ۔ عدلیہ کو قتل کے فتووں کا اختیار للکار رہا ہے اور حکومت کی رِٹ کم ہو کر نصف سے بھی کم رہ گئی ہے اور فوج طالبانی ملاؤں سے بر سرِ جنگ ہے۔

کیا یہ سب کچھ اسی طرح جاری رہے گا اور تا بہ کے رہے گا ؟ ، کیونکہ اب جب کہ  ملائیت نے شاعری کو بھی قتل کرنا شروع کر دیا ہے تو میں سوچ رہا ہوں کہ شاعر کے بجائے امام مسجد بن جاؤں کیوںکہ اس سے منافع بخش کاروبار اور  سماجی رُتبہ اور کسی شعبے میں میسر نہیں  آئے گا۔
میرے لیے دعا کیجیے گا !