پدرم بس ڈرائیور بود

میں  اکثر سوچا کرتا ہوں کہ آج کل کے دانشور کالم تراشوں اور صاحبانِ علم و فراست کے درمیان ، کسی میرے جیسے خانماں خراب کی خامہ فرسائی کی کیا ضرورت ہے ؟
یہاں تو وہ تحریر سر چڑھ کر بولتی ہے جس کے پیچھے لفافے میں نوٹوں کی کڑکڑاہٹ ہو یا کسی قسم کی حزبِ اختلاف یا کسی اور ادارے کی پشت پناہی ہو مگر اوسلو میں  " کارواں " کے مدیر ہمارے سید  مجاہد علی کی شاہی میں مجھ جیسے بے نوا کو موقع مل جاتا ہے کہ  وہ خالی جگہ دیکھ کر اُسے پُر کرد ے ۔

پاکستان اس وقت میڈیا کا مکہ ہے جہاں سیاستدان صبح شام اس کے چاروں طرف محوِ طواف ہیں ۔ یہاں کے میڈیا میں جو جتنا بڑا اداکار ہے وہ اُتنا ہی بڑا دانشور اور قلمکار ہے ۔  یہ صورتِ حال نئی نہیں ہے ، بلکہ اس کی جڑیں تقسیمِ ہند کے ساتھ ہی ہمارے قومی ضمیر کی مِٹّی میں گہری لگ گئی تھیں ۔ تقسیم کی اس واردات میں بھی بے چارہ عام مہاجر جو بھارت میں بھی لُٹتا رہا تھا ، پاکستان آ کر بھی لُٹتا ہی رہا  ، مگر دونوں طرف کے جاگیردار اور تاجر مل کر لوٹ مار پر تُل گئے اور اب تک لُوٹ مار کا یہ بازار گرم ہے جو  پاکستانی  بازار سے پھیل کربین الاقوامی بن چکا ہے ۔

پاکستان کا موجودہ سیاسی نظام کاروباری جمہوریت ہے ۔ اس نظام کو تاجر پیشہ سیاستدان پورے کاروباری انداز میں چلا رہے ہیں اور اس سارے سیاسی کاروبار کا فوکس منافع خور ی پر ہے خواہ وہ کتنی ہی  ناجائز ہی کیوں نہ ہو ۔ اس منافع خوری کی سطح لوٹ مار اور چھینا جھپٹی سے لے کر بلیک میلنگ تک ہے ، جس  کے ذریعے اس ملک کے غریب عوام کی چمڑی اُدھیڑی جا رہی ہے ، خون پیا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ ملک کو بین الاقوامی اداروں کے ہاں گروی رکھ کر کیا جا رہا ہےاور بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے کیا جا رہا ہے  ۔

پاکستان میں دہشت گردی اور کرپشن کی موجودہ صورتِ حال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں رویے نظریہ ء پاکستان کے لیے کفن بُننے کی کھڈی بن کر رہ گئے ہیں  ۔ پاکستان کےعاقبت نا اندیش ، بے وقوف ، لالچی ، حریص اور کرپٹ حکمرانوں کے ہاتھوں قائد اعظم کا پاکستان تو پہلے ہی وفات پا چکا ہے اور بنگلہ دیش کے پلٹن میدان میں اُس کی قبر موجود ہے لیکن جو کچھ باقی رہ گیا ہے ، اُسے بھی لُوٹ کھسوٹ کر اور اُس کی مٹّی بیچ کر لندن ، دوبئی اور کینیڈا میں زر کی جاگیریں قائم کی جا چکی ہیں ۔ یہ ایک حفظِ ما تقدم کی پالیسی ہے کہ خدا نخواستہ اگر پاکستان میں لوٹ مار کی حکمرانی قائم نہ رہے تو آف شور پاکستان میں ٹھکانہ کیا جائے ۔ دولت کے یہ پُجاری نہ تو اسلام کے دوست ہیں اور نہ ہی پاکستان کے خیر خواہ ہیں کیونکہ اُن کو صرف اور صرف دولت عزیز ہے جس کو وہ اپنا موروثی اثاثہ کہتے ہیں اور اُس پر فخر کرتے ہیں کہ وہ خاندانی دولت مند ہیں:
سو پشت سے ہے پیشہ ء آبا یہ لُوٹ مار
کچھ لیڈری ذریعہ ء عزت نہیں مجھے

ابھی کل ہی پنجاب کے نامور ترین وزیر رانا ثنا اللہ فرما رہے تھے کہ نواز شریف کے دادا بھی ارب پتی تھے اور دوسری طرف لندن کا نو منتخب میئر کہہ رہا تھا کہ میرا باپ بس ڈرائیور تھا ۔ اگر آج وہ زندہ ہوتا تو میری کامیابی پر کتنا خوش ہوتا ۔  حیرت ہے کہ پاکستانی کلچر میں کہا جا رہا ہے کہ " پدرم ارب پتی بود" اور لندن میں سے جہاں نواز شریف کی اولاد کی جائدادیں ہیں ، آواز آ رہی ہے کہ " پدرم بس ڈرائیور بود "

وہ معاشرہ جہاں انسان کی قدر و منزلت ہوتی ہے ، اُس کی جڑین قانون اور انصاف میں بہت گہری ہوتی ہیں۔ لیکن جہاں آدمی میں سانپ کی صفات آ جائیں  تو وہ زر کے ڈھیر پر بیٹھنے لگتا ہے اور وہ ایسا سانپ ہوتا ہے جو جب چاہے قانون کو ڈنک مار سکتا ہے ، قانون کے مونہہ پر تھپڑ جڑ سکتا ہے  اور سارے جمہوری سپولیے اُس تھپڑ کی حمایت میں سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں اور قانون اور انصاف کا مونہہ چِڑاتے  ہیں۔

زر پرستی ہمارا دیرینہ اور آبائی سماجی رویہ ہے ۔ چنانچہ پاکستان سے باہر بھی جہاں جہاں پاکستانی تارکینِ وطن آباد ہیں ، وہاں بھی زر ہی کی حکمرانی ہے ۔ جن لوگوں نے شراب اور کباب بیچ کر دولت جمع کر رکھی ہے ، وہ بھی خود کو پاکستان کے حکمران طبقے کا ہی فرد سمجھتے ہیں اور وہ ہر شخص کی قیمت لگانا چاہتے ہیں اور اُسے خرید کر اپنی جیب میں ڈال کر خوش ہونا چاہتے ہیں ۔ انسانوں کی قیمت لگانا عہدِ غلامی کی روایت ہے جو کسی نہ کسی صورت میں اور کسی نہ کسی سطح پر آج بھی موجود ہے، لیکن ایک فرق کے ساتھ کہ اب پورے انسانی وجود کے بجائے اُس کا دماغ بکتا ہے ، قلم بکتا ہے ، عقیدہ بکتا ہے ، فتویٰ بکتا ہے اور تو اور نظریہ تک بکتا ہے ۔

یقیناً ہم سب اُسی معاشرتی زندان کے قیدی ہیں جہاں چائے کے ایک کپ کے عوض دوستی کے نام پر لوگوں کو خریدنے کی سازش کی جاتی ہے۔ اور مجھے وہ بڑھیا یاد آتی ہے جو یوسف کو خریدنے کے لیے سوت کی انٹی لے کر آئی تھی مگر یوسف کو حکمرانِ وقت نے خرید لیا ۔ ہر دور میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے ۔ اب آخر میں چند ٹوٹے پھوٹے اشعار :
یہ کون کہتا ہے قانون کی حکومت ہے
ہمارے ہاں تو میاں نون کی حکومت ہے
ہمارے ملک کے اس طرز٘ حکمرانی میں
سیاسی چوہوں کے طاعون کی حکومت ہے
کبھی نجس سی صدارت ہے یحیٰ خاں کی
کبھی یہاں کسی ملعون کی حکومت ہے
ہوئیں تمام وہ سب پگڑیاں ، وہ شلواریں
اب اپنے ملک میں پتلون کی حکومت ہے
جہاں اندھیرے کی سڑکیں بچھائی جاتی ہیں
دسمبروں میں وہاں جون کی حکومت ہے