ناروے ، دوسرا وطن میرا
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 16 / مئ / 2016
- 11151
مُبارک ہے وہ سر زمین ، جہاں مُختلف زبانیں بولنے والے ، مختلف النسل اور مُختلف العقائد لوگ باہمی امن ، یگانگت اور رواداری کی فضا میں رہتے ہیں ۔ اگر چہ ملک کے بادشاہ اور ملکی آبادی کی اکثریت کا مذہب عیسائیت ہے مگر یہاں ہم سب کے ناروے میں نسلی ، مذہبی یا لسانی اختلاف کی بنیاد پر کسی سے امتیاز برتنے کے رویے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ۔ ایسے رویوں کو جُرم گردانا جاتا ہے ۔ یہاں مسلمانوں کو مسجدیں ، مدرسے اور تصوف کے مراکز قائم کرنے کی آزادی ہے ۔ سکھوں کو گودوارے تعمیر کرنے اور ہندوؤں اور بدھوں کو اپنے اپنے مندر قائم کرنے اور اپنی اپنی عبادت کی آزادی ہے ۔ یہاں یوگ وِدیا کے مراکز کھلے ہیں ، نارویجن مرد اور عورتیں یوگا کرتے ہیں اور اس بنا پر کوئی کسی عیسائی کو ہندو قرار نہیں دیتا ۔ اس مذہبی قومی منظر نامے کا حُسن یہ ہے کہ یہاں کمیونسٹ اپنے الحاد اور انسانی اخلاقیات کی تنظیم اپنے فلسفہء انسانیت کا آزادی سے پرچار کرتے ہیں اور مذہب کے دوش بدوش انسانی اقدار کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں ۔ ایسے ہی ہوتے ہیں مہذب معاشرے ۔ لیکن ملک کا مروجہ قانون سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتا ہے ۔ ایسی ہوتی ہے قانون کی حکمرانی ۔
سترہ مئی اس مُلک کا قومی دن ہے ۔ اس دن کی اہمیت ایسی ہی ہے ، جیسی پاکستان میں چودہ اگست کی ہے ۔ پاکستانی تارکینِ وطن اس ملک میں پورے جوش و خروش اور تزک و احتشام سے یومِ آزادی مناتے ہیں ۔ ان جلسوں میں نارویجین سیاسی اکابرین بصد شوق شرکت کرتے ہیں مگر وہ اکثر یہ سوال کرنا نہیں بھولتے کہ تمام پاکستانی الاصل لوگ مل کر یومِ آزادی کیوں نہیں مناتے ؟
مگر ہم پاکستانی یہاں بھی تقسیم ہیں ۔ سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہیں ، ذات پات کی بنیاد پر تقسیم ہیں ، کمی اور چودھری کی بنیاد پر تقسیم ہیں اور اس لیے ہیں کہ قومی وحدت کی آب و ہوا ہمیں راس نہیں آتی ۔ یہاں پاکستان کے مختلف علاقوں ، شہروں ، قصبوں اور دیہات سے آئے لوگوں کی اپنی اپنی تنظیمیں ہیں جن کا اپنا اپنا نظریہء پاکستان ہے ، اپنا اپنا اسلام ہے ، اپنی اپنی ڈفلی ہے اور اپنا اپنا راگ ہے ۔ ہمیں روایتی طور پر ایک ہی جھنڈے تلے جمع ہونا نہیں آتا ۔ اگر ہم ایک ہی پاکستانی پرچم تلے جمع ہیں تو اس لیے ہیں کہ ریاستی جبر ہمیں ایک لڑی میں پرو دیتا ہے اور یہ ہماری مجبوری ہے ۔ چنانچہ ناروے میں موجود پاکستانیوں کی سماجی بہبود کی تنظیموں کے اپنے اپنے پاکستان ہیں اور کسی دوسری تنظیم کے لوگ پاسپورٹ کے بغیر دوسرے کے پاکستان میں داخل نہیں ہو سکتے ۔ ہر مذہبی فرقے کا اپنا اسلام ہے لیکن اس کے باوجود ہم سب، پاکستانی تارکینِ وطن کے طور پر، نارو یجین پرچم تلے ایک ہیں اور ہمارا یہ رشتہ قانون کی حکمرانی اور سربلندی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا رشتہ ہے ۔
پاکستانیوں نے ساٹھ کی دہائی کے آخر میں ناروے کی سرزمین پر قدم رکھا اور اپنی محنتِ شاقہ ، لگن ، ہِمّت اور تسلسل سے ہر شعبہء زندگی میں کام کیا اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصّہ لیا اور اس ملک کے کارخانوں ، دفاتر اور دوسرے شعبوں میں افرادی قوت کے خلا کو پُر کیا ۔ سیاست ، صحافت ، تعلیم ، طب ، انجینرنگ سے لے کر غیر ہنر مند محنت تک ہر جگہ پاکستانیوں نے اپنے با صلاحیت اور کار آمد ہونے کا ثبوت فراہم کیا ۔ پاکستان کے بیٹے اور بیٹیاں فوج اور پولیس سے لے کر اسمبلوں اور وزارتوں تک ہر عہدے پر فائز ہوئے ۔ پاکستان کے روایتی معاشرتی ڈھانچے میں مذہبی اجارہ داروں نے عورت کی معاشرتی زندگی میں فعال شرکت کو جس طرح محدود کر رکھا تھا ، اُس روایت پر ترکِ وطن نے زور کی ضرب لگائی اور آزادئ نسواں کے نئے دریچے کھلنے لگے ۔ اگرچہ پاکستان میں متمول طبقے کی خواتین کو نسبتاً زیادہ آزادی حاصل رہی ہے جس میں محترمہ فاطمہ جناح ، بے نظیر بھٹو ، حنا ربانی کھر اور مریم نواز جیسی خواتین مردوں کے دوش بدوش ہر شعبے میں شرکت کرتی ہیں، مگر یہاں نارویجین پاکستان کی ہر بیٹی کو وہی حق حاصل ہے جو پاکستان میں گنتی کی چند خواتین کا استحقاق رہا ہے ۔ یہاں ہر خاتون جو کسی بھی سماجی پس منظر سے نکل کر آئی ہو ، بے نظیر ، حنا ربانی اور مریم نواز سے کم نہیں ہوتی۔
اگرچہ ہم کہتے رہتے ہیں :
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا ، اور نہ رہا بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
لیکن جونہی مسجد سے باہر نکلے تمام امتیازات خم ٹھونک کر راہ میں کھڑے ہوگئے۔ مسجد کا کلچر مسجد میں رہ گیا اور باہر نکلے تو سب ان گنت خانوں اور طبقوں میں بٹ گئے ۔ یہ کمی اوہ چودھری ۔ ذات پات کا غلیظ کیڑا گلی کوچوں میں رینگنے لگتا ہے ۔ خُدا داد صلاحیتوں کے بجائے مال و دولت کے قارونوں اور خزانوں کے سانپوں کو ہی آگے بڑھ کر قیادت کرنے اور مُلک کی باگ ڈور سنبھالنے کا حق دیا جاتا ہے مگر ناروے میں پاکستانی نژاد تارکینِ وطن نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک با صلاحیت قوم ہیں اور زندگی کے کسی بھی شعبے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔ وہ لوگ جنہیں پاکستان کے کرپٹ نظام نے تو پناہ نہ دی مگر ناروے میں اُنہوں نے اپنی خداداد صلاحیت کا لوہا منوایا ۔ یہ سب اپنی جگہ مگر پاکستان کے حکمران خاندانوں اور سیاست کو تجارت بنانے والے نوسر بازوں کوان صلاحیتوں سے کیا ؟
وہ صلاحیت کے پیڑ نہیں گنتے ، اُنہیں تو زرِ مبادلہ کے آم کھانے سے غرض ہے سو وہ کھا رہے ہیں ۔ پاکستانی تارکینِ وطن یہاں رہ کر ، اپنی شہریت بدل کر ، نارویجین پاکستانی بن کر بھی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اُن سے زیادہ کرتے ہیں جو پاکستان کو آف شور کمپنیوں میں تبدیل کرتے چلے جا رہے ہیں ۔
پاکستان سے محبت کرنے والے ان نارویجینوں کو اُن کا قومی دن مُبارک ہو ، کیونکہ یہ اُن کا دوسرا وطن ہے ۔
برف باری میں ہم سُخن میرا
ناروے ، دوسرا وطن میرا