کُرپشن فری پاکستان

گزشتہ روز جماعتِ اسلامی کے فقیر منش امیر جناب سراج الحق نے کراچی میں نو عمر طالبعلموں اور کم سنوں کی پلے کارڈ بردار پریڈ کروائی  ۔ ان پلے کارڈوں پر ایک کرپشن فری پاکستان کا مطالبہ رقم تھا ۔  لیکن جیسا کہ لکھے ہوئے الفاظ گمراہ بھی کرتے ہیں اور راہِ راست بھی دکھاتے ہیں ، اُسی  مفہوم کے پیشِ نظر ایک متفنی نقاد نےسوال اُٹھایا کہ اس مُظاہرے کے بھی دو ہی پہلو ہیں ۔ سراج الحق صاحب کا مطالبہ ہے کہ پاکستان ہر قسم کی کرپشن سے پاک ہو جائے جبکہ یار لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں ہر شخص کو بلا تخصیص رنگ و نسل و مذہب و ہجرت و مقامیت کرپشن کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے بلکہ کرپشن کو   آئین میں ترمیم کے ذریعے ہر پاکستانی کا بنیادی حق قرار دیا جانا چاہیے ۔ لا حول ولا قوۃ ۔

پاکستان میں کرپشن کی تاریخ بڑی پُرانی ہے ۔  اور کرپشن کے سدِ باب اور خاتمے کے لیے جو ادارے سب سے زیادہ موثر ثابت ہو سکتے تھے  ، وہ مذہبی ادارے تھے۔  اِن اداروں کی ما ں مسجد ہے ، جہاں دن میں پانچ بار لوگوں کو برائی اور بے حیائی سے روکنے کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ جی ہاں ، نظامِ صلوٰۃ ہی وہ تعلیم ہے جو کسی فرد کو ، جس نے اسلام قبول کر لیا ہو ، بُرائی اور بے حیائی سے روکتی ہے ۔ کیونکہ قرآن میں تو واضح الفاظ میں یہی لکھا ہے ، لیکن ہمارے مذہبی اداروں نے خود تو ترقی کر لی ، اسلامی نظریاتی کونسل بنالی ، وفاقی شریعت کورٹ بھی بن گئی ، مذہبی امور کی وزارت بھی بن گئی لیکن اِن اداروں نے قرآن کو پڑھ کر سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق کو رائج نہیں کیا اور نہ ہی اس بات کی ضمانت دی کہ اسلام کے روحانی اور اخلاقی قوانین پر حکم بہ حکم عمل ہوگا ۔  خطیب اور پیش امام نے اپنے اُن مقتدیوں کو خود احتسابی کے عمل سے روشناس ہی نہیں کراتے ، جنہیں نماز پڑھتے عمر گزر جاتی  ہے ۔ وہ کبھی یہ سوال نہیں کرتے کہ  آیا نماز نے اُن پر اپنا اثر مرتب کیا اور اُن کا تزکیہ ء نفس کر کے ، اُن کی کایا کلپ کر کے اُنہیں صادق اور امین بنایا کہ نہیں؟

اس احتساب کے بجائے اسلام کے  کلیدی اور اہم ترین ادارے نے پنج وقتہ نماز کو امام اور موذن کے لیے  روزگار کے حصول تک محدود کردیا اور نماز کے ذرریعے فرد  کی ذات ، کردار اور شخصیت پر مرتب ہونے والے اثرات کو یکسر نظر انداز کر کے پسِ پشت ڈال دیا ۔ البتہ اتنا ضرور کیا کہ داڑھی ، ٹوپی یا پگڑی اور پائچوں سے اونچی شلوار کو ضرور اسلامی لباس کے طور پر تسلیم کروا لیا ۔

گذشتہ سنیچر کو اوسلو میں مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے  منعقد ہو نے والے سیمینار میں میری ملاقات  جب میرے بہت ہی  محترم اور معزز دوست مولانا قاری محبوب الرحمان سے ہوئی تو میں نے اُن سے اس سلسلے میں اپنے خدشات اور تشویش کا اظہار کیا اور اُن سے سوال کیا کہ آخر عام آدمی کی ذات پر صلوٰۃ کے اثرات کیوں مرتب نہیں ہو رہے اور وہ با برکت اثرات  صرف مخصوص مذہبی حلقوں تک ہی کیوں محدود ہیں ؟
فرمانے لگے ، " کیا مطلب؟ "
عرض کیا کہ جب نماز برائی اور بے حیائی سے روکنے کا موثر ترین عمل ہے اور تزکیہ ء نفس کرتی ہے تو مسلمان معاشروں میں اتنی کرپشن کیوں ہے ؟
کرپشن جو سب اقتصادی جرائم کی ماں ہے ، ہمارے گلی کوچوں ، دفتروں اور سرکاری ایوانوں میں برہنہ ناچتی ہے  تو کیوں ؟ 
میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم صلوٰۃ کے عمل سے نیکی اور حیا سیکھ کر اُسے اپنی زندگی ، اپنے طرزِ عمل اور اپنے رویوں میں رائج کر سکے ؟  مثلاً صلوٰۃ وقت کی پابندی سکھاتی ہے مگر وقت کی پابندی کے اصول کو ہم مساجد سے باہر اپنی معاشرتی زندگی میں رواج نہیں دے پائے ۔ ہماری تقریبیں ، سوشل پروگرام ، ثقافتی شو اکثر بروقت شروع ہونے کے بجائے تاخیر کا شکار رہتے ہیں ۔

نماز قطار بندی سکھاتی ہے مگر مسجد سے نکلتے ہی ہم قطار شکن بن جاتے ہیں ، تو اس پر مولانا محبوب الرحمان نے کہا کہ مسجد میں صفیں بنوانے اور سیدھی کروانے کے لیے بھی بڑی محنت کرنی پڑتی ہے ۔ 
نماز خضوع و خشوع سکھاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد کے باہر بھی زندگی کے سارے  کام پورے خضوع و خشوع سے کیے جائیں۔ کیونکہ اللہ نے جنوں اور انسانوں کو  عبادت کی غرض سے پیدا کیا ہے اور اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنا عبادت ہے ۔ اور ہم اس عبادت سے صرفِ نظر کرتے ہیں اور مسجد سے باہر اپنی ذمہ داریوں کو بھول جاتے ہیں ۔ نماز با جماعت اجتماعی زندگی کا درس دیتی ہے لیکن ہم جماعت سازی صرف مالی منفعت کے لیے کرتے ہیں، انسانی کردار  کی تعمیر کے لیے نہیں  ۔ ہمارے مذہبی ادارے اس صورتِ حال کو در خورِ اعتنا نہیں سمجھتے اور اس کے بجائے انتظامی اور سیاسی اداروں کو مطعون کرتے ہیں کہ ملک میں اسلامی قوانین نہیں ہیں ۔

یہ اعتراض   بھی شاید درست ہو  کہ شرعی قانون نہیں ہیں ، لیکن مسلمان کے لیے قانون تو اللہ ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم  اور حاکمِ وقت کی اطاعت ہے اور اُس کی پہلی شرط صادق و امین ہونا ہے جو مسلمان ہونے کی گھُٹی یعنی گڑھتی ہے اور وہ اس لیے کہ اسلام اُن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتارا گیا جو  پہلی وحی آنے سے پہلے ہی چالیس برس سے صادق و امین کی زندگی بسر کرتے  رہے۔ جس کی گواہی  نہ صرف اللہ رب العزت  نے دی بلکہ دوست دشمن سبھی دیتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صادق اور امین ہیں ۔

قوانین بنانے سے کیا ہوتا ہے ؟
قوانین تو ” تورات  " میں بھی موجود تھے لیکن اُن پر عمل نہیں ہوتا تھا ۔ چنانچہ قرآن نے کہا کہ یہ بے عمل لوگ ایسے ہیں جیسے گدھوں پر تورات کی جلدیں لدی ہوں ۔ قانون پر عمل کے بغیر مسلمان بھی محولہ بالا اصول کی رو سے کتاب بردارگدھے زیادہ کچھ نہیں ہوتا ۔

قانون کی پابندی سکھانا مساجد کا کام ہے لیکن ان میں سے بیشتر مذہبی کارکن  ، مذہبی  اقدار سکھانے کے بجائے اپنے روزی  روزگار  کی توسع میں مصروف رہتے ہیں اور اپنی غیر ذمہ داری کا  الزام شرعی قوانین کے فقدان کو قرار دیتے ہیں ، اور شکوہ کرتے ہیں کہ ملک میں شرعی قوانین موجود نہیں ہیں ۔

ارے بھائی !  حکومتِ وقت میں شریک لوگ بھی آپ ہی کی مساجد کے تریبت یافتہ ہیں ۔ بہت سے اکابر علماء کے تعلقات حکمرانوں سے بہت گہرے ہیں مگر اس کے باوجود پانامہ لیکس میں جن شرفاء کے نام آ رہے ہیں ، اُن کی مذمت جماعت اسلامی نے تو کی مگر جمعیت العلمائے اسلام نے حکمرانوں کے بجائے عمران خان اور اُس کے ساتھیوں پر طنز و تشنیع کے تیر برسانے کا پیشہ اختیار کر رکھا ہے ۔ ایسے میں بچوں کے جلوسوں اور مظاہروں سے کیا ہوگا ؟

اصل میں تو مذہبی اداروں کو اپنا احتساب خود کرنا ہوگا اور بتانا ہوگا کہ نطامِ مساجد و صلوٰۃ  کیوں نتیجہ خیز نہیں ، اور اسلام کی بنیادی اقدار کی تعلیم دینے اور مسلمان کی تربیت کرنے میں وہ کیوں ناکام ہے ؟
یہ ہوگا احتساب کا نقطہ ء آغاز !