گھریلو تشدد کا شرعی لائسنس

(نوٹ ) ۔ اگرچہ میں نے اپنے زمانہ ء طالب علمی کا ایک مختصر سا حصہ جامعہ نعیمیہ لاہور میں گزارا ہے لیکن اس کے باوجود میں کسی روایتی مذہبی مدرسے کا فارغ التحصیل نہیں ہوں۔ تاہم ایک مسلمان معاشرے کے فرد کے طور پر مجھے کسی بھی شرعی معاملے کو سمجھنے کے لیے کسی بھی سوال کا حق حاصل ہے  اور " واما السائل فلا تنھر" کے حکم کے پیشِ نظر کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی سوالی کو جھڑکے خواہ وہ روٹی کا ٹُکڑا مانگے یا علم کا توشہ ۔ اور خلافتِ راشدہ کے زمانے میں جس طرح ایک عام بدو کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ خلیفتہ المسلمین سے یہ پوچھ سکے کہ اُن کی قمیض کے لیے کپڑا کہاں سے آیا ، اسی طرح مجھے بھی یہ حق حاصل ہے کہ میں علمائے وقت سے سوال کروں کہ گھریلو تشدد کا جواز کہاں سے آیا ۔ گھریلو تشدد کے اس شرعی قانون کی نظریاتی شرح کے رد عمل میں خواتین میں جو بے چینی پائی جا رہی ہے ، وہ فساد فی الارض کی ذیل میں آتی ہے اور اُس کے ذمہ د ار اسلامی نظریاتی کونسل کے فلسفی اور دانشور ہیں ۔ خُدا ان روشن فکر علماء  اور مجھ ایسے ہیچمدانوں کو  توفیق اور ہدایت دے کہ ہم مل کر معاملے کی تہ تک پہنچ سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آمدن بر سرِ مطلب ۔ خیر سے پاکستان میں ایک نظریاتی کونسل بھی ہے جو وحی اور کتاب اللہ کی نئی نئی تفسیریں پیش کر کے اسلام کو ایک سیاسی معاشرتی نظریے میں تبدیل کرنے کی مہم پر نکلی ہوئی ہے ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ چند لوگ جو جدید سائنسی تحقیق کے اس زمانے میں بھی درسِ نظامی کی روایت پر تکیہ کیے ہوئے  ہیں ، کلام اللہ میں دانستہ یا نا دانستہ تحریف کی جسارت کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔

اس وقت اسلامی نظریاتی کونسل کی جس تجویز کا چرچا ہے وہ بیوی کو ہلکا پھلکا زدوکوب کرنے کے شرعی اجازت نامے کے اجرا سے متعلق ہے، جو اصل میں گھریلو تشدد کا قانون ہے ۔  اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اللہ تعالیٰ نے میاں کو یہ حق دے کر کہ وہ اپنی بیوی کو حسبِ ضرورت یا  بر بنائے عادت  زدوکوب کرے ، گھریلو تشدد کی بنیاد خود رکھی ہے ؟

میری صوابدید کے مطابق ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ روایتی شرعی مکتبوں کی فکری کم فہمی ہے کہ وہ سماجی روایات کو خُدا ساختہ قرار دے رہے ہیں ، جب کہ اس نازک اور سنگین نوعیت کے معاملے کو بالتحقیق سمجھنے اور مکمل طور پر اس کا علمی احاطہ کرنے کی ضرورت ہے جو ان مذہبی سکولوں سے اب تک نہیں ہو پایا  ۔ اسلام ایک یونیورسل مذہب ہے جو تمام نبیوں اور تمام آسمانی کتابوں پر ایمان سے مشروط ہے ۔ اس مذہب کی تعلیمات کے مطابق مرد اور عورت کے حقوق واضح اور معروف ہیں ۔ جنسی اختلاف کی بنیاد پر مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے ہم جنس ہیں اور دونوں کو ایک ہی سیل یا خلیے سے پیدا کیا گیا ہے جسے قرآن نے نفسِ واحدہ کہا ہے ۔ مرد اور عورت دونوں اپنی اصل میں ایک ہیں ۔ اور تخلیق کی کہانی میں بتایا گیا ہے کہ جب آدم کو مشترکہ جنسی وجود کی صورت میں پیدا کیا گیا تو اُس وقت جس آدم کو سجدہ ء تعظیم پیش کیا ، اُس کے یونی سیکس وجود میں تذکیر و تانیث یکجا تھے اور مرد کے ساتھ عورت بھی فرشتوں کی مسجود تھی ۔ پھر اس تخلیقی مظہر کو دو ذیلی اصولوں میں تقسیم کر کے اصولِ تذکیر اور اصولِ تانیث کو  وضع کیا گیا ۔ اس کی گواہی چوتھے پارے کی سورہ ء نساء میں یوں رقم ہے :
" لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں  نفسِ واحدہ سے پیدا کیا اور اُس میں سے جوڑا بنایا " ۔

وہ نفسِ واحدہ جسے آدم کہا گیا اور جس کی تعظیم فرشتوں نے کی وہ اصولِ تذکیر و تانیث کا مرقع تھا ۔ یہاں فطرت کے عناصر کے ہم مرتبہ ہونے کے قانون کو سمجھنا ضروری ہے، جسے تخلیقِ آدم کے وقت بیان کیا گیا تھا ۔ قرآنِ حکیم میں اس اصول سازی کی تاریخ یوں بیان کی ہے :
" فرمایا ، جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے روکا؟ تو اُس نے کہا کہ میں اُس سے افضل ہوں ، مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور اُسے مٹی سے بنایا ۔ فرمایا : اُتر جا ۔ تجھے شایاں نہیں کہ تکبر کرے ۔ بس نکل جا تو ذلیل ہے ۔ " العراف ۱۳

اس آیت سے اسنتباط اور اس کا ماحصل  یہ ہے کہ  آگ ہو یا مٹی ، کسی عنصر کو کسی پر فضیلت نہیں ہے ۔ سارے عناصر ہم مرتبہ ہیں ۔ اور اُن کے درمیان امتیاز شیطانیت اور سب سے بڑا گناہ یعنی گناہِ کبیرہ ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ایک عنصر کو دوسرے پر فوقیت نہیں تو پھر نفسِ واحدہ سے جنم لینے والے ہم جنس وجود ، مرد اور عورت کے درمیان فرق اور امتیاز کا جواز کیا ہے ۔ اور جہاں تک نفسِ انسانی یا روح کا تعلق ہے ، اُسے جنسی قانون کے تحت خانوں میں تقسیم کیا ہی نہیں جا سکتا ۔ مولانا روم ر فرماتے ہیں :
روح را از مرد و زن اشراک نیست

انسانی روح نہ مذکر ہوتی ہے نہ مونث بلکہ وہ جنسی تقسیم سے ماورا ہوتی ہے ۔ البتہ وہ معاشرہ جہاں عورتوں کو اشیائے صرف یا کماڈٹی بنا کر خریدا  بیچا اور کنیزوں میں شامل کر کے اُن کو درجوں میں بانٹا جاتا ہے، وہاں یہ کلیہ نافذ ہو سکتا ہے اور شاید بر محل بھی ہو ۔ یہ وہ صورتِ حال ہے جس میں مال کے عوض عورت کو خرید کر ملک یمین بنایا جاتا ہے جو اب ایک معاشرتی حقیقت نہیں ہے ۔ مگر شادی کے  مہذب باب میں یہ اصول لاگو نہیں ہوتا کیونکہ نکاح ایک  دوطرفہ مقدس  پیمان ہے جس کی بنیاد محبت اور دو طرفہ احترام پر استوار ہے ۔ لیکن زدوکوب کا مفروضہ جہاں سے اخذ کیا گیا ہے اس کا سرچشمہ ذیل کی آیات ہیں :
" جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی اور بد خوئی کرنے لگی ہیں تو اُن کو سمجھاؤ ، اُن کے ساتھ ہم بستری ترک کردو ، اور اُس پر بھی باز نہ آئیں تو زد و کوب کرو " ۔ النساء ۳۴

یہ حکم نوعیت کے اعتبار سے اُس ازواجی صورتِ حال پر نافذ العمل ہے جو تعدادِ ازواج اور کنیزوں والا معاشرہ ہو جو آج کے پاکستان کی معاشرتی حقیقت نہیں  ہے ۔ اور پھر سورہ ء نساء میں یہ حکم بھی ہے کہ مومنوں کو جائز نہیں کہ وہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھیں ۔ اس ساری صورت ِ حال پر " لا اکراہ فی الدین" کا لازوال اور جامع قانون بھی لاگو ہوتا ہے اور زد و کوب کرنا اکراہ کی ذیل میں آتا ہے۔

رہا  "الرجال قوامون علی النساء " کا حکم  کہ مرد عورتوں پر قوام ہیں ، ایک تحقیق طلب موضوع ہے جس پر انشا اللہ اگلی نشست میں تفصیل سے اپنا نقطہ ء نظر پیش کروں  گا ۔ اور وہ بھی اس اعتراف کے ساتھ کہ راقم نہ ملا ہے نہ مفتی  ، مگر  کتاب اللہ اور دین پر کسی  ملا یا مفتی  کی اجارہ داری نہیں ہے  اور اُس سے میرا اُتنا ہی  تعلق ہے جتنا کسی پیشہ ور شیخ الحدیث یا استاد کا ہے ۔ انشا اللہ ۔