غیر مہذب ، مذہبی کارکن
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 22 / نومبر / 2016
- 8249
ہم ایک ایسے زمانے اور سماج میں رہ رہے ہیں ، جہاں مسلمان کے تشخص کا تصور ناپید ہو گیا ہے اور اُن کی جگہ مذہبی کارکن کے متبادل تصور نے لے لی ہے ۔ جس طرح سیاسی جماعتوں اور سماجی اور ثقافتی تنظیموں کے ممبر ہوتے ہیں اسی طرح مذہبی تنظیموں کے بھی ممبر ہیں اور وہ اپنے اخلاق و کردار کی تعمیر و تزئین کے بجائے اپنے مسلک کے پرچار پر زیادہ زور دیتے ہیں اور اُسی کو دین سمجھتے ہیں ۔
کچھ مذہبی تنظیموں نے پرانی مذہبی اصطلاحات کے بجائے جدید انگریزی اصطلاحات کو رواج دیا ہے اور امام کے بجائے ڈائریکٹر کی اسامی وضع کی گئی ہے اور متعدد مذہبی اداروں کی شاخوں کے سربراہ جو خود کو ڈائریکٹر کہتے ہیں ، یا کہلوانا پسند کرتے ہیں ، وہ بچوں کی دینی تعلیم و تدریس اور نمازوں کی امامت کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے کیونکہ وہ جدید اسلامی اداروں میں ڈائریکٹر کے عہدوں پر فائز ہیں ۔ وہ اپنے مسلک کے بجائے اپنے ادارے کے بانی اور اُس کی ذاتی زندگی کو اسلام ثابت کرنے اور بچوں کو اس کے نام کا کلمہ پڑھانے میں لگے رہتے ہیں ۔ اس کا نیتجہ کیا ہے ؟ کیا یہ جدید مذہنی تنظیمیں یا ادارے اسلام کو عملی طور پر نافذ کرنے میں کوئی سنگِ میل ثابت ہوئے ہیں ؟ کیا ان کی کوششوں سے اسلام کی اعلیٰ اقدار عملاً نافذ ہوئی ہیں ؟
کون سی قدریں ؟ اخوت ، مساوات ، سماجی انصاف ، عجز و انکسار اور معاشی حقوق پوراے کرنے کی قدریں ۔ وہ قدریں جس میں سے ایک یہ ہے کہ دجلہ کے کنارے سوئے ہوئے کُتے تک روزی پہنچانا حاکمِ وقت کی ذمہ داری ہے اور اپنے تن کے کپڑوں تک کا حساب مانگنے پر کسی بھی فرد کو مطمئن کرنا اس پر لازم ہے ۔ لیکن پانامہ لیکس کے معاملے میں جس طرح کا رویہ موجودہ اور سابقہ حکمرانوں نے اختیار کر رکھا ہے ، وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے ، کہ پاکستان کوئی مذہبی ریاست نہیں اور نہ ہی یہ اسلام کے نام پر بنی تھی۔ بلکہ یہ دین اور مسلم قومیت کے نام پر لوٹ مار کرنے کا کارخانہ ہے جہاں عام آدمی کی کوئی جگہ ہی نہیں ۔ جہاں نہ کسی کی عزتِ نفس محفوظ ہے اور نہ ہی معاشرے میں افراد کو بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت ہی دستیاب ہے۔
جہاں تک ملک کے اسلامیہ جموریہ ہونے کا تعلق ہے، اُس کا کوئی اطلاقی اور عملی ثبوت بہم نہیں ہے ۔ حکمرانوں کو اسلام نہیں آتا ۔ وہ صرف کرسی کی اے بی سی اور اقتدار کی گرامر پڑھے ہوئے ہیں اور وہ ان کے لیے کافی ہے کیونکہ اصل اسلام ، عمر بن خطاب رضی اللہ کا اسلام ہے جس میں حکمران کو ایک عام شہری کے اعتراض پر قمیض کا حساب دینا پڑے ، اور یہ اسلام ان حکمرانوں کے مزاج کو راس نہیں آ سکتا ہے ۔ چانچہ اسلام کو ملا کے بہتر تہتر فرقوں کی دست برد پر چھوڑ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے موجودہ پاکستان ایک مُلّا کنٹرولڈ سٹیٹ بن گیا ہے ۔ ملا سے فوج بھی جھجکتی ہے ، سیاست دان بھی ڈرتا ہے اور پولیس بھی خوف کھاتی ہے ، مگر کیوں ؟
اس لیے کہ ملا کے پاس جو قوت ہے وہ کسی دوسرے ریاستی ادارے کے پاس نہیں اور وہ ہے فلسفہ جہاد کے غلط استعمال کے ذریعے گمراہ کرنے اور کنٹرول میں رکھنے کی حکمتِ عملی ۔ اسلام میں جہاد کی حیثیت اور اہمیت کا جو منکر ہو وہ کافر اور جو جہاد کو گروہی مفادات کے لیے غلط استعمال کرے وہ بے ایمان شیطان ۔
یہ فرقہ باز اور اسلام دشمن لوگ جو غیر مہذب ہیں اور جن کے کردار سے غُنڈہ گردی کی بُو آتی ہے ، اسلام کے صفِ اول کے مجاہد بن کر عام مسلمانوں کے لہو سے ہولی کھیل رہے ہیں ۔ اس بار شیہدِ کربلا حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقعہ پر کابل کی ایک امام بارگاہ میں لگ بھگ تیس افراد کو خود کُش دھماکے کی بھٹی میں ڈال کر زندہ جلا دیا گیا ۔ یہ خود کُش بمباری ایک بیماری ہے جو کئی دہائیوں سے نام نہاد اسلامی تنظیموں کو لاحق ہے اور جن کی وجہ سے حقیقی اسلامی تعلیمات مسخ ہو کر رہ گئی ہیں ۔ میڈیا کی مہربانیوں سے جزوی طور پر مذہبی شو بزنس رواج پا چکا ہے ۔ حوروں کے قصے ، جنت کے مناظر اور جنتیوں کو بہم خوبصورت عورتوں کی کہا نیاں اس طرح سنائی جاتی ہیں کہ مذہب کسی الف لیلیٰ کا قصہ لگنے لگا ہے ۔
اگر پاکستان کے تین اساسی ادارے یعنی مقننہ ، انتظامیہ اور عدلیہ اسلام کے بارے میں سیریس ہوتے تو وہ قتل کے فتوے کے اختیار کو ہر کٹھ ملا کا جائز حق نہ سمجھتے ۔ اسلام کے مطابق ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے لیکن یہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے ۔ یہاں ملا ہی مدعی ہے ، ملا ہی پولیس ہے اور ملا ہی جج کہ وہ جس کو چاہے زندگی سے محروم کرنے کا حکم جاری کر دے ۔ حالانکہ محولہ بالا ان تین اساسی اداروں کی ذمہ داری تھی کہ بلاس فیمی کی شکایات سننے کے لیے ضلعی ، ڈویژنل ، صوبائی اور وفاقی فتویٰ بورڈ قائم کرتے اور پوری چھان بین کے بعد بلاس فیمی کی شکایات پر فیصلے دیے جاتے۔ مگر ان میں سے کوئی ادارہ اسلام کا وفادار ہی نہیں لگتا ۔ ایک اندھیر ہے جو مچ رہا ہے ۔ انسانی جان کی کوئی قیمت ہی نہیں رہ گئی اور عورت کی تذلیل کا اختیار مرد کو حق مہر کے عوض دے دیا گیا ہے ۔
گاؤں کے جہلا کی پنچایتیں عورتو ں کی عصمتوں سے کھیلنے کے فیصلے دیتی ہیں اور عدلیہ اپنے پر تعیش چیمبر میں بیٹھی اپنے چوغوں کی چمک دمک کو دوبالا کرتی رہتی ہے ۔ کہاں ہے انصاف ۔ انگریزی کی ایک کہاوت ہے :
Justice delayed , justice denied.
پاکستان کے عام آدمی کے لیے انصاف کتنا مہنگا ہے ، سب جانتے ہیں ۔ کسی اعتزاز احسن کی خدمات لینا عام آدمی کے بس کی بات ہی نہیں ۔ لوگ انصاف کی تلاش میں بیٹھے بیٹھے بوڑھے ہو جاتے ہیں ۔ جیسے پاکستان کی وہ نسل جس نے پاکستان اپنی آنکھوں سے بنتے ، ٹوٹتے اور پھر دہشت گردی کے ہاتھوں اُجڑتے دیکھا ہے۔ اب نظریہ پاکستان کی قرار داد کو آنکھوں سے لگائے قبر میں جا سوئی ہے ۔
آپ شاید ، نفیس خیالی سے واقف ہوں ۔ یہ ایک غریب شاعر تھا ۔ حالات کا ستایا ہوا ۔ اس نے جل بھُن کر ایک شعر کہا :
دیکھتا کیا ہے مرے مونہہ کی طرف
قائدِ اعظم کا پاکستان دیکھ !
انٹیلی جینس والوں نے اُس غریب کو اس شعر کے جرم میں گرفتار کرکے جسٹس محمد رستم کیانی کی عدالت میں پیش کردیا ۔ جسٹس کیانی بہت دل چسپ آدمی تھے۔ انہوں نے سرکاری وکیل سے کہا کہ اس شعر پر کیا جرم بنتا ہے ۔ سیدھی سی بات ہے ۔ شاعر کہتا ہے کہ میں ایک فاقہ زدہ نیم مردہ ہوں ، میری طرف مت دیکھ ۔ میرے دیکھنے سے تیرا بھلا نہیں ہوگا ۔ میرے چہرے سے اچھا ، قائد اعظم کا پاکستان ہے ، اُسے دیکھ ۔ اور تھوڑی سے جرح کے بعد جسٹس کیانی نے شاعر کو رہا کر دیا ۔
وقت وقت کی بات ہے کہ کبھی اس طرح کا شعر قابلِ دست اندازی پولیس تھا مگر اب قتل کا فتویٰ ، خود کُش بمباری ، فرقہ بازوں کی وارداتیں سب ہو رہی ہیں اور پولیس اس وقت تک شکایت درج نہیں کرتی جب تک اوپر سے حکم نہ آ جائے یا میڈیا کی چیخ و پکار سے پولیس کے کانوں پر جوں نہ رینگنے لگ جائے ۔
اب دوسرا اہم سوال جس کا جواب میں تلاش کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ کیا ایک فرقے کے کارکنوں کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ دوسرے فرقے کے لوگوں کو قابلِ گردن زدنی قرار دے کر قتل پر اُتر آئیں ۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی ایک ایسا قانون بناتی کہ فرقہ وارانہ نظریات کی بنیاد پر مہذب شہریوں کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کلاشنکوف تھام کر اور کمر سے بم باندھ کر دوسرے کے مذہبی مقام کو منہدم کر دیں یا دوسرے فرقے کے ماننے والوں کو کافر قرار دے کر انہیں واجب القتل ثابت کریں جب کہ قرآن نے فرقہ آرائی سے واضح طور پر اور بار بار منع کیا ہے ۔
کابل کی امام بارگاہ میں بہنے والا لہو مسلمانوں کا تھا ، اور جو لوگ اس تباہی کے پیچھے ہیں اُن کو کوئی نام نہیں دیا جا سکتا، سوائے اس کے کہ وہ ذہنی مریض ہیں ۔ اقبال نے کہا تھا :
نہ افغانیم و نے ترک و تتا ریم
چمن زادیم و از یک شاخساریم
تمیز رنگ و خوں بر ما حرام است
کہ ما پروردہ ء یک نو بہاریم
افسوس صد افسوس کہ اب اسلام کی بہار کے پالے ہوئے لوگ فرقہ واریت کی خزاں سے پژمردہ پڑے ہیں اور اسلام کے گھر کے چراغ گھر کو آگ لگا رہے ہیں اور گھر پھونک تماشا دیکھ رہے ہیں ۔