کرسمس اور ہم تارکینِ وطن مسلمان

ایک سوال جو برس ہا برس سے میرے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے ، یہ ہے کہ اگر اللہ رب العالمین ہے ، حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم رحمت اللعالمین ہیں  اور اسلام دنیا کا آخری اور  حتمی مذہب ہے تو پھر مسلمانوں کی  آبادی  دنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ ہی کیوں ہے؟   رب العالمینی اور رحمت اللعالمینی کی حدودِ وسعت اتنی  مُختصر کیوں ہے؟ پچھلی پندرہ صدیوں میں اسلام ایک گلوبل مذہب بن کر  پوری دنیا میں کیوں رائج اور نافذ نہیں ہو سکا ؟ جبکہ تبلیغ کے نام  پر انگنت ادارے  پوری دنیا میں قائم ہیں ۔ ڈیوسبری سے کینیڈا تک  مبلغینِ کرام اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔ دنیا بھر میں ڈھیلوں ، لوٹوں اور شرعی شلواروں کی نمائش جاری ہے۔ مگر خُدا کے بنائے ہوئے اربوں لوگ جو عیسائی ، یہودی ، بدھ ، ہندو اور سکھ ہیں اُن پر  اسلام کا جوہر آشکار نہیں ہو سکا  ۔ آخر کیوں؟
کیا اللہ رب العزت سب کچھ دیکھ کر بھی اہلِ ایمان کی مدد کو نہیں آتا ؟

غالباً اس لیے نہیں آتا کہ مسلمان خود نہ تو اپنی مدد کو آتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کی مدد کو بلکہ ملت کے ٹُکڑے کرکے ایک دوسرے سے نبرد آزما رہتے ہیں اور جہاد کے تصور کی غلط تفہیم کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے خون کو روا سمجھتے ہیں ۔ یہ لوگ  دینی اورملی وحدت کے نام پر انتشار اور افتراق کا  بد ترین نمونہ اور پیکرِ استہزا بنے ہوئے ہیں ۔

ایسے میں ہم پاکستانی تارکینِ وطن  جو  دنیا بھر میں، بالخصوص یورپ اور امریکہ  کے عیسائی اکثریت کے ملکوں یا بھارت میں رہتے ہیں ، بہت سی نفسیاتی گتھیوں  اور الجھنوں کا شکار رہتے ہیں۔ کیونکہ مذہب جو خُدا کی طرف سے محبت ، رحمت اور انسانیت کا پیغام ہے اُسے لوگ ہاتھوں میں دستی بموں کی طرح تھامے ایک دوسرے کو حرفِ غلط کی طرح مٹانے پر تُلے ہوئے ہیں ۔
البتہ فرقہ زدہ مذہبی کنوئیں کے مینڈکوں کے لیے جو خُدا کے سمندر کا ادراک نہیں رکھتے ، یہ بہت آسان ہے کہ وہ مسلمانوں کی اس بہتر برانڈ کی آبادی کو ہی پوری کائنات سمجھ لیں اور غیر مسلم آبادی کو دوزخ کا ایندھن ، مگر بات اتنی آسان نہیں ہے ۔ وہ لوگ جو کثیر المذاہب معاشروں میں رہتے ہیں اور انسانی قدروں کا احترام کرتے ہیں ، کنوئیں کے مینڈکوں کا طرزِ فکر قبول نہیں کر سکتے ۔

ابھی حال ہی میں امریکہ کے کسی فکری بوزہ خانے سے یہ آواز سنائی دی کہ مسلمان شیطان ہیں تو مجھے کچھ عرصہ پہلے ناروے میں پنجابی زبان میں لکھی ہوئی ایک مولوی صاحب کی کتاب یاد آئی جس میں ناروے کے لوگوں کو شیطان کی اولاد قرار دیا گیا تھا ۔ میں حیران ہوں کہ نفرتیں کیا کیا رنگ اختیار کرتی ہیں اور کس کس طرح انسانوں کو انسانی سطح سے گرا کر اُن کا تماشہ بناتی ہیں ۔ مگر ایک دوسرے کے مذہب کا احترام روا رکھنا تو درکنار وہ ایک دوسرے کے فرقے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہیں ۔

اسلام  ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے تمام پیغمبروں اور تمام کتابوں پر ایمان لائیں ۔ ہمارا ایمان ہے کہ  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں مگر ہمارا یمان اس پر بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں اور قرآن کی تعلیم ہے کہ اللہ کے نبیوں کے درمیان فرق روا نہ رکھا جائے ۔ اگر کچھ لوگ عیسیٰ ابنِ مریم کو خُدا کا بیٹا ان معنوں میں سمجھتے ہیں کہ اللہ نے حضرت مریم رضی اللہ سے نکاح کیا اور اپنا گھر بسایا تو وہ غلط تصور ہے ۔ تثلیث کے تصور کے ذریعے  خُدا کو تین میں تقسیم کرنا بے معنی سہی لیکن دنیا میں بہت سے بے معنی تصورات اور بھی ہیں اور قرآن نے یہ بات واضح کر رکھی ہے کہ کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہِ راست پر ہو ۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت اپنے آپ کو بھول کو دوسرے مذاہب پر تنقید میں لگی رہتی ہے اور سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنے ہی دین کو ٹُکڑوں میں بانٹ کر ایک دوسرے کے لتے لیے جائیں اور دارالامن کو  دار الحرب میں تبدیل کر دیا جائے ۔

اب اس بار دسمبر میں دو عظیم نبیوں  کا میلاد ایک ساتھ پڑ رہا ہے ۔ پہلے بارہ ربیع الاوال ہے ۔ پیغمبرِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ  وسلم کا میلادِ مبارک اور پھر دس دن بعد کرسمس کا تہوار ہے جسے میلادِ مسیحِ ںاصری سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ یہ دونوں دن ہمارے لیے روحانی اور مذہبی تاریخ کے اہم ترین دن ہیں ۔ اگر یہ دونوں دن ہم پورے احترام سے ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہو کر منانے کی بنا ڈالتے تو شاہد مذاہبِ عالم کی روایت محبت کی روایت ہوتی نفرت کی نہیں ۔

ہم میں سے مسلمانوں  اکثریت کا یہ حال ہے کہ  اُنہوں نے قرآن کو ناظرہ پڑھا ہے اور قرآن کے پورے مفاہیم سے واقف  ہی نہیں ہیں۔ اور اُن کی اوقات یہ ہے کہ وہ  ملا کی مہیا کی ہوئی فرقہ وارانہ معلومات کی بنا پر  سیکنڈ ہینڈ قسم کے مسلمان  بن کر فرقہ واریت کی روٹیاں کھا کھا کر نفرت اُگلتے رہتے ہیں۔ مگر کیا یہ ملا  لوگ عام مسلمان کے اس کرب سے بھی واقف ہیں کہ  مذہب کے نام پر یہ مذہب کے ٹھیکیدار  انسانوں کے درمیان پل بننے کی بجائے دیواریں اٹھا کر  انہیں تقسیم در تقسیم در تقسیم کرتے چلے جا رہے ہیں :
دل کے ٹُکڑوں  کو بغل بیچ  لیے  پھرتا  ہوں
کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں