پاکستانی معاشرت کے عمومی خدوخال
- تحریر مسعود مُنّور
- بدھ 14 / دسمبر / 2016
- 8214
ہم تارکینِ وطن جو پاکستان سے باہر بیٹھے ، پاکستان کے اندیشے میں دُبلے ہوتے رہتے ہیں، دراصل ایک ایسی سزا بھگت رہے ہیں جس کا کوئی منطقی جواز نہیں ہے ۔ ہم بالفعل پاکستان سے باہر رہتے ہیں، ہماری شہریت کاغذوں میں پاکستانی نہیں ہے مگر ہم پاکستان کے لیے جی رہے ہیں اور پاکستان ہی کے لیے ہی مریں گے۔ ہر چند کہ یہ ایک ایسی قربانی ہے جو ہر طرح سے گھاٹے کا سودا ہے، مگر یہ گھاٹے کا سودا ہماری محبت ہے ۔ پاکستان ہماری محبت ہے ۔ اے محبت زندہ باد !
پاکستانی معاشرت کے بارے میں ایک عرصے سے سُن رہا ہوں کہ یہ بیڈ گورننس کی ایک مثال ہے۔ یہ بیڈ گورننس کا نہیں نان گورنس کا ایک بے حد پیچیدہ کیس ہے ، جس میں پوری پاکستانی انتظامی مشینری سماج کے تمام حصوں اور شعبوں سمیت ناقابلِ حُکمرانی بن چکی ہے ۔ یہ آج کا تازہ ترین واقعہ ہے ۔ شہر اورمقام کا نام دوہرانے کی ضرورت نہیں ۔ جن جن تارکینِ وطن پاکستانیوں نے آج پاکستانی ٹی وی کا کوئی سا چینل بھی دیکھا ہوگا ، وہ اس واقعہ سے آگاہ ہوں گے کہ ایک چوتھی جماعت کا طالب علم ایک بارات کے ساتھ پیسے لوٹتا، شادی ہال تک جا پہنچتا ہے ۔ شادی ہال کا چوکیدار جس کا تعلق ہزارہ سے ہے ، اُسے روک لیتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے ۔ ایک لوہے کی سلاخ اُس بچے کے چہرے کا نشانہ لیتی ہے، اُس کی آنکھ پھوڑ دیتی ہے اور اگلے چند منٹوں میں وہ بچہ موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ خس کم جہاں پاک ۔ ایک غیر ضروری بچہ حرفِ غلط کی طرح مٹادیا گیا ۔
اس کا غم کسے ہوگا؟ وزیرِ اعظم کو ، پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کو ، یا بلاول بھٹو کو؟ نہیں کسی کو بھی نہیں ۔ اُس کے ماں باپ رو دھو کر چُپ ہو جائیں گے اور سیاست کا کولہو حسبِ سابق چلتا رہے گا ۔ ملک میں اور بھی بڑے مسائل ہیں ، نوجوان ڈاکٹروں کی ہڑتال ، جعلی دوائیوں کا سکینڈل ، سٹیل مل کے اپنی اجرتوں کے لیے سراپا احتجاج مزدور، پینشن کے لیے بنک کے باہر قطار باندھے کھڑے بوڑھے، یہ سب اپنی جگہ درست اور عیاں ہے مگر حکمران کہہ رہے ہیں کہ معیشت ترقی کر رہی ہے۔ مگر جس ماں کا چوتھی جماعت کا طالب علم بیٹا بارات میں پیسے لُوٹتا ، موت کے مونہہ میں جا گرا، اُس کے لیے تو معیشت مر چکی ۔
یہ سارے واقعات ، سٹریٹ کرائمز اور وائٹ کالر کرائمز پاکستانی حکمرانوں کی نا اہلی اور نان گورننس کی مکروہ ترین مثال ہیں ۔ ہر روز قانون کا جنازہ اُٹھتا ہے اور جب عدالتوں کے سامنے سے ماتمی جلوس گزرتے ہیں تو عدل و انصاف کی دیوی اپنا مُونہہ لپیٹے ججوں کی میزوں کے نیچے دُبک جاتی ہے ۔
مُسلمان رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا جشنِ ولادت منارہے اور دنیا بھر کو بتا رہے ہیں کہ اسلام امن کا دین ہے اور نبی ء اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے اور پھر اپنے اس دعوے کی تردید میں چکوال میں ایک احمدی عبادت گاہ کو نذرِ آتش کردیا جاتا ہے ۔
آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے ؟
میں جو نہ دانشور ہوں ، نہ سیاسی مبصر اور نہ ہی لفافہ صحافی ، کیا بتاؤں کہ کیا ہو رہا ہے ۔ میں تو ایک عام پاکستانی ہوں ۔ پنجابی محاورے میں پاکستان کی گلیوں کا کوڑا روڑہ ، جس نے انیس سو سنتالیس سے لے کر انیس سو اناسی تک پاکستانی حکومت کی نان گورننس کو براہِ راست بھگتا ہے اور بالآخر مقدر کی آندھی کے دوش پر اُڑتا ، ناروے کے کٹے پھٹے ساحل پر آ گرا اور تب سے اب تک پاکستان سے ہزاروں میل دور بیٹھا ، پاکستان پاکستان کرتا رہتا ہوں ، حالانکہ وہاں میرا چند یادوں کے سوا کچھ بھی نہیں ۔
پاکستان کے حکمرانوں کی پچھلے ستر برس کی تاریخ کا ایک اجمالی جائزہ لیں تو لگتا ہے کہ پاکستان پر اب بھی مُغلوں کے جانشین حکومت کر رہے ہیں ۔ جس طرح ایبک ، غلام ، پٹھان اور مُغل بادشاہوں نے سندھی کی وادی میں آکر اپنے شاندار محلات ، بارہ دریاں ، قلعے اور شالیمار باغات جیسے شہکار تعمیر کیے لیکن مقامی آبادی کے لیے نہ تو ٹاؤن پلاننگ کی اور نہ ہی اُن کے شہروں ، قصبوں اور دیہات کو سہولتیں دیں۔ بالکل وہی سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ آج بھی بلاول ہاؤس ، سرے محل ، جاتی عمرا اور لندن فلیٹس ہی کا بول بالا ہے۔ مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ عام آدمی کے لیے رہائشی سہولتوں کا فقدان کیوں ہے ؟ ستر برس میں کچی بستیاں کیوں پکی نہیں ہو سکیں ، پاکستان کے تمام لوگوں کو گھر کیوں نہیں مل سکا ، سات کروڑ کے لگ بھگ بچے تعلیمی سہولتوں سے کیوں محروم ہیں ۔ کیا روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں نے اپنے وعدہ پورا کیا ؟ نہیں شاید وہ سات مزید دہائیوں میں بھی ایسا نہیں کر سکیں گے کیونکہ وہ آدابِ حکمرانی سے آگاہ ہی نہیں ہیں ۔ یہ سب سیاسی شو بوائے ہیں جو اپنے اپنے پانامہ کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔
یہ جو ہر پانچ سال بعد پاکستان پر حملہ آور ہوتے ہیں ، پاکستان کے شہروں کو ووٹوں سے فتح کرتے ہیں اور پھر قوم کی بوٹیاں نوچنا شروع کر دیتے ہیں ، جس میں پوری سرکاری مشینری ، سرکاری میڈیا اور مذہبی فتویٰ فروش اُن کا ساتھ دیتے ہیں ۔ پانچ سال تک جمہوریت کی اندھی پیستی رہتی ہے ، سرکار کے پالتو کُتّے چاٹتے رہتے ہیں اور شہ کے مصاحب مالِ غنیمت سمیٹتے رہتے ہیں ۔
ہر شے بکاؤ ہے ۔ حکومت نے اپنی کچن کابینہ اور درباری پارلیمنٹ کے اراکین کی تنخواہوں میں بطور رشوت ہوش ربا اضافہ کرکے اُن کے مونہہ بند کر دیے ہیں ۔ ضمیروں کی قیمت ادا ہو چکی ہے ۔ اب ہر لوٹے کی پشت پر میڈ ان رائے ونڈ کی مہر لگی ہے ۔ اور تبدیلی کب آئے گی؟ کوئی نہیں جانتا ۔ عمران خان بھی نہیں اور شیخ رشید ؟
جانے دیں ، کہیں میرے مونہہ سے کچھ نکل نہ جائے ۔