سفّاک دسمبر کی زمہریری
- تحریر مسعود مُنّور
- جمعرات 22 / دسمبر / 2016
- 8840
مذہبی اساطیر کے مطابق زمہریر دوزخ کا وہ شعبہ ہے جس میں گنہ گاروں کو قہر کی برفیلی سردی کے کوڑوں سے سزا دی جائے گی، لیکن شاعروں نے دسمبر پر بہت زیادہ رومانوی ملمع چڑھانے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ دسمبر کے کچھ زخم ایسے ہیں جو کسی طرح سے مندمل ہونے میں نہیں آتے ۔ ان زخموں میں ایک زخم سولہ دسمبر کا ہے ۔ جو پہلی بار ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ان گنت رسوائیوں کے ساتھ لگا اور ملک کو دولخت کرگیا ۔ تب دانشوروں ، اللہ والوں اور نجومیوں کی زبان میں کہا گیا کہ قوم جاگ اُٹھی ہے اور یکجا ہوگئی ہے ۔ مگر نہ قوم جاگی نہ یکجا ہوئی بلکہ وہی پہلی سی بے ڈھنگی چال چلتی رہی ۔
اِسی طرح کا دوسرا بڑا زخم ، عین اُسی تاریخ کو پشاور کے آرمی پبلک سکول میں لگا اور پچھلے زخموں کو اور بھی دو آتشہ کر گیا ۔ اور جب میں نے پاکستان کی نئی نسل کے روشن چراغوں کو اتنی بے رحمی سے ٹی وی سکرین پر گُل ہوتے دیکھا تو میں دیر تک یہ سوچتا رہا کہ ڈھاکہ سے پشاور تک پھیلا ہوا تشدد کا یہ زہر کہیں ایک ہی کاغذ کے دو صفحے تو نہیں ۔
اس بار دسمبر کا مہینہ مسلمان ملکوں پر بہت بھاری گزرا ہے ۔ اتنا بھاری اور سخت بلکہ زمہریری کہ میں دسمبر کا لفط کاغذ پر لکھنے لگوں تو قلم کی نوک سردی کی شدت سے کپکپانے لگتی ہے ۔ کاغذ ٹھٹھر جاتا ہے ۔ کمپیوٹر کی کلیدیں یخ بستہ دانتوں کی طرح بجنے لگتی ہیں ۔
آخر اس بار دسمبر کیسی چال چل رہا ہے اور اس کی عملداری میں کیا کیا ہو رہا ہے؟
بدقسمتی چاروں سمتوں سے ہمیں گھیرے ہوئے ہے۔ ترکی میں روسی سفیر کا بہیمانہ اور سفاکانہ قتل ، حلب کے گلی کوچوں میں خون کی ہولی ، ایک اور ہولو کوسٹ ، کوئٹہ کے گلی کوچوں میں ہر روز بلاؤں کا نزول ۔ نادیدہ آدم خوروں کے حملے جو زندہ انسانوں کو نگل جاتے ہیں ، چکول میں احمدیوں کی عبادت گاہ کو نذرِ آتش کرنے کا جانکاہ واقعہ ۔ کراچی میں ہزاروں لوگوں پر پر اسرار بیماری کا حملہ ۔ برلن میں کرسمس کی خریداری کرنے والے نہتے لوگوں پر ایک ٹرک ڈرائیور کا غیر روایتی حملہ جس میں درجن بھر لوگ لقمہء اجل بنے اور بیسیوں زخمی ہوئے۔ حملے کے شبے میں ایک پاکستانی نژاد شخص کی گرفتاری اور عدم ثبوت کی بنا پر رہائی ۔ سوئٹزر لینڈ کی ایک مسجد میں مسلمانوں پر حملہ ۔
یہ ہے وہ دسمبر جس کو اردو کے کئی شاعروں نے رومانوی شاعری کے میک اپ سے خوبصورت اور خوابناک بنانا چاہا مگر انسانیت کے دشمنوں، جاہلوں، ردِ مذہب کے جنونیوں اور کرائے کے قاتلوں نے اس کی صورت ہی مسخ کردی ۔ اس کی کیفیت ہی غارت کر دی ۔ ہائے بے چارہ دسمبر !
اس بار دسمبر نے ہمارے ہاتھوں بڑے دکھ اُٹھائے ہیں ۔ دسمبر وقت کے بارہ پیرایوں میں سے ایک ہے اور بقولِ اقبال وقت خُدا کا لباس ہے ۔
پراہنِ یزدانم
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو متنبہ کیا تھا کہ " لا تسب الدہر ۔ انا لدہر " ۔ وقت کو برا مت کہو کیوں کہ میں خود وقت ہوں اور ہم وقت کے اس بارھویں پیرائے کی ، اپنی مذموم سرگرمیوں سے کس طرح بے حُرمتی کر رہے ہیں ۔ ہم نے لہو کے چھینٹوں سے اس پر بار بار چھڑکاؤ کیا ، بارود کی دھونی دی ، آگ کے شعلوں سے داغا اور خود کُش دھماکوں سے اس کی توہین کی ۔ مگر " دھن جگرا" دسمبر کا کہ وہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میلادِ عیسیٰ علیہ السلام کی روشنیاں تقسیم کرتا لڑکھڑائے بغیر چلتا رہا ۔ وہ حسبِ روایت دس دن بعد رُخصت ہو جائے گا مگر جاتے جاتے ایک نیا سال ہماری دہلیز پر دھر جائے گا جسے ہم جلد ہی اپنے تشدد پسند ہاتھوں سے آلودہ ، کُہنہ ا ور میلا کر دیں گے ۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ روایتی معاشروں میں پرورش پانے والے مذہبی ٹریڈ مارک کے حامل لوگوں کا مسئلہ کیا ہے ؟ آخر ہم اپنے اپنے مذاہب کی تعلیمات پر صدقِ دل سے عمل کیوں نہیں کرتے ؟ ہم سانپوں کے گچھوں کی طرح کیوں ایک دوسرے میں الجھے رہتے ہیں ؟ ہم ایک دوسرے کو سکھ کا سانس کیوں لینے نہیں دیتے؟ کیا ہم پاگل ہو چکے ہیں ؟
ہاں ، جو لوگ نظریے کو عمل سے جُدا کر دیتے ہیں یقیناً پاگل ہو جاتے ہیں ۔ وہ شیزوفرینک ہوتے ہیں ، بٹی ہوئی شخصیت کے حامل ہوتے ہیں ۔
اور کیا یہی ہے ایک عقیدے کے حامل کروڑوں لوگوں کی کارکردگی کہ اُنہوں نے مل جُل کر اپنی شرعی روایات کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے ملک بنایا اور پھر توڑ دیا ۔ اور اب ، اب ، باقی ماندہ ، بچے کھچے ملک کو نیزے کی نوک میں پروئے ، ایک دوسرے کے خون کے پیاسے پھرتے ہیں ۔ یعنی پاکستان کی اسمبلیانہ زبان میں ، کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے مگر نہیں ہے۔
کیا مہذب معاشرتوں کی روز مرہ کا منظر نامہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے ؟ یہ میں نہیں بیس سو سولہ کا دسمبر پوچھ رہا ہے کہ اس برس کے بارہ مہینوں کے تیس سو پینسٹھ دنوں من حیث القوم تم نے کتنا امن کمایا ، کتنی ترقی بوئی اور کتنی خوشحالی کاٹی ۔ وزارتِ خزانہ کے جادو گھر کے اعدادو شمار کے مطابق نہیں بلکہ شہروں ، قصبوں اور دیہات کے گلی کوچوں میں پھرتے عام آدمی کے معیارِ زندگی کی شرح ناپ کر بتاؤ کہ تم نے اس برس عام آدمی کو کتنا ریلیف دیا ہے؟ اور جن کے اعمال نامے کے ساتھ پانامہ لیکس کی کاپیاں نتھی ہیں، اُسے بھی خُدا کے فرشتوں نے ہی لکھا ہے اور آسمان سے آواز آرہی ہے ، و تعز من تشاء و تذل من تشاء " ۔