جذباتی استحصال

کالم لکھنا ، اردو پڑھنے والوں سے کسی موضوع پر مُخاطب ہونا اور " کاروان " کا حوالہ بننا ، زندگی کی ذمہ داریاں شمار ہونے لگی ہیں ۔  کالموں کا جو متن یا موضوع ہوتا ہے ، اس پر لکھنے والے کا اختیار کم اور حالات کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے ۔ اور وہ   حالات لکھنے والے سے خود کو لکھواتے ہیں ۔

پچھلا ایک ہفتہ اپنوں کے نجی دکھ بانٹنے میں  گزر گیا اور یہ یاد نہ رہا کہ اپنے اور پرائے کی یہ تقسیم امتیازی ہے اور جنہیں ہم پرائے کہتے ہیں وہ سبھی اپنے ہی ہوتے ہیں ۔  بھلا اس زمین پر آدم و حوّا کی اولاد میں کون کس کا غیر ہے ۔ شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی نے جو قرآن مجید کے متن پر حتی المقدور دسترس اور عبور رکھتے تھے ، مصرع لگایا:
بنی آدم اعضائے یک دیگر اند
کہ بنی نوعِ انسان کی اجتماعی ہیئت ایک نامیاتی وجود کی طرح ہے اور ہم سب آدم و حوا زادے ، آپس میں اس طرح جُڑے ہیں جس طرح کسی جسم کے اعضا جُڑے ہوتے ہیں ۔

ایسے میں مذہبوں ، عقیدوں ، نظریوں  اور امتیازِ من و تو کی آری سے بنی نوعِ انسان کے اجتماعی وجود کو چیرنا ، ایک گُناہِ کبیرہ ہے۔ مگر شومئ قسمت سے ہم نے  اس تقسیم کو سماجیا لیا ہے اور اسے رسم و رواج کے طور پر قبول کرلیا ہے ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ہمم خُدا اور اُس کے برگزیدہ نبیوں کے نام پر نہ صرف ایک دوسرے کو گالی دیتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کا خون بہانا بھی  کارِ مقدس سمجھتے ہیں ۔

اب میرے آبائی وطن پاکستان کو ہی لیجیے  کہ وہاں پر بسنے والے لوگ  مُختلف نظریات کے جبر کی بنا پر قتل و غارت گری کے عادی ہو چُکے ہیں ۔ وہاں  ایسے لوگ ایک طاقت ور گروہ کی صورت میں اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں ، جو " قتال فی سبیل اللہ "  کو لازمی قرار دیتے رہتے ہیں اور اپنی تحریروں اور تقریروں میں اُس  نظریے کا اعادہ کرتے رہتے ہیں ۔  ان خیالات اور نظریات کی بنا پر  بعض مذہبی  گروہوں نے قتل کو ایک مقدس ریاضت تسلیم کر لیا ہے۔  انتہا یہ ہے قتل کے بعد قاتل کی قدرو منزلت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور مرنے کے بعد اُس کا مزار مرجع ء خلائق بنادیا جاتا ہے ۔

اس قسم کے قتل بالمعموم  نظریاتی اور سیاسی ہوتے ہیں  جس کی پشت پناہی عالمی سامراجی قوتیں اور اُن کے مقامی ایجنٹ کرتے ہیں ۔ پراپیگنڈے کا عالمی ادارہ ایسی تبلیغی فضا استوار کرکے پروان چڑھاتا ہے کہ  مذہبی جنونی آپ ہی آپ اس جال میں آ پھنستے ہیں ، جب کہ کچھ کرائے کے قاتلوں کی طرح اس پیشے کو اختیار کرتے ہیں ۔ عالمی سامراجی طاقتیں ان مکروہ تعلیمات کا کچھ اس طرح پرچار کرتی ہیں جس سے مذہبی جنونیوں کا استحصال سہل اور آسان بن جاتا ہے ۔ اس صورت حال میں لوگوں کی عقیدتوں اور عقیدوں سے فائدہ اُٹھانے کو جذباتی استحصال کا نام دیا جاتا ہے جس کو انگریزی بولنے والا طبقہ ایموشنل بلیک میلنگ کہتا ہے ۔ چنانچہ افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے جس کا شکار ہم رہے ہیں  اور تا دمِ تحریر ہیں ۔ مفادات کی  کسی بھی جنگ کو جہاد کہہ کر سادہ لوح مسلمانوں کا جذباتی استحصال اب فیشن بن گیا ہے ۔  مگر جن استحصالی ایجنٹوں نے اس خونریزی پر مال کمایا تھا،  وہ ابھی تک اس سامراجی جنگ کی چیونٹی کو جہاد کا ہاتھی بناتے نہیں تھکتے۔

سچ تو یہ ہے کہ آسمانی صحفیوں کے عمیق اور متشابہ تصورات کو عام لوگوں کی  جذباتی بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا بہت  بڑا گھناؤنا جرم بلکہ گناہِ کبیرہ ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے  کہ  کسی عام آدمی پر جو تزکیہء نفس کے مراحل طے کرکے متقی نہیں بن پایا، کسی ایسے ثقیل اور مشکل فلسفے کا بوجھ ڈالنا بجائے خود جہالت ہے ۔  اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہمارے صوفی شاعر اور سیف الملوک کے مصنف میں محمد بخش  علیہ رحمت نے اپنی کتاب میں اس طرح بیان کیا ہے :
خاصان دی گل عاموں اگے تے نہیں مناسب کرنی
مٹھی کھیر پکا محمد کُتیاں اگے دھرنی

اس مضمون کا ماخذ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک حکمت پارہ ہے ، جس میں اُنہوں نے فرمایاتھا :
" پاک غذا کُتوں کو نہ دو اور اپنے موتی خنزیروں کے آگے نہ ڈالو ، مبادا کہ وہ ان موتیوں کو پاؤں تلے روند کر پلٹیں اور تم پر حملہ آور ہوں ۔ "

اور کچھ ایسا ہی ہماری قوم کے ساتھ ہؤا کہ وہ سارے جنگ باز جنہیں جہاد کے مقدس نام پر بے سمجھوں کی صفوں سے ریکروٹ کیا گیا ، اب  طرح طرح کے سلطانہ ڈاکو قسسم کے گروہوں میں  منظم ہیں جو ملکی سالمیت اور معاشرتی امن کے لیے سنگین چیلنج بنے ہوئے ہیں ۔  ابھی حال ہی میں امریکہ نے کچھ مشہور جہادی تنظیموں کی ضمنیوں اور ذیلی شاخوں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ جی ہاں ، یہ سامراجی طاقتیں پہلے اپنی ضرورت کے مطابق دہشت گرد بناتی ہیں  اور جب تک وہ عالمی سامراج کی چاکری کرتے ہیں، تب  تک وہ نیک نام ہوتے  ہیں اور جب وہ یو ٹرن لے کر اپنی باگ ڈور خود سنبھال کر مافیا کا رول ادا کرتے ہیں تو دہشت گرد قرار پاتے ہیں ۔ کتنا گھناؤنا ہے یہ انسانی جنگی کمپلیکس جس نے غربت کی چکی میں پستے لوگوں کی زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے ۔ اور کیا ہوتا ہے جہنم ؟

اس خطرناک بارودی او ردھماکہ خیز فضا میں پلنے والی پاکستان کی نئی نسل اب اُسی ذہنی عذاب میں مبتلا ہے جس سے غزہ کی پٹی اور دریائے اردن کے کنارے آگ اور خون کے دریا سے گزرنے والی  فلسطینی قوم کی اولاد۔ آخر اس کا مداوا کیا ہے ؟

کوئی نہیں جانتا، سعودی فرمانروا اور عرب ریاستوں کے شیوخ بھی نہیں، عرب لیگ اور اسلامی کانفرنس بھی نہیں ۔ اور موتمر عالم اسلامی تو کب کی وفات پا چکی ہے۔ اب مسلمانوں کی نئی نسل کو کون تسلی دے کہ اُن کے پاس ایٹمی بلا ہے جو انہیں محفوظ رکھ سکے گی  ۔ کون بتائے گا ؟ زرداری ، نواز شریف ، عمران خان یا شیخ رشید؟