آسمان کی سیکولر بادشاہت

مجھے کے آئی اے کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں  لکھا ہے کہ بہت سے عیسائی خاندان مشرقِ وسطیٰ سے اس لیے ہجرت کر رہے ہیں کہ وہاں اُن کا جینا دوبھر کر دیا گیا ہے ۔ ایک تصویر میں ایک جلا ہوا گرجا گھر دکھایا گیا ہے ۔ ان مہاجرین میں سے کچھ ناروے بھی آئے ہیں جن کی آباد کاری کا  کام جاری ہے ۔  کے آئی اے ایک تنظیم کا نام ہے جس کا نارویجن نام کچھ یوں ہے :
Krsiten Interkulturelt Arbeid

مجھے یہ خط پڑھ کر ستر برس قبل کے وہ حالات یاد آ گئے جب مسلمان  مہاجرین ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے اور پاکستان سے ہندو سکھ سرحد کے اُس پار پھینکے گئے ۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کی ندی  ان ہجرتوں سے  لبا لب ہے ۔ ہر شخص کے پاس اپنی ہجرت کی ایک کہانی ہے ۔ جب عورت میکے سے سسرال ہجرت کرتی ہے تو اُس کی بھی ایک کہانی ہے اور جب کوئی سرمایہ دار ، کوئی سیاسی لیڈر یا کوئی منی لانڈرر دوبئی یا لندن کی طرف ہجرت کرتا ہے تو وہ بھی اسی نوعیت کی کہانیاں ہیں ۔ اور میری اپنی بھی ایک کہانی ہے:
نہ کوئی ملک نہ فرقہ نہ کوئی قومیت
مجھ مسافر کی زمیں قریہء رُسوائی ہے

لیکن اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تم کہاں رہتے ہو تو میں جواب دیتا ہوں کہ میں اپنے آپ میں رہتا ہوں ۔ میرا گھر میرا خاکی پنجرہ ہے جو ایک پاکیزہ اور پوتر معبد نما عمارت ہے  جسے  خُدا نے خود تعمیر کیا تھا ۔ قرآن میں یہ گواہی رقم ہے کہ اللہ رحمِ مادر میں ہر بچے کی تصویر اپنی مرضی کے مطابق بناتا ہے ۔ ہر بچّے کی تصویر خواہ وہ فلسطینی ہو ، یہودی ہو ، ہندو ہو ، بدھ ہو ، سکھ ہو ، عیسائی ہو یا مسلمان ،  رب کے کینوس کی تصویر ہے ۔  میرا رب شب و روز یہ مصوری کرتا ہے ۔ وہ ہر روز  ہمہ وقت کام میں مصروف رہتا ہے ۔ میں خُدا کی بنائی مورتیں گن نہیں پاتا لیکن  شماریات کے  اداروں سے یہ ضرور پوچھ سکتا ہوں کہ بھیڑ کی اون کے بال کتنے ہیں ؟ آسمان پر ستاروں کی کل تعداد کیا ہے ؟ پاکستان میں دہشت گردوں کے اعداد و شمار کیا ہیں؟ اوبامہ کے ہر فوجی کے پاس کتنی پتلونیں ہیں؟ پاکستان کے سرکاری خزانے میں کتنے ارب ڈالر ہیں جو منی لانڈرنگ کے کام آتے ہیں؟ پاکستان میں کتنے عقل کے اندھے ہیں جو غیرت کے نام پر قتل کو اپنا ایمان سمجھتے ہیں؟  کتنے ہیجڑے ہیں جن کو  سیاستدان ہونے کے وہم کی بیماری ہے؟ شیخ رشید جیسے کتنے نجومی ہیں جن کی کوئی بھی پیشین گوئی پوری نہیں ہوتی ۔عراق میں ہر سال کتنی بار کربلا ہوتی ہے اور شام میں کتنے کوفے ہیں ؟

اب اگر میں اقوامِ متحدہ سے دنیا کی کل آبادی کے اعداد وشمار مانگوں تو وہ یقیناً غلط ہوں گے کیونکہ پاکستان میں تو کئی برس سے مردم شماری ہی نہیں ہوئی اور کسی کو پاکستانی آبادی شمار کیے بغیر دنیا کی  کل آبادی کا پتہ کیسے چل سکتا ہے ۔ اور اُن سب پاکستانیوں میں دکھی کتنے ہیں اور سکھی کتنے ہیں ۔ لندن میں علاج کروانے والے کتنے ہیں اور پاکستان میں ہسپتالوں کے باہر سڑکوں پر مرنے والے کتنے ۔ اور سب سے بڑی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بیوقوفوں اور عقل مندوں  کے صحیح تناسب کا اندازہ کسی کو نہیں ہے ۔  اس لیے مردم شماری کے فارم میں عقل مندی اور بیوقوفی کا خانہ ضرور ہونا چاہیے جس سے یہ ظاہر ہو کہ بچہ نسلاً سیاستدان ہے یا  اتفاقاً ۔ یہاں اتفاقاً کو کسی لوہے کے اتفاق سے جوڑنے کی ضرورت نہیں ۔

بدقسمی نہ مشرق سے مخصوص ہے نہ مغرب سے ۔ امریکیوں کے پاس دولت کی ریل پیل ہے مگر راتوں کو وہ نیند خرید کر سوتے ہیں ۔ اخبارات اور میڈیا چیخ چیخ کر بے خوابی کی دہاڑیں  مارتا ہے ۔  اُنہیں کھا کھا کر موٹاپے کا روگ لگ جائے تو بھی روتے ہیں ۔ یہودیوں کو یہ بیماری لاحق ہے کہ وہ نسلی برتری کے زعم میں مبتلا ہیں اور اب  وہ ہولو کوسٹ برپا کرکے  دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہٹلر نے کیا کیا تھا۔  اس کے لیے اُن کا  تجرباتی خرگوش شام ہے ۔

میں اس سلسلے میں خُدا سے دو دو باتیں کرنا چاہتا ہوں ۔ رب سے پوچھنا یہ ہے کہ  اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے کے بعد باقی سب پرانے  مذاہب کے دروازے بند کیوں نہیں کیے؟  سب سے مکمل ، جدید، عظیم اور جامع مذہب اتارنے کے بعد ان پرانے مذہبوں کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے ؟
یا رب العالمین ! آپ نے تو زمین پر کارنیوال برپا کر رکھا ہے ۔ تھیٹر بنایا ہوا ہے ۔ یہ کالے ، گورے ، چپٹے اور زرد سب آپ کی بنائی تصویریں ہیں ۔ آپ چاہتے تو سب نسلوں کو ایک کر سکتے تھے ۔ ہم سب یہودی ہوتے یا  پھر سب سعودی ہوتے ۔ لیکن شاید فطرت ورائٹی شو  ہے ۔ رنگ برنگے ماسک اور کاسٹیومز ۔  نسلیں اور کھالیں ۔ یہ سب ایک پلورل معاشرت کا آرکی ٹیکچر ہے جو امن و امان سے مل کر رہنے کی بشارت دیتا ہے ۔

وہ تمام مذاہب اور عقائد کا سرچشمہ ہے ۔ یہ سارے مذاہب خُدا کے لگائے درخت ہیں جن کے پھل ذائقے اور تاثیر میں مختلف ہیں لیکن وہ سب کا والی اور مالی ہے ۔ اُس کی بادشاہی سیکولر ہے جس میں ہر شخص کو اپنی سوچ اور سمجھ بوجھ کے مطابق جینے کا حق ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو خُدا سارے مذاہب کو خود ہی مٹا دیتا  اور پھر نہ کوئی برہمن ہوتا ، نہ ملا ، نہ پادری ، نہ پروہت اور نہ ہی ربّی ۔ ایسی خوبصورت زندگی  ہوتی تو اس میں کوئی ایسا خط نہ لکھا جاتا جس میں  گرجوں ، مسجدوں اور مندروں کی پامالی کا رونا  رویا جاتا ۔ مگر یہ سب اس لیے کہ ابھی ہم نے مردم شماری کے فارم میں عقل مند اور بیوقوف کے کوائف درج نہیں کیے جو اصل میں انسان اور شیطان کے کوائف ہیں ۔
کسی بھی گستاخی کے لیے معذرت !