قرار داِ دِ لاہور کے ستتر برس بعد

یہ ستتر سال پہلے کا وہ قصّہ ہے جو نئی نسل کو تو کیا ، اس عہد کے بیشتر سیاسی خُداؤں پر بھی پوری طرح آشکار نہیں ۔ میرے جیسے لوگ جو عمر میں پاکستان سے بھی دو چاربرس بڑے ہیں ، محض سنی سنائی اور رپورٹ کی ہوئی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ماقبلِ تقسیمِ ہند کی مخلوط مذہبی سوسائٹی میں  جس کسی کے ماں باپ ، محلے کے مولوی ، میونسپل کمیٹی کے  داروغہ  نے کہہ دیا یا مولوی ظفر علی خان کے اخبار نے لکھ دیا وہ مسلمان سچ تھا اور جو کچھ  کسی دوسری سیاسی یا مذہبی جماعت کی طرف سے آیا ہو وہ نا قابلِ قبول اور مبنی بر دروغ  قرار پایا ۔ روایتی معاشروں کی یہی ریت رہی ہے اور اب بھی ہے کہ مخالفین کو مت سنو خواہ وہ عقل کی بات ہی کیوں نہ کہ رہے ہوں کیونکہ سچ ہر زمانے میں اپنا اپنا رہا ہے اور آج بھی ہے ۔

تقسیم سے قبل کی معاشرت میں جن مذہبی جماعتوں کا طوطی بولتا تھا ، اُن میں مجلسِ احرار سرِ فہرست تھی ، جس کے سب سے بڑے مقرر اور واعظ جناب عطا اللہ شاہ بُخاری تھے۔ اُن کا ایک وقعہ آغا شورش کاشمیری نے اپنے ہفتگی " چٹان" میں نقل کیا تھا :
 "مولانا عطا اللہ شاہ بُخاری گورنمٹ انڈیا ایکٹ مجریہ 1935 کے خلاف تقریر کر رہے تھے ۔ مجمع میں سے کسی نے پوچھا کہ مولانا ! آپ نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ پڑھا بھی ہے تو مولا نے تُرت جواب دیا کہ نہ پڑھا ہے نہ پڑھوں گا ، جو چیز ہمارے خلاف ہے وہ کیوں پڑھی جائے" ۔
یہ ہمارا رویہ آج بھی ہے ۔ سلمان رشدی کی کتاب شیطانی کلمات کے خلاف ایک مولانا اوسلو میں تقریر فرما رہے تھے تو میں نے استفسار کیا تو کہ آپ نے کتاب پڑھی ہے تو وہ بولے جب دنیا کہہ رہی ہے کہ وہ توہین آمیز ہے تو یقیناً ہوگی۔ ایسے موقع پر شاعری یاد آتی ہے :
شیر مردوں سے ہوا بیشہ ء تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و مُلا کے غلام اے ساقی

ذہنی غلامی ، غلامی کی بد ترین شکل ہے جو ذہنوں کو کند اور زندگی کے چہرے کو مسخ کر دیتی ہے ۔ لیکن جو کچھ کسی قوم پر بیتتی ہے اور پچھلی نسلیں جو کچھ نئی نسل کو ورثے میں دے جاتی ہیں اُس سے مفراور انکار ممکن نہیں ۔ پاکستان ہمیں ورثے میں ملا ۔ ہم نے خود تو نہیں بنایا البتہ اس کو بگاڑنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے ۔
کتابوں کی ورق گردانی کرو تو  23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں وہ جلسہ منعقد ہے جس کی صدارت ہم سب کے قائدِ اعظم کر رہے ہیں اور بنگال کے چیف منسٹر مولوی فضل حق جنہیں شیرِ بنگال بھی کہا جاتا ہے ، قرارداد پیش کرتے ہیں کہ :
" کوئی بھی ایسا آئینی منصوبہ اس ملک میں مسلمانوں کو اُس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہوگا  جب تک جغرافیائی اکائیوں کی حد بندی نہ کی جائے اورایسی ضروری تبدیلیاں نہ کی جائیں  جن کے تحت مسلم اکثریتی علاقوں میں، جیسا کہ شمال مغرب اور مشرقی علاقوں میں ہے ، آزاد اور خود مختارریاستیں قائم کی جائیں جو موثر ہوں اور جن میں اقلیتوں  کا اپنا مینڈیٹ ہو اور انہیں ہر اعتبار سے آئینی تحفظ حاصل ہو،  جس کے تحت وہ اپنے مذہب ، ثقافت ، اقتصاد ، اور سیاست کے مساوی حقوق سے بہرہ مند ہوں۔ "

اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا اور پھر قائداعظم نے اپنے صدارتی خُطبے میں فرمایا :
" جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے ، مسلمان اقلیت میں  نہیں ہیں غلط ہے ۔ اگرآج کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو برطانوی ہند کے موجودہ نقشے کے مطابق 11 صوبوں میں سے چار میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور وہ کانگرس کے فیصلوں کے پابند ہوکر سول نافرمانی اور عدم تعاون میں شریک نہیں ہیں ۔ مسلمان یہاں  قوم کی کسی بھی تعریف پر پورا اترتے ہیں ۔ اس لیے ان کی اپنی ریاست ، اپنی جغرافیائی حدود اور علاقہ ہونا چاہیے ۔ ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ اپنی روحانی ، ثقافتی، اقتصادی ، سماجی  اور سیاسی کارکردگی کو فروغ دے کر  بہتر طرزِ زندگی اختیار کریں جو لوگوں کی اپنی خواہشات اور اُن کی اُمنگوں کا ترجمان ہو ۔ "

قائد اعظم کے یہ ارشادات مسلمانوں کے لیے ایک تبدیلی کا موڑ ثابت ہوئے اور پاکستان بن گیا مگر ۔۔ مسلمان من حیث القوم پہلے دو حصوں میں بٹے اور پھر تین  گروہ ہو گئے ۔ تقسیم کے بعد  نصف کے قریب مسلمان ہندوستان میں رہ گئے  اور پھر پچیس سال بعد وہ گروہ جس  کے چیف منسٹرنے قراردادِ لاہور پیش کی ، قافلے سےبچھڑ گیا  ۔ پاکستان برِ کوچک کے نقشے میں  ایک آنکھ سے تین تین نظر آنے لگے ۔   قائد اعظم کی جیب کے کھوٹے سکے اُس کے بنائے ہوئے پاکستان کی حفاظت نہ کر سکے ، اور ملک ٹوٹ گیا ۔ اس کے ٹوٹنے کی جتنی ذمہ داری بھارت پر  ڈالی جا رہی ہے اس سے زیادہ پاکستان کے سیاسی طالع آزماؤں پر ہے ، جو ملک کی بقا سے زیادہ اپنے اللوں تللوں میں دل چسپی رکھتے تھے اور رکھتے ہیں۔

خاکم بدہن ، موجودہ پاکستان قراردادِ لاہور کا حاصل نہیں بلکہ پاکستان کی نالائق سیاسی قیادتوں کا  بگاڑا ہوا آوا ہے جہاں دہشت گردی کے راشن ڈپو ہیں ، کرپشن کے کارخانے ہیں اور  بیڈگورننس کا نظام رائج ہے ۔
 کہاں ہے عام آدمی کا پاکستان ۔۔۔۔